BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھر منصوبہ: لوگوں کےخدشات

تھر کا علاقہ
حکومت کا خیال ہے کہ اس پراجیکٹ سے ملکی معیشت مستحکم ہوگی
پاکستان کے جنوبی علاقے صحرائے تھر میں کوئلے سے بجلی بنانے والے پروجیکٹ پر تیزی سے کام جاری ہے- سندھ کے علاقے تھر میں اس مقصد کے لئے چینی کمپنی شہنوا گروپ کو پچاس مربع کلومیٹر زمین فراہم کی گئی ہے-

کمپنی اوپن پٹ کان کے ذریعے کوئلہ نکالے گی جو بجلی گھر میں استعمال ہوگا- پہلے مرحلے میں بجلی گھر تین سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا- بعد میں اس کی پیداواری گنجائش چھ سو میگاواٹ کردی جائےگی-

پاکستان جیولوجیکل سروے کے مطابق سندھ میں سات ہزار ملین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں- جن میں سے 175 بلین ٹن اعلی قسم کا کوئلہ صرف تھر میں موجود ہے-

ستر کی دہائی میں دریافت ہونے والے اس کوئلے سے بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں تھر میں بجلی گھر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا- مگر بعد میں پاور پلانٹ کراچی کے قریب کیٹی بندر کے ساحلی علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا-

بینظیر حکومت کے خاتمے کے بعد اس پروجیکٹ کو بھی سرکاری طور پر ختم کردیا گیا- اور نواز شریف حکومت نے ہانگ کانگ کی کمپنی گورڈن وو کو کئی بلین روپے ہرجانہ ادا کیا-

جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد تھر کول پروجیکٹ پھر زندہ ہوگیا- اور چین کی کمپنی شہنوا گروپ سے معاہدہ کیا گیا- جس کے مطابق کمپنی پچاس مربع کلومیٹر کے علاقے سے کوئلہ حاصل کرکے بجلی گھر قائم کرے گی-

معاہدے کے مطابق حکومت کمپنی سے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدے گی جبکہ کمپنی پروجیکٹ کی کل لاگت اور دس فی صد سود وصول کرنے کے بعد پاور پلانٹ حکومت پاکستان کے حوالے کرے گی-

کمپنی کے ترجمان عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق کمپنی پچیس برس میں اپنی رقم اور سود وصول کرلےگی- پاکستان حکومت صرف اگلے پانچ سال خود پلانٹ چلائے گی کیونکہ کوئلے پر چلنے والے اس پروجیکٹ کی عمر ہی تیس سال ہے-

کمپنی اگلے ایک ہفتے کے دوران ہائیڈرولاجیکل سروے مکمل کر لےگی- جس کے بعد جنوری میں کوئلے کی کھدائی شروع کی جائے گی- کمپنی کے ترجمان کے مطابق سال دو ہزار آٹھ سے پاور پلانٹ پیداوار دینا شروع کردے گا-

حکومت کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ سے پاکستان نہ صرف سستی بجلی حاصل کر سکے گا بلکہ تھر سے نکلنے والا کوئلہ سیمنٹ اور شگر (کھانڈ ) انڈسٹری میں متبادل ایندھن کے طور پر بھی استعمال ہو سکے گا- جس سے پاکستان کو چھیاسٹھ بلین روپے کی بچت ہو سکے گی جو وہ خام تیل کی درآمد پر ہر سال خرچ کرتا ہے-

حکومت کا خیال ہے کہ اس پراجیکٹ سے ملکی معیشت مستحکم ہوگی- مگر کیا اس پراجیکٹ سے تھر کےغریب عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا جو ہر تیسرے چوتھے سال قحط کا شکار ہوتے ہیں؟

برسہا برس سے تھر کی سماجی ترقی کے لئے کام کرنے والے سرگرم کارکن سکیلدھو راہموں کا کہنا ہے کہ میگا پراجیکٹس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ غریبوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکے - مگر بدقسمتی یہ ہے کہ یہ پراجیکٹس پیداوار میں اضافے کی صلاحیت کے باوجود علاقے کے لوگوں کو کچھ دینے میں ناکام رہے ہیں-

ان پراجیکٹس میں بالائی سطح پر معیشت کے اثرات پر تو توجہ دی جاتی ہے مگر نچلی سطح پر کیا اثرات مرتب ہونگے ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے- تھر کول پروجیکٹ کے بارے میں بھی لوگوں کے کچھ ایسے ہی خدشات ہیں-

ان کا کہنا ہے کہ اس صحرائی علاقے کے لوگوں کے پاس کوئلے کے ذخائر واحد اور آخری ذریعہ ہیں جو ان کی ترقی کا باعث بن سکتے ہیں اور زندگی بدل سکتے ہیں- تاہم ابھی تک اسکے کوئی آثار نظر نہیں آر ہے-

کان کی کھدائی میں باقی صرف سات ماہ باقی ہیں- مگر ابھی تک چونتیس ہزار سے زائد افراد کی نقل مکانی- اور مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے کسی تربیت کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے-

نقل مکانی کی زد میں آنے والے گاؤں تھاریو ہالے پوٹو - جینئدو درس اور ارباب جی ڈھانی کے لوگ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں- جیئندو درس کے باسی بھگت وانکو مل کا کہنا ہے کہ یہ ہماری دھرتی ہے- اس سے ہمارا معاشی ہی نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی رشتہ بھی ہے- جس کو توڑ کر ہم نہیں جا سکتے-

قحط بھی پڑتے ہیں تب بھی تھر کے لوگ اپنی دھرتی نہیں چھوڑتے- ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہم کھیتی باڑی اور گلہ بانی پر گذارہ کرتے ہیں- یہاں ہمارے گھر بھی ہیں- مفت پانی کے کنویں اور مویشی چرانے کے لئے جنگل ہیں- یہاں سے کہیں اگر جائیں گے تو دربدر ہو جائیں گے -

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک حکومت نے زمینوں کے معاوضے- متبادل رہائش اور روزگار کا بندوبست بھی نہیں کیا ہے- تھر کے سماجی ورکر کھاٹائو جانی کا کہنا ہے کہ جس زمین پر چینیوں کا کیمپ ہے وہ زمین ایک بیوہ عورت کی ہے- جس کو ابھی تک معاوضہ نہیں دیا گیا- کیمپوں تک بجلی اور پانی پہنچایا جا رہا ہے مگر مقامی لوگ اس سے محروم ہیں-

سندھ کے وزیر معدنیات عثمان ملکانی کا کہنا ہے کہ اس میگا پراجیکٹ سے نہ صرف ملکی بلکہ مقامی سطح پر بھی فائدہ ہوگا- مقامی لوگوں کو زمینوں کا معاوضہ اور ملازمتوں میں حصہ دیا جائیگا- تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ صوبے کی رائلٹی کا معاملہ طے ہونا ابھی باقی ہے-

ماہرین کا کہنا ہے کہ تین سو میگاواٹ بجلی گھر کے لئے روزانہ چھ سو کیوسک پانی درکار ہوگا- اس مقصد کے لئے بیس سے زائد ہیوی ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں جو چارسو سے سات سو فٹ گہرائی سے بارہ گھنٹے پانی نکالتے ہیں- جس سے زیر زمین پانی کی سطح میں کمی واقع ہو رہی ہے-

اس کمی کے اثرات درختوں اور علاقے کی زمین خشک ہونے کے ساتھ علاقے میں پانی کے حصول کے واحد ذریعے کنوؤں پر بھی پڑ رہے ہیں- جو کہ مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے سوکھ جائیں گے- اور بارانی علاقے کے لوگوں کا مستقبل بھی سوکھ جائےگا-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد