BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 October, 2005, 22:53 GMT 03:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ: پتنگ بازی پر پابندی

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ پتنگ بازی سے ہلاکتوں کی خبروں پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے منگل کو ایک زبانی فیصلے میں پتنگ اڑانے، پتنگ اور ڈور تیار کرنے اور پتنگ بیچنے پر ایک ماہ کی پابندی عائد کردی۔

لاہور میں سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے چار رکنی بینچ نے اپنے زبانی فیصلہ میں یہ وضاحت نہیں کہ کہ یہ پابندی پورے ملک کے لیے ہے یا صرف پنجاب کے لیے۔ ابھی تحریری فیصلہ جاری نہیں ہوا۔

پتنگوں کی ڈور پھرنے سے ہلاکتیں اور لوگوں کے زخمی ہونے کی اخباری خبروں پر عدالت عظمی نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کی تھی اور اس کی سماعت چیف جسٹس چودھری افتخار محمد، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس اعجاز چودھری نے کی۔

عدالت عظمی نے کہا کہ اس حکم کی خلاف ورزی پر عدالت کے رجسٹرار کو رپورٹ کی جائے جس پر عدالت عظمی توہین عدالت کی کاروائی کرے گی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر کوئی شکایت نہیں کی جاتی اور خلاف ورزی ہوتی ہے تو عدالت عظمی اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس اور ضلعی ناظمین کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے سماعت کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پتنگ بازی سے ہونےوالی ہلاکتیں قتل کے زمرے میں آتی ہیں لیکن حکومتی مشینری کو کوئی پرواہ نہیں کہ اس قتل کو روکنے کے لیے قوانین پر عمل کرائے۔

عدالت عظمی کے سامنے لاہور کے ایک شہری شہزاد شیخ اپنے بیٹے فہیم شہزاد کے ساتھ پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے گلے پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے اس کا گلا زخمی ہوا اور ان کے بیٹے بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس حادثہ کی وجہ سے ان کے بیٹے اپنے دوستوں اور اپنی تعلیم سے بھی محروم ہوگئے اور ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔

عدالت عظمی میں واپڈا کے نمائندے نے بتایا کہ پتنگ بازی کی وجہ سے ہونے والی بجلی کی ٹرپنگ سے واپڈا کو ایک سال میں ایک ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

عدالت عظمی کے جج خلیل الرحمن رمدے نے سماعت کے دوران میں یہ تبصرہ کیا کہ صرف انسانی جان کا تحفظ ہی بنیادی حقوق میں شامل نہیں بلکہ شہریوں کی جائیداد کا تحفظ بھی بنیادی انسانی حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی کی وجہ سے صرف واپڈا کو نقصان نہیں ہوتا بلکہ شہریوں کے اربوں روپے کے بجلی کے آلات بھی خراب ہوجاتے ہیں۔ جج نے کہا کہ اربوں روپے کی جائیداد کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو پتنگ بازی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

عدالت عظمی میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب آفتاب اقبال کا یہ موقف تھا کہ لاہور کے پانچ چھ بڑے پارکوں میں پتنگیں اڑانے کی اجازت دے دی جائے جہاں دروازہ پر اس بات کی جانچ کی جائے کہ پتنگ باز دھاتی ڈور یا تندی تو استعمال نہیں کررہے جس سے نقصان ہوتا ہے۔

پنجاب کے سابق گورنر شاہد حامد بھی معاونت کے لیے عدالت عظمی کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی پر پابندی سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی پر پابندی کے لیے کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں بلکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ موجود ہے جس پر عمل نہیں کرایاجاتا۔انہوں نے کہا کہ اس قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے۔

شاہد حامد نے کہا کہ گزشتہ ماہ لاہور میں پانچ ہزار سے زیادہ دفعہ بجلی کی ٹرپنگ ہوئی ارو اس میں سے نوے فیصد ٹرپنگ پتنگ بازی کی وجہ سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے اور ملکوں میں پتنگ بازی کے لیے خاص جگہیں مخصوص کی جاتی ہیں اور یہاں پر بھی ایسا کیا جائے۔ انہوں نے لاہور کے جلو پارک کو پتنگ بازی کے لیے مخصوص کرنے کی تجویز پیش کی۔

پتنگ کی ڈور کا دھاگہ تیار کرنے والےکارخانوں کے وکیل ایس ایم مسعود بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی پر جب پابندی لگائی جاتی ہے تو دھاگہ تیا رکرنے والے کارخانوں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے حالانکہ یہ دھاگہ ڈور کے ساتھ ساتھ قالین بافی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے دھاگہ کی تیاری پر پابندی نہ لگائی جائے۔

ایس ایم مسعود نے علامہ اقبال کے بیٹے جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کی کتاب کے حوالہ سے کہا کہ پتنگ بازی تو علامہ اقبال بھی کیا کرتے تھے۔ اس پر ایک جج نے کہا کہ وہ زمانہ اور تھا جب پتنگ بازی سے انسانی جان کو نقصان نہیں ہوتا تھا۔

گزشتہ سال پتنگ بازی پر پابندی لگائے جانے کے بعد اس کے خلاف کی گئی رٹ درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ نے چند شرائط کے ساتھ اس پر عائد پابندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد