| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پتنگ بازی کے کاروبار پر پابندی کالعدم
بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں لاہور میں پتنگ بازی کے کاروبار پر پچھلے سال لگائی گئی پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے جبکہ لاہور کی ضلعی حکومت کو پتنگ بازی کو ریگولیٹ کرنے کی اجازت دی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈور اور پتنگ کے تیار کرنے پر پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس حکم کو یہ تصور نہ کیا جاۓ کہ عدالت عالیہ نے پتنگ بازی کی اجازت دے دی ہے۔ پچھلے سال لاہور کی ضلعی حکومت نے پتنگ اور ڈور بنانے اور پتنگ اڑانے کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا تاہم اس سال بیس جنوری کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے حکومت نے تا حکم ثانی اس پابندی کو ہٹا لیا ہے۔ عدالت عالیہ نے یہ حکم دھاگہ اور پتنگیں تیار کرنے اور انھیں فروخت کرنے کے کاروبار پر ضلعی ناظم لاہو میاں عامر محمود کی طرف سے لگائی گئی پابندی کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوۓ دیا۔ پابندی کو پتنگیں اور دھاگہ تیار کرنے والے افراد نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ رٹ درخواست میں کہا گیا تھا کہ آئین کے تحت ہر شہری کو قانون کے مطابق اپنا پیشہ اور کاروبار اختیار کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی اور ضلعی ناظم کو مستقل پابندی لگانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ وکیل ایس ایم مسعود نے عدالت عالیہ سے کہا تھا کہ ضلعی ناظم نے بدنیتی کی بنا پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اور نوٹیفیکیشن پہلے جاری ہوا ہے اور ضلعی ناظم نے اس حکم پر دستخط بعد میں کیے۔ ایڈوکیٹ جنرل شبر رضا رضوی نے عدالت عالیہ سے کہا تھا کہ حکومت نے جشن بہاراں کے لیے پتنگ بازی پر سے پابندی ختم کردی ہے تاہم حکومت نے پابندی لگائی ہے کہ پتنگ اڑانے کے لیے دھاتی اورنائلون کا تار استعمال نہیں کیا جاسکتا اور خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت کاررائی کی جاۓ گی۔ جسٹس نثار ثاقب نے رٹ درخواستیں منظور کرتے ہوۓ اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ پتنگیں اور ڈور بنانے پر پابندی آئین کے تحت دیئے گۓ حق ’رائٹ آف ٹریڈ` کے منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت ہر شخص کو کاروبار کرنے کا حق حاصل ہے اس لئے دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت اس حق کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور ضلعی ناظم کو بھی آئین میں دیئے گۓ بنیادی حق کو ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ تاہم عدالت عالیہ نے کہا کہ اس فیصلے کو یہ تصور نہ کیا جاۓ کہ عدالت عالیہ نے پتنگ بازی کی اجازت دے دی ہے۔ جج نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت کے غور کرنے کا ہے کہ وہ کس طرح اس عمل کو روکے جو نقصان کا باعث بنتا ہو۔ جج نے تجویز دی ہے کہ حکومت پتنگ بازی کے لیے علاقے مخصوص کرسکتی ہے جہاں لوگ اپنا شوق پورا کریں۔ لاہور میں جماعت اسلامی پتنگ بازی کے خلاف سخت مہم چلا رہی ہے اور اس نے ایک روز پہلے اس پر سے پابندی اٹھانے کے خلاف مظاہرہ بھی کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||