| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہوگا پھر سے بو کاٹا
پنجاب حکومت نے یکم فروری سے محرم کے آغاز تک کے لیے پتنگ بازی پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری حفیظ رندھاوا کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا جس کے بعد حکومت کے لیے فروری میں بسنت اور جشن بہاراں کے تہوار کے لیے پروگرام منعقد کرنا ممکن ہوسکے گا۔ تاہم لاہور میں پتنگ بازی کے شائقین نے حکومت کے اس فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ پتنگیں اڑانے کا موسم گرمیاں جاتے ہی شروع ہوجاتا ہے اور فروری سے پابندی ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عام لوگ زیاد ڈیڑھ مہینے تک پتنگ بازی نہیں کر سکیں گے۔ لاہور میں سردی کے آخر میں پتنگ بازی کا روایتی تہوار بسنت کم و بیش عالمی شہرت حاصل کرچکا ہے اور پوری دنیا سے لوگ اس تہوار منانے کے لیے لاہور میں جمع ہوتے ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اس تہوار پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں۔ لاہور میں ضلعی حکومت نے اس سال جولائی میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کردی تھی۔ لاہور میں پتنگ کی دھاتی ڈوروں سے بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ بننے سے بجلی کی فراہمی بار بار منقطع ہوی رہتی تھی۔ اس سال لاہور میں بیس سے زیادہ شہری ، جن میں اکثرموٹر سائکل سوار تھے، کٹی ہوئی آوارہ پتنگوں کی ڈور گلے پر پھر جانے کے باعث ہلاک ہوۓ۔ پتنگ بازی پر اس پابندی کو پتنگ کا دھاگہ بننے والی مختلف کمپنیوں نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جن کی رٹ درخواستوں کی سماعت ابھی مکمل ہونی ہے۔ لاہور کے ناظم میاں عامر محمود ، جو جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی عہدیدار رہ چکے ہیں، پتنگ بازی کے شدید مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ لاہور کے ناظم نے پتنگ بازی کے نقصانات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہوئی ہے جس نے ابھی اپنی سفارشات پیش کرنی ہیں۔ پاکستان کے مذہبی حلقے پتنگ بازی کو ہندو روایات کی علامت قرار دیتے ہوۓ اسے اسلامی تشحص کے منافی سمجھتے ہیں اور پتنگیں اڑانے اور بسنت منانے کی شدید مخالف ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||