’امداد نہ ملی تو بہت سی ہلاکتیں ہوں گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے زلزلہ زدگان کے لیے عالمی امداد کو دوگنا کرنے کے کی اپیل کی ہے جبکہ ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ ’اگر ہم امداد مہیا کرنے میں ناکام ہوئے تو بہت سے لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔‘ ہمارے نامہ نگار ثقلین امام نے جنیوا میں امداد مہیا کرنے والے ممالک کی کانفرنس کے دوران ژاں انگلین سے بات کرنے کے بعد بتایا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو اس وقت فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ژاں انگلین نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کو پاکستان کے دور دراز علاقوں میں امداد فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر مزید 25 ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا ہدف 55 کروڑ ڈالر اکھٹا کرنا ہے۔ اسی دوران اجلاس میں شریک پاکستانی حکومت کے نمائندے سلمان شاہ نے جو اقتصادی امور کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر بھی ہیں، کہا کہ ابھی تک نو کروڑ ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک بین الاقوامی برادری کو پوری طرح پاکستان میں ہونے والے زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ ٹیلی وژن پر سونامی کی کوریج بہت زیادہ ہوئی تھی اور اس طوفان کا نشانہ بننے والوں میں مغربی سیاح بھی شامل تھے جس وجہ سے بین الاقوامی طور پر متاثرین کو بھر پور امداد مہیا کی گئی۔ انہوں نے کہ حکومت کو چھ ماہ کے اندر امدادی کارروائیوں کے لیے دو بلین ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے پچپن کروڑ اقوام متحدہ نے فراہم کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرِ نو کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اسلام آباد میں عالمی مالیاتی اداروں اور امداد فراہم کرنے والوں کی ایک علیحدہ کانفرنس بلائی جائے گی۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں سرد موسم کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ اکتوبر کو ہلاک ہونے والوں سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں کے کوآرڈینیٹر راشد خلیکوف کے مطابق زلزلہ زدگان موسم سرما میں اس امداد پرگزارہ کرنے پر مجبور ہوں گے جو ان تک اگلے ایک ماہ کے دوران پہنچائی جا سکے گی۔ اقوام امتحدہ نے جنوبی ایشیاء کے متاثرین کے لیے بین الاقوامی امداد کو ساڑھے پانچ سو ملین تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ ابھی تک اسے اس امداد کا ساڑھے بارہ فیصد (% 12.5 ) موصول ہوا ہے۔ ادھرامداد کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے جنیوا میں امداد دینے والے ممالک کا ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس اور ہلال احمر نے بھی امداد کے لیے اپنی مشترکہ اپیل کا حدف دگنا کر کے گیارہ کروڑ ستر لاکھ ڈالر کر دیا ہے تاہم برطانیہ کے خیراتی ادارے آکسفیم نے چند امیر ممالک کو امداد دینے میں سستی برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 79,000 تک پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگرامدادی ادارے بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر متاثرین کو شدید سردی شروع ہونے سے پہلے امدداد نہیں پہنچائی گئی تو ان کی حالت سخت خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ دریں اثناء پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اُن کے اندازے کے مطابق تیس لاکھ افراد بے گھر ہیں جبکہ پانچ لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں اب تک کوئی امداد نہیں ملی۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق متاثرین کو امداد پہنچانے میں ایک ایک دن اہم ہے لیکن بدھ کے روز بھی خراب موسم کی وجہ سے ملک کے شمالی علاقوں میں ہیلی کاپٹر نہیں اڑ پا رہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان برفباری قریب، اور امداد دُور25 October, 2005 | پاکستان دیر نہ کریں: امدادی اداروں کی اپیل26 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: نیٹو مددگار فوجی بھیجنے پر آمادہ 21 October, 2005 | صفحۂ اول زلزلہ: کون کتنی امداد دے رہا ہے؟24 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||