BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 October, 2005, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: کون کتنی امداد دے رہا ہے؟

متاثرہ بچی
صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں
گزشتہ سال سونامی سے متاثرہ علاقوں کے لیے دنیا نے بارہ ارب ڈالر کی امداد دی تھی جبکہ اس سال پاکستان میں زلزلہ سے متاثرین کے لیے اب تک ایک ارب ڈالر کے وعدے بھی نہیں کیے گئے۔

گزشتہ سال ایشیا میں آنے والے سمندری طوفان میں تقریبا تین لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے متاثرین کی فوری امداد اور بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے مختلف ملکوں نے سوا چار ارب ڈالر کے وعدے کیے جبکہ مختلف تنظیموں نے اقوام متحدہ کوجو عطیے دیے انہیں ملا کر امداد کی کُل رقم چھ ارب نوے کروڑ ڈالر بن گئی۔ سونامی متاثرین کے لیے نجی عطیوں کی مالیت پانچ ارب ڈالر تھی اور یوں کل بارہ ارب ڈالر کی امداد جمع ہوئی۔

دوسری طرف آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کو پاکستان میں کشمیر اور صوبہ سرحد میں زلزلہ آیا جس میں اب تک پچاس ہزار سے زیادہ افراد کے مرنے اور ستر ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے اور یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

 امریکہ نے پچاس ملین ڈالر، جاپان نے بیس ملین ڈالر، عالمی بنک نے چالیس ملین ڈالر، ایشیائی بنک نے دس ملین ڈالر، کینیڈا نے بیس ملین ڈالر، چین نے سوا چھ ملین ڈالر، یورپی یونین نے تقریباً ساڑھے چار ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا اور بعد میں اس میں ایک سو ملین ڈالر اضافہ کی تجویز دی گئی۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس کی تین سو بارہ ملین ڈالر کی اپیل میں سے اب تک نوے ملین ڈالر ملے ہیں اور چھبیس اکتوبر کو مزید عطیات جمع کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنیوا میں کانفرنس ہورہی ہے۔

اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریلیف کوآرڈینیٹر رشید خیلکوف کے مطابق صرف مظفرآباد میں زلزلہ سے متاثرہ آٹھ لاکھ لوگ کھلے آسمان کے نیچے ہیں اور صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایمرجنسی کوآرڈینیشن سینٹر کے مطابق مزید پانچ لاکھ خیمے درکار ہیں اور ابھی تک بیس فیصد متاثرہ آبادی تک نہیں پہنچا جاسکا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق پانچ لاکھ متاثرین تک امداد نہیں پہنچ سکی۔ پروگرام نے چھپن ملین ڈالر کی امداد کی تھی جس میں سے اب تک دس فیصد وصول ہوئی ہے۔

پاکستان کی حکومت کے مشیر سلمان شاہ کے مطابق کاروباری برادری نے ساڑھے چھ ارب روپے کے عطیات دیے ہیں۔ حکومت کو متاثرین کی بحالی کے لیے پانچ ارب ڈالر یا تین سو ارب روپے درکار ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے مطابق اب تک بتیس ملکوں سے امدادی سامان پاکستان پہنچا ہے۔

اسلامی امہ کے اسلامی ترقیاتی بنک نےامداد کی بجائے سود پر قرض دیا ہے۔ اسلامی بنک پاکستان کو زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے پچیس کروڑ سولہ لاکھ ڈالر دے گا جس میں سے سولہ لاکھ ڈالر عطیہ ہوگا اور باقی رقم بیس سے پچیس سال کے لیے قرض۔ اس میں سے دس کروڑ ڈالر تجارتی فنانس کے لیے استعمال کیا جائےگا۔

مسلمان ملکوں میں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو سب سے زیادہ امداد دی ہے۔دیگر مسلمان ملکوں نے امدادی سامان عطیہ کیا ہے اور امدادی کارکن بھیجے ہیں۔

ترکی زلزلہ سے بچاؤ کے لیے مکانات بنانے میں فنی مہارت میں تعاون کرےگا۔ انقرہ کے مئیر نے ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ ترکی نے پچاس ہزار ٹن آٹا بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ مالدیپ کی طرف سے تیس ہزار ڈالر دیے گئے ہیں جبکہ اٹلی سے پانچ طیارے سامان لےکر پہنچے ہیں۔ ایران نے بھی امدادی سامان اور کارکنوں اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجیں۔

ترکی نے سو ملین ڈالر نقد امداد اور پچاس ملین ڈالر کے کمبل اور خیمے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب نے آباد کاری کے لیے پچاس کروڑ ریال (آٹھ ارب روپے) دینے کا اعلان کیا ہے۔ ٹیلی تھون کے بعد سعودی عرب نے مزید سوا بیس ملین ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی کےوزیراعظم طیب اردگان نے کشمیر کے دورہ کے موقع پر کہا کہ ترکی زلزلہ سے بچاؤ کے لیے مکانات بنانے میں فنی مہارت میں تعاون کرےگا۔ انقرہ کے مئیر نے ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ ترکی نے پچاس ہزار ٹن آٹا بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ مالدیپ کی طرف سے تیس ہزار ڈالر دیے گئے ہیں جبکہ اٹلی سے پانچ طیارے سامان لےکر پہنچے ہیں۔ ایران نے بھی امدادی سامان اور کارکنوں اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجیں۔

زلزلہ کے فورا بعد کویت اور متحدہ عرب امارات نے دس دس کروڑ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا۔ وزیرِاعظم پاکستان شوکت عزیز کے مطابق سعودی عرب سے دس ہزار خیمے آئیں گے اور ترکی دس لاکھ کمبل اور خیمے دے گا۔

متحدہ عرب امارات کے سفیر علی محمد الشمسی نے کہا ہے کہ یو اے ای کشمیر اور سرحد کے متاثرہ علاقوں میں دو سال میں انفراسٹرکچر (ہسپتال، اسکول، کالج اور سرکاری عمارتیں) تعمیر کرے گا۔

دوسری طرف وہ ملک جو اسلامی امہ نہیں ہیں ان میں سے امریکہ نے پچاس ملین ڈالر، جاپان نے بیس ملین ڈالر، عالمی بنک نے چالیس ملین ڈالر، ایشیائی بنک نے دس ملین ڈالر، کینیڈا نے بیس ملین ڈالر، چین نے سوا چھ ملین ڈالر، یورپی یونین نے تقریباً ساڑھے چار ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا اور بعد میں اس میں ایک سو ملین ڈالر اضافہ کی تجویز دی گئی۔

صدر عالمی بنک پال ولفووٹز نے کہا ہے کہ عالمی بنک بحالی کےلیے مزید کئی ارب ڈالر امداد دے گا جبکہ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں کے لیے مزید چار ملین ڈالر امداد دے گا۔

امدادی کارروائی کے لیے دس اکتوبر کو آٹھ امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ گئے۔ بعد میں امریکہ نے مزید چوبیس ہیلی کاپٹر پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا۔ جاپان نے بھی دو اور برطانیہ نے تین ہیلی کاپٹر بھی امدادی کام کے لیے دیے۔

نیٹو نے ایک بٹالین لائٹ انجینیرز اور موبائل ہیڈکوارٹر فراہم کرے گا۔ نیٹو اپنے دوسرے آپریشن میں یو این ایچ سی آر کے گودام سے دس ہزار خیمے پاکستان پہنچائے گا۔

نیٹو کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امریکہ اور جرمنی کے چالیس ہیلی کاپٹر پہلے ہی کام کر رہے ہیں جبکہ چھ ہیلی کاپٹر مزید آئیں گے۔ نیٹو ایک ہزار ٹن سے زیادہ سامان کی ترسیل کے لیے کام کرے گی جبکہ وہ پچھہتر ٹن سامان پہلے ہی پہنچا چکی ہے۔

تئیس اکتوبر کو امریکہ سینٹرل کمان کےکمانڈر انچیف جنرل جان ابی زید نے کہا ہے کہ امریکہ پچیس ہیلی کاپٹر جلد پاکستان پہنچائے گا۔ تیس پہلے ہی یہاں کام کر رہے ہیں اس کے علاوہ امریکہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی مدد دے گا۔

ترکی کے وزیراعظم کے مطابق سنہ دو ہزار چار میں اسلحہ کی خریداری پر دنیا میں ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کیے گئے جبکہ پاکستان کو زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے صرف پانچ ارب ڈالر درکار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد