BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 October, 2005, 11:26 GMT 16:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صرف 25 فیصد خیمے دستیاب

باغ اور راولا کوٹ
باغ اور راولا کوٹ میں ساٹھ ہزار خیموں کی ضرورت ہے اور دس سے پندرہ ہزار کے قریب خیمے تقسیم ہوسکے ہیں
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دو بڑے اضلاع باغ اور راولا کوٹ میں امدادی کاموں کے نگران میجر جنرل قاسم قریشی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دونوں اضلاع میں مطلوبہ تعداد کے پچیس فیصد خیمے تقسیم ہو سکے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دونوں اضلاع میں پچاس سے ساٹھ ہزار خیموں کی ضرورت ہے اور تاحال دس سے پندرہ ہزار کے قریب خیمے تقسیم ہوسکے ہیں۔

انہوں نے سیاسی شخصیتوں اور فوجی حکام کی سفارش پر منظور نظر افراد کو خیموں کی تقسیم کے سوال پر کہا کہ اقربا پروری ہونے کا تاثر درست نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوج خیموں کی تقسیم توازن کے ساتھ کر رہی ہے اور ترجیحی بنیاد پر اونچے پہاڑی علاقوں والوں کو پہلے خیمے دیے جارہے ہیں۔

کشمیر کے دونوں اصلاع باغ اور راولا کوٹ کی آبادی تقریباً دس لاکھ ہے اور فوجی حکام کے مطابق اس میں تاحال دس ہزار افراد ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اضلاع میں تریسٹھ ہزار مکانات منہدم ہوئے ہیں۔ جن میں نو ہزار پانچ سو کے قریب پکے مکان جزوی طور پر اور ساڑھے تیرہ ہزار مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ فوج کے دیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ان اضلاع میں کچے مکانوں میں سے پچیس ہزار جزوی اور پندرہ ہزار مکمل طور پر منہدم ہوچکے ہیں۔

میجر جنرل قاسم قریشی نے بتایا کہ راولا کوٹ میں باغ کی نسبت تباہی کم ہوئی ہے اور دونوں اضلاع میں انہوں نے اسی فیصد علاقوں میں افواج تعینات کردی ہیں جو امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

ان کے مطابق آٹھ اکتوبر کو آنے والے شدید زلزلے کے بعد سترہویں روز تک جس بیس فیصد علاقے میں تاحال فوجی تعینات نہیں ہوئے وہاں ان کے مطابق ہیلی کاپٹروں، جوانوں اور جانوروں کے ذریعے امدادی سامان بھیجا جا رہا ہے۔ تمام علاقوں میں امداد پہچانے کے لیے فوجی حکام کے دعوے اپنی جگہ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مخدوم کوٹ، کندیہ، بنی ملدریہ، تھپ اور دیگر علاقوں میں تاحال امدادی سامان نہیں پہنچ پایا۔

اسلام آباد میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ خیمے معیاری نہیں ہیں اور موسم کی مزاحمت نہیں کر سکیں گے

کوہالہ پل سے لے کر باغ شہر تک سڑک کنارے بیشتر چھوٹے شہروں اور آس پاس کے گاؤں میں خیمے لگے ہوئے تو نظر آئے لیکن پوچھنے پر بتایا گیا کہ انہیں مطلوبہ تعداد میں خیمے فراہم نہیں ہوئے اور دو دو خاندانوں کو ایک ایک خیمہ دیا گیا ہے۔

ضلع باغ کی تحصیل دھیر کوٹ کے شہر میں اتنی زیادہ تباہی نظر نہیں آئی اور بیشتر دکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں اور یہاں کاروبار زندگی معمول کے قریب دکھائی دے رہی تھی۔

جب اس ضلع کے ایک چھوٹے شہر ارجہ پہنچے تو وہاں پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں منظور احمد وٹو کی والدہ کے نام سے منسوب سماجی تنظیم ’امیر بیگم ویلفئر ٹرسٹ‘ کے زیراہتمام ایک سو خیموں پر مشتمل خیمہ بستی کا بڑا بینر لگا نظر آیا۔

خیمہ بستی میں اس تنظیم کے نمائندے غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ اب تک انہوں نے پچاس خیمے لگائے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں خیمے بعد میں لگیں گے لیکن ان کے مطابق انہوں نے بینر پہلے لگا دیا تھا۔ پچاس خیموں میں سے کئی خالی تھے جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی لوگ آرہے ہیں۔

لیکن ان خیموں کے تھوڑے فاصلے پر کچھ کچے مکانوں کے باہر بیٹھی خواتین سے دریافت کیا کہ وہ ان خیموں میں کیوں نہیں جاتیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہاں چوریاں بہت ہیں اور وہ اپنے گھر نہیں چھوڑسکتے۔ ان کے مطابق انہوں نے ’امیر بیگم ٹرسٹ‘ والوں سے کہا کہ ان کے گھر کے سامنے خیمے لگا کر دیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے۔

خیمہ بستیوں کے قیام کے بارے میں میجر جنرل قاسم قریشی نے کہا کہ وہ اس کے زیادہ حق میں نہیں ہیں کیونکہ ایسی بستیوں میں آگ لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور لوگ اپنے گرے ہوئے گھر چھوڑنے کے لیے تیار بھی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں گھر کے ساتھ خیمہ چاہیے۔

باغ شہر سے تھوڑا پہلے ایک زیرتعمیر پیٹرول پمپ کی عمارت میں خیموں سمیت امدادی سامان کے دو ٹرکوں سے منگل کی سہ پہر کو سامان اتارا گیا۔ کیمپ کے باہر بیسیوں خواتین مرد اور بچے موجود تھے لیکن سامان کسی کو نہیں دیا جارہا تھا۔ کئی لوگوں نے فوج کی مہر لگی پہلے سے بانٹی ہوئی پرچیاں بھی دکھائیں اور کہا کہ وہ صبح سے بیٹھے ہیں لیکن فوجی انہیں امداد نہیں دے رہے۔

جب اس کیمپ کے انچارج فوجی حوالدار شہزاد سے پوچھا تو انہوں نے کہا رات سے پہلے سامان بانٹ دیں گے لیکن بدھ کی صبح جب اس کیمپ سے دوبارہ گزر ہوا تو وہاں سامان بھی ویسے پڑا تھا، فوجی موجود تھے اور لوگ بھی جمع تھے۔

اسی بارے میں
زلزلے سے رضائیاں بھی مہنگی
24 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد