’خیمے فوج کی سفارش پر دستیاب‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نثار شاہ مظفر آباد کے قریب واقع متاثرہ علاقے راولا کوٹ کے ایک سماجی رہنما ہیں اور گزشتہ روز ایک اور متاثرہ علاقے باغ اور اس کے مضافات کا دورہ کرکے واپس آئے ہیں۔ نثار شاہ کا کہنا ہے کہ باغ سے پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سدھن گلی کے علاقے میں صورت حال بہت خراب ہے۔ ’وہاں کے لوگوں سے ہماری جو گفتگو ہوئی، خاص طور پر بھیر پائی کے جو لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ انہیں ابھی تک جو خیمے ملے ہیں وہ بہت کم تعداد میں ہیں اور لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔‘ ’وہاں لوگوں کے بچے بیمار ہیں اور ان تک امداد بھی صحیح طور پر نہیں پہنچ رہی۔ جبکہ وہاں بڑی تعداد میں ملٹری کے کیمپ بھی لگے ہوئے ہیں۔‘ ’لیکن لوگوں نے شکایت کی ہے کہ آرمی کا سامان مخصوص لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ امدادی سامان ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کی سفارش پر مہیا کیا جاتا ہے۔‘ نثار شاہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو وہاں تعینات فوجی افسران کے رویے کے بارے میں بھی سخت شکایات ہیں۔ ’لوگوں نے یہاں تک کہا کہ انہوں نے کچھ فوجی افسران سے یہ شکایت کی تھی کہ وہ مخصوص لوگوں کو خیمے دے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں شکایت کرنے والے دو نوجوانوں کو فوجی کیمپ لے جایا گیا اور سزا کے طور پر پورا دن انہیں وہیں رکھا گیا۔ بعد میں گاؤں والوں کی طرف سے مزاحمت پر ان نوجوانوں کو گھر واپش جانے دیا گیا۔ | اسی بارے میں بٹگرام: الائی میں سردی اور پتھر لگنے سے ہلاکتیں25 October, 2005 | پاکستان بٹگرام: ’وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان ہمیں امداد چاہیے، جہاں سے بھی آئے24 October, 2005 | پاکستان زلزلے سے رضائیاں بھی مہنگی24 October, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھر، صرف 30 ہزار خمیے24 October, 2005 | پاکستان ’غریب امدادی سامان سے محروم‘25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||