متاثرین کے لیے مزید 58 کروڑ ڈالر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر اور پاکستان میں زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے 58 کروڑ ڈالر مزید امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ حکومتوں اور غیر سرکاری اداروں نے کشمیر اور پاکستان میں آٹھ اکتوبر کے زلزلہ زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے مزید امداد کا اعلان اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا۔ تاہم قدرتی آفات میں امدادی کاروائیوں کے لیے ادارے کے رابطہ افسر یان ایگلین نے کہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کانفرنس کے موقع پر اعلان کردہ رقم میں سے کتنی فوری ہنگامی امداد اور کتنی زلزلے سے متاثر ہونے والوں کی بحالی کے لیے ہے۔ کانفرنس کے موقع پر اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے امداد دینے والے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں زلزلے کے متاثرین کے لیے فوری طور امداد فراہم کریں تاکہ سردیوں کے آنے سے پہلے ایک نئے انسان المیے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ المیہ ہمارے بھیانک ترین تصورات سے بھی بالا تر ہے۔ ’دسیوں ہزاروں ہلاک ہو چکے ہیں، ستر ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ تیس ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں تمام ضروری بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ ہم یہاں آج اس لیے مل اکٹھے ہوئے ہیں کہ موت کی دوسری لہر کو روکا جا سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ زلزلے کو روک سکتے لیکن ہم اگلی لہر (موت) کو روک سکتے ہیں۔ جنیوا میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہے۔ ’آپ پاکستان میں زلزلہ زدگان کی صورتحال کےلیے وقت کےخلاف جنگ کی اصطلاح سن رہے ہیں۔ درحقیقت صورتحال ایسی ہی ہے۔ کچھ ہی ہفتوں میں برفباری کے بعد شدید سردی شروع ہوجائے گی اور متاثرہ علاقوں میں بہت سے لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہوں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امداد ان تک پہنچائیں۔ امدادی ادارے ان لوگوں کی مدد کے لیے زبردست محنت کررہے ہیں لیکن ان لوگوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں مدد چاہیے حکومتوں سے، عام لوگوں سے نجی اداروں سے اور ہر اس فرد سے جو ایک یورو، ایک ڈالر یا ایک پاؤنڈ بھی دے سکے‘۔
دوسری جانب قدرتی آفات میں امدادی کاروائیوں کے لیے ادارے کے رابطہ افسر یان ایگلین نے جو خود پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرچکے ہیں اور امداد دینے والوں کی اس کانفرنس میں شریک بھی ہیں بی بی سی اردو سروس کے ثقلین امام سےگفتگو میں بتایا کہ کہ اقوامِ متحدہ کو اس وقت فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا فوری ہدف تیس لاکھ بے گھر لوگوں کے لیے پچپن کروڑ ڈالر جمع کرنا ہے تاکہ ان لوگوں کی رہائش، خوراک اور بچوں کی تعلیمی سہولیات کے ذریعے مدد کی جاسکے۔ ایک بہت بڑی ضرورت ہیلی کاپٹر ہیں اور ہمیں فوری طور پر پچیس مزید ہیلی کوپٹر درکار ہیں لیکن باقی چیزوں میں بھی ہمیں زبردست مالی مشکلات درپیش ہیں۔ اگر ہم نے ان لوگوں کی مدد نہ کی تو ہمالیہ کی سخت سردی میں بہت سے لوگ مر جائیں گے‘۔ آٹھ اکتوبر کے اس تباہ کن زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر کشمیر کا علاقہ ہوا ہے خصوصاً اس کا پاکستان کے زیرانتظام حصہ۔ بہت سے متاثرہ علاقے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے ساتھ ایسی جگہوں پر ہیں جہاں رسائی پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے زیادہ آسان ہے۔ گو زلزلے کے بعد دونوں ملکوں نے سیاست سے بالاتر ہوکر زلزلہ زدگان کی مدد کرنے کا عزم تو ظاہر کیا ہے لیکن لائن آف کنٹرول کے آرپار کشمیریوں کو مدد کے لیے نقل و حرکت کی اجازت دینے پر ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ لیکن اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا لہجہ خاصا پرامید تھا۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پہلے ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان تعاون پر غور کیا ہے خصوصاً لائن آف کنٹرول کے آرپار اور فضائیہ کے ذریعے مدد کے لیے۔ دونوں حکومتوں نے بھی اس پر بات کی ہے جو ایک قابل تحسین بات ہے۔ دونوں ملک اس آفت کے بعد سے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ درحقیقت ایک بھارتی وزیر بھی پاکستانی عوام سے یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے اس کانفرنس میں موجود ہیں۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے بھی آپس میں بات کی ہے جو بہت مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا رابطہ آئندہ بھی جاری رہے گا‘۔ اسی دوران اجلاس میں شریک پاکستانی حکومت کے نمائندے سلمان شاہ نے جو اقتصادی امور کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر بھی ہیں، کہا کہ ابھی تک نو کروڑ ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک بین الاقوامی برادری کو پوری طرح پاکستان میں ہونے والے زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ ٹیلی وژن پر سونامی کی کوریج بہت زیادہ ہوئی تھی اور اس طوفان کا نشانہ بننے والوں میں مغربی سیاح بھی شامل تھے جس وجہ سے بین الاقوامی طور پر متاثرین کو بھر پور امداد مہیا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چھ ماہ کے اندر امدادی کارروائیوں کے لیے دو بلین ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے پچپن کروڑ اقوام متحدہ نے فراہم کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرِ نو کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اسلام آباد میں عالمی مالیاتی اداروں اور امداد فراہم کرنے والوں کی ایک علیحدہ کانفرنس بلائی جائے گی۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں سرد موسم کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ اکتوبر کو ہلاک ہونے والوں سے تجاوز کر سکتی ہے۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس اور ہلال احمر نے بھی امداد کے لیے اپنی مشترکہ اپیل کا حدف دگنا کر کے گیارہ کروڑ ستر لاکھ ڈالر کر دیا ہے تاہم برطانیہ کے خیراتی ادارے آکسفیم نے چند امیر ممالک کو امداد دینے میں سستی برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومتوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 79,000 تک پہنچ چکی ہے۔ |
اسی بارے میں ’امداد نہ ملی تو بہت سی ہلاکتیں ہوں گی‘26 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان برفباری قریب، اور امداد دُور25 October, 2005 | پاکستان دیر نہ کریں: امدادی اداروں کی اپیل26 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: نیٹو مددگار فوجی بھیجنے پر آمادہ 21 October, 2005 | صفحۂ اول زلزلہ: کون کتنی امداد دے رہا ہے؟24 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||