بچوں کے لیے روزے میں کھانا نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کے لیے اسلام آباد میں خیمہ بستی قائم کی گئی ہے جہاں شہر کی مختلف سرکاری عمارتوں میں عارضی طور پر ٹھہرائے جانے والے زلزلہ زدگان کو منتقل کیا جارہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے قائم کردہ اس کیمپ کا انتظام ’کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی‘ کے پاس ہے اور حکام کے مطابق پیر کی شام تک ایک ہزار کے قریب مرد، خواتین اور بچوں کو اس کیمپ میں منتقل کیا گیا۔ ایچ الیون سیکٹر میں افغان پناہ گزینوں کی کچی بستی کے قریب واقع خیمہ بستی بڑی سڑک کے کنارے ہے جہاں ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کی بھی سہولت موجود ہے۔ تاہم دکانیں اور ہوٹل وغیرہ کچھ دور ہیں۔ خیمہ بستی میں مظفرآباد سے آئی ہوئی ایک خاتون شمیم اختر نے بتایا کہ بجلی، پانی، استنجا خانے، سکول اور طبی کیمپ بھی خیموں میں قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن سکول اور طبی کیمپ نے ابھی کام شروع نہیں کیا۔
بستی کے وسط میں ایک سفید رنگ کی کنوپی یعنی بڑا تمبو لگا ہوا تھا اور اس کے باہر شیر خوار بچوں کو گود میں لیے کئی خواتین اور بچے تھے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ رمضان المبارک میں روزوں کی وجہ سے یہاں کھانا صرف سحری اور افطار کے وقت دیا جاتا ہے اور دن بھر بچوں کو بھوکا رہنا پڑتا ہے۔ کنوپی کے پاس بچوں کو کچھ جوس کے ڈبے دیے جارہے تھے اور کئی بچے اس کے منتظر تھے۔ امدادی کارکن جہاں خواتین کو جھڑک رہے تھے وہاں بچوں سے بھی قابل اعتراض لہجے میں بات کر رہے تھے۔ جب بچوں نے کہا کہ ’انکل یہ کچھ نہیں دیتے، صبح سے بھوکے ہیں‘۔ تو اس پر ’سی ڈی اے‘ کا عملہ برہم ہوگیا۔ البتہ اس دوران وہ دو درجن سے بھی زیادہ بچوں کے لیے چھ جوس کے ڈبے لائے اور کرختگی سے کہا ’لو اور بھاگو‘۔ قریب ہی ایک خیمے میں ایک لڑکی مطالعے میں محو تھیں۔ انہوں نے اپنا نام افشاں الیاس بتایا اور کہا کہ وہ میٹرک کی طالبہ ہیں اور فزکس کی کتاب پڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے امتحان ہونے والے تھے کہ زلزلہ آگیا اور اب پتہ نہیں کب ہوں گے۔
کیمپ کے شمال میں خواتین اور مردوں کے لیے علیحدہ علیحدہ استنجا خانے، وضو کرنے اور نہانے کے لیے ٹن کی چادروں سے ڈھکے ہوئے بیت الخلا اور غسل خانے بنے تھے۔ اس بستی میں ہری پگڑی والے مذہبی جماعت ’دعوت اسلامی‘ کے کارکن بھی نظر آئے اور ان کے کیمپ میں گدے، کمبل اور کھانے پینے کی اشیا پڑی تھیں۔ خیمہ بستی میں متاثرین کی آمد و رفت جاری تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ آئندہ چند روز میں یہاں سینکڑوں متاثرین بس جائیں گے۔ اسلام آباد کے خالی پڑے سرکاری فلیٹس میں جو لوگ رہائش پذیر تھے ان میں سے بھی بیشتر اس بستی میں منتقل کیے جاچکے ہیں۔ اسلام آباد کی خیمہ بستی میں متاثرین کو سہولتیں دینے کے بارے میں حکومتی اہلکاروں کا اطمینان اور رضاکاروں کی ذہنی تسکین اپنی جگہ لیکن بیسیوں معصوم بچے دن کے وقت کھانے کے لیے اب بھی ان کے منتظر رہتے ہیں۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: کون کتنی امداد دے رہا ہے؟24 October, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھر، صرف 30 ہزار خمیے24 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان ’خیمے فوج کی سفارش پر دستیاب‘25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||