الائی میں سردی، انخلاء متنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقام کے انتخاب پر صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان تنازع کے باعث الائی سے زلزلے کے متاثرین کے انخلاء جزوی طور پر معطل ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے منصوبے کے مطابق ان لوگوں کو ہری پور حویلیاں منقتل کیا جانا تھا لیکن متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کو خدشہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی منتقلی سے ان کے ووٹ بینک پر اثر پڑے گا۔ الائی میں فوج کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہاس سے لوگوں بڑے پیمانے پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے لیکن صوبائی حکومت کے اس خدشے کی وجہ سے لوگوں کو یہاں سے منتقل کرنے کا کام کھٹائی میں پڑ گیا ہے، پھر بھی یہاں سے سو کے قریب لوگوں کو بٹگرام منتقل کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کا اسی خدشے کے پیش نظراصرار ہے کہ ان لوگوں کو شانگلہ کے علاقے میں بسایا جائے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں جاگیردارنہ نظام رائج ہے اور سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والے جاگیردار نہیں چاہتے کہ غریب مزارع ان کے ہاتھ سے نکل جائیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے اختلافات کے بارے میں خبروں کی تردید کی اور کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت میں امدادی کاموں کے حوالے سے مکمل تعاون ہے۔ الائی سے انخلاء کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب آبادی ہے جس کا وہاں سے مکمل انخلا ممکن بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے ہارون رشید سے انٹرویو میں کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرہ افراد کی عارضی آباد کاری کے لیے کئی جگہوں پر خیمہ بستیاں قائم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بٹ گرام میں بھی خیمہ بستیاں بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے الآئی سے لوگوں کے انخلا کو کوئی حکم دیا تھا۔ آصف اقبال نے کہا کہ ان کے خیال میں شوکت عزیز نے کہا تھا کہ سردی کی بنا پر چوٹیوں پر رہنے والے افراد کو نچلے علاقوں میں منتقل کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو الائی کے علاقے میں ہموار جگہوں پر بھی خیمہ بستیاں قائم کرکے عارضی طور پر پناہ فراہم کی جاسکتی ہے۔ نامہ نگار نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر نہیں مگر چھوٹے پیمانے پر لوگوں کو اس علاقے سے منتقل کیا جا رہا ہے۔ جمعرات کی صبح تقریبا تینتیس کے قریب لوگوں کوتین ہیلی کاپٹروں میں بٹگرام لے جایا گیااور پھر انہیں بعد ازاں ہری پورمنتقل کر دیا جائے گا۔ الائی میں بی بی سی کے مطابق لوگوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا، شدید سردی ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں نہیں رہ سکتے لہذا وہ جانا چاہ رہے ہیں۔ حکومت جہاں بھی انہیں بھیجے۔ دوسرے یہاں پر جو لوگ دور دراز پہاڑیوں سے آئے ہیں وہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان تک کوئی امداد ی سامان نہیں پہنچا اور اس شدید سردی میں ان کے پاس کھانے پینے اور سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہیں خیموں کی ضرورت ہے۔ لیکن فوج کے اہلکار کا کہنا ہے کہ یہاں پر زلزلے چونکہ بار بار آ رہے ہیں لہذا اس قسم کی صورت حال میں لوگوں کو ملازمتیں نہیں مل سکیں گی۔ سردی بھی ہے جبکہ ہری پور کا علاقہ گرم ہے اور وہاں لوگوں کے لیے مناسب جگہ کا بندوسبت بھی ہو سکے گا۔ فوجی اہلکار کے مطابق اسی فیصد لوگ ہری پور جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اس بات کا فیصلہ مرکزی اور صوبائی حکومت کو کرنا ہے کہ لوگوں کو کہاں بھیجا جائے لیکن دونوں اس بات پر تومتفق ہیں کہ متاثرہ لوگ یہاں سے جائیں صرف مقام مسئلہ بنا ہوا ہے۔ حکومتوں کے درمیان مقام کےانتخاب کےمتنازعہ بن جانے کی وجہ سے انخلاء التواء کا شکار ہو گیا ہے اور بچوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ طبی سہولتیں بھی متاثرہ لوگوں کونہیں پہنچ رہی ہیں۔ اس صورت حال سے لوگوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’امداد نہ ملی تو بہت سی ہلاکتیں ہوں گی‘26 October, 2005 | پاکستان صرف 25 فیصد خیمے دستیاب26 October, 2005 | پاکستان متاثرین کے لیے مزید 58 کروڑ ڈالر26 October, 2005 | پاکستان تین لاکھ خیموں کی تیاری جاری ہے 26 October, 2005 | پاکستان مزید 34 زخمیوں کی کراچی منتقلی 26 October, 2005 | پاکستان جنیوا کانفرنس ناکام رہی: احمد کمال27 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||