زخمیوں کو کراچی لانے کا منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر اور شمالی علاقوں میں زلزلے سے شدید زخمی ہونے والے متاثرین کو کراچی لانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ انتظام ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا ہے۔ پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شیر شاہ نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ ساٹھ مریض کراچی لائے جائینگے۔ جن میں سے پہلا طیارہ بدھ کے روز کراچی پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں نجی ہسپتالوں کی جانب سے ان کو تین سو بیڈ دیئے گئے ہیں ۔ ان مریضوں کا علاج مکمل طور پر ان ہسپتالوں کی ذمہ داری ہوگی جبکہ ٹھیک ہونے کے بعد ان کو کرایہ دیکر واپس روانہ کیا جائیگا۔ ڈاکٹر شیر شاھ نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق پینسٹھ ہزار لوگ زخمی ہیں جن میں سے دس سے پندرہ ہزار شدید زخمی ہیں۔ ’اگر ان علاقوں میں بیس آپریشن تھیٹر ہوں اور روزانہ چوبیس گھنٹے بھی آپریشن کئے جائیں تو بھی دو مہینے لگ سکتے ہیں۔ اس لئے ایسے مریضوں کا یہاں لایا جارہا ہے۔‘ ڈاکٹرں کے رہنماوں نے بتایا کہ کافی آپریشن غلط بھی کیے گئے ہیں اس لیے ان کو پھر سے کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ایم اے کے مطابق زلزلے والے علاقے اب کوڑے کا ڈھیڑ بن گئے ہیں ۔جہاں پانی کی بوتلیں، جوس کے استعمال شدہ ڈبے دیگر سامان پھینکا گیا ہے۔ جس وجہ سے وہاں ماحولیاتی بحران پیدا ہوسکتا ہے اس لیے اس کوڑے کو ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹرں کی تنظیم نے کراچی کے قدیمی علاقوں میں بلند عمارات بنانے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ عمارتوں کا نہیں انسانی جانوں کا مسئلے ہے۔ ڈاکٹر شیر شاھ نے بتایا کہ کراچی، لاہور، حیدرآباد، فیصل آباد، سیالکوٹ میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں عمارتیں بغیر کسی قاعدے قانون کے کھڑی کی گئیں ہیں اور ہلکے سے زلزلے سے بے شمار اموات کا خدشہ ہے۔ | اسی بارے میں ’مظفر آباد میں 8 لاکھ افراد بےگھر‘23 October, 2005 | پاکستان ’امریکہ 25 اور ہیلی کاپٹر بھیجے گا‘23 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان برفباری بہت قریب، امداد اب بھی بہت دُور25 October, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے لیٹرین کا عطیہ24 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||