غریب مینار سے کود گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نجاب میں ایک سرکاری ملازم نے مالی تنگی اور دیگر پریشانیوں نے دلبرداشتہ ہوکربلندوبالا ،مینار پاکستان سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ چالیس سالہ محمد موسیٰ حکومت پنجاب کے سیکرٹریٹ میں بطور جونئیر کلرک ملازم تھے اور پانچ بچوں کے والد تھے وہ اپنے بچوں کے ہمراہ سیکرٹریٹ کے عقب میں واقع ایک کواٹر میں رہائش پذیر تھے آج شام انہوں نے مینار پاکستان سے چھلانگ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تو پولیس نے ان کی لاش مینار پاکستان کے گرد پھول کی شکل میں بنے پیالے سے برآمد کی۔ پولیس کے مطابق ان کی جیب سے دو چیک برآمد ہوئے جن کی مجموعی مالیت دو سو روپےتھی اس کے علاوہ ان کی جیب سے ایک سرکاری حکم نامہ بھی برآمد ہوا جس کے مطابق ان کا تبادلہ چند روز قبل وزیر اعلی پنجاب کے سیکرٹریٹ میں ہوچکا تھا۔ پولیس نے ان کی لاش ان کی بیوہ کے حوالے کردی ہے۔مقامی پولیس کے مطابق انہوں نے مالی تنگی سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ ان کے ورثا نے بتایا کہ وہ قرض خواہوں کے تقاضوں سے بھی پریشان رہتے تھے۔ مینار پاکستان لاہور میں اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں تئیس مارچ انیس سو چالیس کو ہندوستان کے مسلمانوں نے الگ ملک کے قیام کےلیے ایک قرار داد منظور کی تھی اور جسے قرار داد پاکستان کا نام دیا گیا تھا۔ پاکستان میں غربت کے باعث خودکشی کی شرح میں گذشتہ چند سالوں سے کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہر سال چند افراد پاکستان کی آزادی کی علامت اس مینار پاکستان سے بھی کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||