پیپلزپارٹی: تھر انتخابات کابائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے سات اکتوبر کو تھرپارکر میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی پی پی سندھ کے صدر قائم علی شاہ کا کہنا ہے کے یہ فیصلہ حکومت کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی نوٹس نہ لینے کے خلاف کیا گیا ہے۔ این اے 279 کی نششت وزیراعظم شوکت عزیز نے خالی کی ہے۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی تھی کہ پی پی پی کا ایک وفد ان سے ملنا چاہتا ہے تاکہ انہیں تھرپارکر میں انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی دھاندلی کے متعلق آگاہ کیا جائے۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر نے پی پی پی کے وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر پارلیمینٹیرینز اور پارٹی لیڈران سے دھاندلی کے بارے میں شکایات نہیں سن سکتے تو پھر تھرپارکر کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 اگست کو ہونے والے انتخابات میں بھی چیف الیکشن کمشنر کو دھاندلی کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا مگر انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس کے بعد پی پی پی کو ایک وائٹ پیپر جاری کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تھرپارکی کی ووٹرز لسٹ میں سے پی پی پی کے گیارہ ہزار ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد ضمنی انتخابات کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ امکان ہے کہ پی پی پی کے امیدوار مہیش ملانی کل اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||