| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور: پتنگ بازی میں پانچ ہلاک
لاہور میں ایک ہفتہ کے دوران پانچ افراد پتنگ بازی کی وجہ سے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس خونی کھیل کا پانچواں شکار بادامی باغ کا تیس سالہ شخص محمد صدیق تھا جو عید سے ایک روز قبل اتوار کو ایک کٹی پتنگ کی لٹکتی ہوئی دھاتی تار میں الجھ کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ پاکستان میں گذشتہ برس دو ماہ کے عرصہ میں سترہ افراد کی ہلاکت کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم اس سال جشن بہاراں کے موقع پر حکومت پنجاب نے بیس جنوری کو ایک ماہ کے لیے پتنگ بازی پر سے پابندی اٹھا لی تھی۔ لاہور میں پتنگ بازی شروع ہوئی اور اس کے ساتھ ہی ہلاکتیں شروع ہوگئیں۔ پابندی اٹھائے جانے کےصرف پانچویں روز عبدالکریم روڈ پر اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ایک سیلز مین نے ایک کٹی پتنگ پکڑنے کے لیے پتنگ کی دھاتی تار کا سرا تھاما ہی تھا کہ دوسرے سرے پر بندھی پتنگ ہائی وولٹیج تاروں پر جا گری اور وہ کرنٹ کا شدید جھٹکا لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ اسی روز لاہور کے علاقہ شاد باغ کا نوجوان محمد علی موٹرسائیکل پر جا رہا تھا جب ایک کٹی پتنگ کی شیشے کا مانجھا لگی ڈور اس کی گردن کو کاٹ گئی اور وہ سڑک کنارے تڑپ کر مرگیا ۔ دو روز بعد یعنی ستائیس جنوری کو شادی میں شرکت کے لیے اپنے والد کے ساتھ راولپنڈی سے لاہور آنے والا آٹھ سالہ عمر آہنی راڈ کے ذریعے بجلی کی تاروں سے لپٹی پتنگ اتارتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ تاجپورہ سکیم میں گیارہ سالہ وقاص کی ماں اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے عید کے کپڑے خریدنے گئی ہوئی تھی اور وہ چھت پر کھیل رہا تھا کہ ایک کٹی پتنگ اپنی دھاتی تار سمیت اس پر آ گری اور وہ کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ لاہور میں ہر سال پتنگ بازی کے نتیجے میں چھت سے گرنے، شیشے کے مانجھے کی ڈور سے گردن کٹنے، کرنٹ لگنے اور دوسروں کی پتنگ کاٹنے کی خوشی میں ہونے والی ہوائی فائرنگ کے نتیجہ میں متعدد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں میں پتنگ بازی کا شوق کم ہونے اک نام نہیں لیتا۔ گذشتہ سال حکومت نے اس کھیل کو خونی قرار دیکر اس پر پابندی عائد کر دی تھی ۔ تاہم اس سال جشن بہاراں کے موقع پر حکومت نے ایک ماہ کے لیے پتنگ بازی پر پابندی اٹھائی تو پتنگ بازی کے شائق حلقوں نے اسے سراہا تھا لیکن مخالفین نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی تھی ۔ پابندی اٹھائے جانے کے پہلے تیرہ روز کے دوران ہی پانچ افراد کی ہلاکت نے پابندی اٹھائے جانے کے مخالف حلقوں کے موقف کو تقویت دی ہے اور اس پابندی کی بحالی کے لیے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ عید کی چھٹیوں میں بھی پتنگ بازی معمول سے زیادہ ہوتی ہے اور ہلاکتوں کا خطرہ بھی اسی لحاظ سے بڑھ جاتا ہے ۔ اس سال چودہ فروری کو لاہور میں بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ہلاکتیں اسی شرح سے جاری رہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ لاہور کی تاریخ میں پہلی بار بسنت کا تہوار پابندی کی نذر ہوجائےگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||