BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 October, 2005, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاغان میں بے شمار دیہات تباہ
کاغان
کاغان میں فوجی مریضوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے طبی مدد کے لیے لے جایا جا رہا ہے
پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر کے دونوں اطراف آنےوالے زلزلے سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی ہی ہے اور اب آہستہ آہستہ اس تباہی کی وسعت کا بھی اندازہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان لکھتے ہیں کہ وادی کاغان کا علاقہ اس لحاظ سے زیادہ بدنصیب ہے کہ یہاں تباہی تو دوسرے علاقوں جیسی ہی ہوئی ہے، بے شمار گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے، بے شمار جانیں ضائع ہوئیں، ہزاروں لوگ زخمی ہوئے لیکن امدادی کارروائیاں بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

شروع میں انتظامیہ اور امدادی کارکنوں کی توجہ مظفر آباد، بالاکوٹ اور ان دوسرے شہروں تک محدود رہی جہاں تک رسائی ممکن تھی۔ لیکن لینڈ سلائیڈز، سڑکیں ٹوٹنے اور کاغان کے راستے بند ہونے کی وجہ سے نہ کوئی ادھر گیا اور نہ ہی توجہ ادھر مرکوز ہوئی۔

نامہ نگار کے مطابق وہاں جانے کا اب صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے ہیلی کاپٹر۔ وہاں پر دن بھر میں دو یا تین ہیلی کاپٹر آتے ہیں اور امدادی سامان اور دوائیاں دے جاتے ہیں۔

وہاں کے رہائشیوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا انہیں صرف بسکٹ اور فرسٹ ایڈ کی ضروری دوائیں دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہیں۔

لوگوں نے بتایا کہ وہاں شدید سردی شروع ہو چکی ہے لیکن لوگوں کے پاس نہ گھر ہیں نہ خیمے۔ بچے، عورتیں اور بیمار سبھی کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ ابھی کل (منگل) رات ہی وہاں بارش ہوئی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق کنول، بھیا گلی، باڑی، پھنیا، کمال بام، اور پارس کے علاقے زلزلے سے شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں اور کئی جگہ گاؤں کے گاؤں ملیامیٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہاں جانے والی واحد سڑک کا بیس فیصد حصہ ٹوٹ چکا ہے، جگہ جگہ لینڈ سلائیڈ ہے اور بعض جگہ سے تو سڑک ٹوٹ کر ہزاروں فٹ گہری کھائی میں جا گری ہے۔

وہاں سے لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچانے والے ایک فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ سڑک کو ٹھیک کرنے میں ابھی کئی ہفتے لگیں گے۔ ہیلی کاپٹر ہی وہاں کے لوگوں کا واحد سہارا ہے اور جب فوجی سامان چھوڑنے جاتے ہیں تو ممکن حد تک مریضوں کو مانسہرہ کی خیمہ بستیوں میں لے آتے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق اس علاقے میں زخمیوں کی بہت بڑی تعداد دیکھ کر لگتا ہے کہ ان سب کو وقت پر طبی امداد کے لیے نہیں لے جایا جا سکے گا۔

66زلزلہ، مکمل کوریج
زلزلے میں کہاں کیا ہو رہا ہے
66دکھ میں شانہ بشانہ
بٹگرام میں ہرجیت سنگھ کا موبائل کلینک
66خیمہ، روزہ اور بچے
’بچوں کے لیے روزے میں کھانا نہیں‘
اسی بارے میں
پہاڑ گرے اور گاؤں غائب
20 October, 2005 | پاکستان
خیموں کی برآمد پر پابندی
18 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد