تین لاکھ خیموں کی تیاری جاری ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پاکستان خیمہ و تنبو مینوفیکررز ایسوسی ایشن کا کہنا ہےکہ وہ تیس نومبر تک حکومت کو زلزلہ زدگان کے لیے تین لاکھ خیمے تیارکرکے دے گی جس کی قیمت کا ایک چوتھائی پیشگی پنجاب حکومت نے بدھ کو ایسوسی ایشن کو ادا کردیے ہیں۔ خیمہ ایسوسی ایشن کے وائس چئرمین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں خیمے اور ترپالیں بنانے کے سینتالیس کارخانے ہیں کئی دن سے روزانہ تیرہ ہزار سے پندرہ ہزار خیمے بمع ترپالوں کے تیار کر کے حکومت کو مہیا کر رہے ہیں۔ ترپالیں خیموں میں زمین پر بچھانے کے لیے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت سے ایک خیمہ بمع ترپال کی قیمت چھ ہزار دو سو روپے طے ہوئی ہے اور تمام فیکٹریاں حکومت کو خیمے ایسوسی ایشن کے ذریعے مہیا کر رہی ہیں۔ ایسوسی ایشن کے وائس چئرمین کے مطابق حکومت نے زلزلہ زدگان کے لیے ان خیموں پر سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، سوشل سیکیورٹی چارجز، اولڈ ایج بینی فٹ چارجز وغیرہ معاف کردیے ہیں اورمحکمہ محنت کو خیمہ فیکٹریوں سے دور رہنے کی ہدایت کردی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے بدھ کو اخباروں میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے۔ اس اشتہار میں محکمہ صنعت کی جانب سے خیمے تیار کرنے والی فیکٹریوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے خیمے ملکی اور غیر ملکی اداروں کو فروخت نہیں کرسکتے اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔یہ پابندی فی الحال ایک ماہ کےلیے لگائی گئی ہے۔
اس اشتہار میں بتایاگیا ہے کہ اس پابندی کامقصد یہ ہے کہ تمام خیمے حکومت حاصل کرے اور حکومت کے ذریعے زلزلہ متاثرین تک ان کی تقسیم اور ترسیل بہتر طور پر کی جاسکے۔ خیمہ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب کی فیکٹریاں این جی اوز اور اقوام متحدہ کے ادارہ یو این سی آر کو خیمہ مہیا کررہی تھیں لیکن اب ایسا نہیں کررہیں۔ ایسوسی ایشن کے وائس چئرمین کاکہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد یہ ہے کہ یہ غیرسرکاری ادارے خیمے دوسرے ملکوں سے لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ چین میں پچاس ہزار خیمے دستیاب ہیں اسی طرح بھارت میں خیمے دستیاب ہیں اس لیے ان این جی اوز کو یہ خیمے ان ملکوں سے لینے چاہییں تاکہ پاکستان کے کارخانے ملک کی ہنگامی ضرورت کو زیادہ سے زیادہ پورا کرسکیں۔
تاہم لاہور میں کچھ خیمہ سازوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے نجی اداروں کو خیمے بیچنے پر جو پابندی لگائی ہے اس سے خیمہ سازی سست پڑ جائے گی۔ لاہور میں خیمہ بنانے والے ایک بڑے کاروباری ادارے شیخ نورالدین اینڈ سنز کے منیجر حاجی اکبر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اس پابندی سے خیموں کی تیاری کا کام سست پڑجائےگا۔ حاجی اکبر نے کہا حکومت تمام خیموں کو خیمہ ساز فیکٹریوں کی ایسوسی ایشن کے ذریعے خریدنا چاہتی ہے لیکن ابھی ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان خیموں کی قیمت پر تنازعہ چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس نرخ پر خیمے لینا چاہتی ہے وہ مارکیٹ کے ریٹ سے کم ہے جبکہ اس دوران میں جس کپڑے سے خیمے تیار ہو رہے ہیں اس کی قیمت دوگنا ہو چکی ہے۔ شیخ نورالدین اینڈ سنز کے منیجر کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت فیکٹریوں کو کم نرخ پر خیمہ دینے کا پابند کررہی ہے اس لیے فیکٹریاں زیادہ خیمے نہیں بنائیں گی کیونکہ اس سے ان کا نقصان بڑھ جائے گا۔ | اسی بارے میں ’خیمے ذخیرہ ہو رہے ہیں‘22 October, 2005 | پاکستان کاغان میں بے شمار دیہات تباہ26 October, 2005 | پاکستان الائی انخلاء آپریشن مؤخر کر دیا گیا26 October, 2005 | پاکستان باغ، راولا کوٹ: 25 فیصد خیمے تقسیم26 October, 2005 | پاکستان ’المیہ بھیانک ترین تصورات سے بھی بالا ہے‘26 October, 2005 | پاکستان برفباری قریب، اور امداد دُور25 October, 2005 | پاکستان سپریم کورٹ: پتنگ بازی پر پابندی25 October, 2005 | پاکستان زخمیوں کو کراچی لانے کا منصوبہ25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||