الائی انخلاء آپریشن مؤخر کردیاگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بٹگرام کی تحصیل الائی میں زلزلے کےمتاثرین کا ایک بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے انخلاء مؤخر کر دیا گیا ہے۔ الائی میں امدادی سرگرمیوں کے انچارج لیفٹیننٹ کرنل ذکیر احمد عباسی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب انخلاء کی جائزہ رپورٹ جمعہ تک مکمل کر لی جائے گی اور اس کے بعد انخلاء کے منصوبے پر عمل کا آغاز کیا جائے گا اس سے پہلے کی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ انخلاء کی یہ کارروائی تین مرحلوں میں ہوگی جس میں فوجی، سامان لادنے والے جانور اور ہیلی کاپٹر استعمال ہوں گے اور یہ کارروائی ایک ماہ تک جاری رہے گی۔ علاقے میں موجود بی بی سی پشتو سروس کے عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ الائی میں فوج کے انچارج کرنل ذاکر نے انہیں بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس علاقے سے لوگوں کو نکانے کا کام شروع کر دیا جانا چاہیے۔ اسی ہزار افراد کی آبادی کے اس علاقے سے لوگوں کے انخلاء کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ ایسی جگہ واقع ہے جہاں زلزلے اکثر آتے ہیں اورآئندہ بھی آ سکتے ہیں۔ اس کارروائی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں سردی بڑھ رہی ہے اور برف باری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور ان حالات میں لوگ یہاں نہیں رہ سکتے۔ عبدالحئی کاکڑ نے بتایا کہ انخلاء کی اس کارروائی میں مقامی حکام کسی جلدی میں نہیں لگتے۔ وہاں موجود برگیڈیر خالد کا کہنا ہے کہ لوگ ایک ماہ تک سردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کارروائی کے پہلے مرحلے میں پہاڑ کی چوٹیوں سے لوگوں کو اتارا جائے گا اور انہیں ہموار زمین پر رکھا جائے گا جہاں ان کے چھوٹے چھوٹے خیمے لگائے جا رہے ہیں۔ بعد میں انہیں مانسہرہ، ہری پور یا حویلیاں کے مقام پر منتقل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ان علاقوں میں خیمہ بستیاں بھی بنائی گئی ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق الائی سے لوگوں کا انخلاء سردی کی وجہ سے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں کے مقامی زلزلے کے جھٹکوں کے عادی ہو چکے ہیں البتہ وہ سردی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عبدالحئی کاکڑ نے بتایا کہ انخلاء کے تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ پہاڑوں سے خچروں کے ذریعےلوگوں کو نیچے اتارا جائے گا اور اگلے مرحلے میں انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دیگر علاقوں میں منتقل کیا جائے گا۔ لوگوں کو یہاں سے لے جانے کا تیسرا راستہ سڑک کا ہے جسے گزشتہ روز کھولا گیا اور جس کے ذریعے ریلیف کا سامان یہاں پہنچایا گیا۔ اس راستے سے بھی انخلاء ہوگا۔لیکن حکام کہتے ہیں کہ یہاں سے تیزی کے ساتھ لوگوں کو نکالا نہیں جا سکتا۔ | اسی بارے میں ’دھماکے گیسوں سے نہیں ہوئے‘26 October, 2005 | پاکستان ’الائی میں آتش فشاں نہیں ہیں‘25 October, 2005 | پاکستان برفباری قریب، اور امداد دُور25 October, 2005 | پاکستان زخمیوں کو کراچی لانے کا منصوبہ25 October, 2005 | پاکستان ’خیمے ذخیرہ ہو رہے ہیں‘22 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||