راجہ رشید کُکلیوٹ، مظفرآباد کشیمر |  |
 | | | مظفرآباد کھنڈر بن چکا ہے: رشید |
(راجہ رشید پیشے کے لحاظ سے ایسوسی ایٹ انجینئر ہیں اور آج کل اُن کی تعیناتی سوات میں ہے، وہ زلزلے والے دن سوات میں ہی تھے۔ وہ اپنے ایک عزیر کے ساتھ راولپنڈی جنرل ہسپتال رہ رہے ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی جنرل ہسپتال میں ہمارے نمائندے محمد اشتیاق سے بات چیت کی۔) ’’آٹھ اکتوبر کو جب زلزلہ آیا تو میں سوات میں تھا، ہمیں ایک گھنٹے کے بعد یہ خبر مل گئی کہ مظفرآباد میں بہت تباہی ہوئی ہے۔ ہم نے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے گھر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن تمام رابطے کٹ چُکے تھے۔ میں اُسی وقت سوات سے مظفرآباد کے لیے روانہ ہوا، میں جب مانسہرہ پہنچا تو آگے تمام راستے بند تھے۔ پھر وہاں سے میں نے پیدل چلنا شروع کر دیا اور کوئی دس گیارہ گھنٹے لگے مجھے وہاں سے اپنے گاؤں تک پہنچنے میں۔ لیکن میں اکیلا نہیں تھا سینکڑوں لوگ اُس راستے پر چل رہے تھے۔ لیکن جب میں مظفرآباد پہنچا تو مجھے یوں لگا جیسے میں کوئی خوفناک فلم دیکھ رہا ہوں کیونکہ وہاں سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ جو بڑی بڑی عمارتیں تھیں سب گِر چُکی تھیں، شاید ہی کوئی عمارت ایسی ہو جو مکمل طور پر بچ گئی ہو۔ میرا تو پورا گاؤں ہی ٹوٹ گیا تھا۔ پورا مظفرآباد کھنڈر بن چُکا تھا۔ میرے خاندان کے بہت سے لوگ جن کو میں چھوڑ کر گیا تھا، وہ نہیں تھے۔میرے قریبی رشتہ داروں میں دو چچا ایک خالہ زاد بھائی اور ایک بھتیجی اس سانحہ میں شہید ہو گئے۔ اب میرا باقی خاندان مظفرآباد میں ہے اور میں اپنی ایک بھتیجی کے ساتھ ہسپتال میں ہوں، مجھے لگتا ہے کہ عید تک تو ہم یہاں ہسپتال میں رہیں گے۔ عید پر مظفرآباد جا کر بھی کیا کروں گا کیونکہ وہاں تو کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ گاؤں کی جو یادیں ہیں جب میں اُن کو یاد کرتا ہوں تو بہت دُکھ ہوتا ہے۔‘‘
زلزلے کےبار میں آپ بھی اپنے تاثرات یا رپورٹ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں لکھ کر ای میل کریں: urdu@bbc.co.uk
|