زلزلے نے سب کو برابر کر دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی حدود میں واقع قصبات و دیہات کی روزمرہ زندگی پر اس زلزلے نے کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔ ان کے لیے عمارتوں کا زمیں بوس ہونا، مہینوں ریلیف کیمپوں میں گزارنا، ملبے سے لاشیں نکالنا اور ناکافی اشیائے خوردونوش یا بغیر خیموں کے زندگی بسر کرنا اور ایک بار پھر بسنے کی کوشش کرنا کوئی نیا نہیں ہے۔ بس یہ ہے کہ پہلے جو زمین توپ کے گولوں سے ہلتی تھی اس بار زلزلے سے کچھ زیادہ ہل گئی۔ میں کوئی چار برس قبل موسمِ گرما میں لائن آف کنٹرول سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر قائم چکوٹھی کے قصبے میں پہنچا تو اس وقت بھی وہاں ہا ہا کار مچی ہوئی تھی۔ کوئی شخص ایسا نہیں ملا جس کا یا تو مکان متاثر نہ ہوا ہو یا کوئی عزیز یا جاننے والا ہلاک یا زخمی نہ ہوا ہوا۔ زیادہ تر آبادی گولہ باری کے اس موسم میں لائن آف کنٹرول سے خاصے فاصلے پر ہٹیاں میں قائم ریلیف کیمپوں میں منتقل ہو چکی تھی ۔ اس مرتبہ زلزلے نے ان سے نقلِ مکانی کی رعائیت چھین لی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی پینتالیس ہزار کی آبادی میں کم ازکم ایک ہزار کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔ چار سے پانچ ہزار کے درمیان زخمی ہوئے لیکن چونکہ فوجی یونٹ اس علاقے میں مستقل تعینات رہتے ہیں اس لئے باقی زلزلہ زدہ علاقوں کی نسبت یہاں سے شدیدزخمیوں کا انخلا نسبتاً تیزی سے ہوگیا۔ ویسے بھی دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہاں پر مقامی آبادی اور فوج کا ایک دوسرے پر انحصار زیادہ ہے۔اس لیے یہاں اکثر لوگ دیگر علاقوں کی نسبت فوج کی سست روی کے نہیں بلکہ اس بات کے شاکی نظر آئے کہ پیچھے سے ریلیف بہت کم پہنچ رہی ہے اور زمینی راستہ زلزلے کے ستائیس روز بعد بھی نہیں کھل پایا۔
چکوٹھی کے فوجی کیمپ کے باہر صبح سحری کے بعد سے ہی ضرورت مند نواحی دیہاتوں سے اتر اتر کر جمع ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ابتدا میں ہر گاؤں کے لوگ اپنی اپنی علیحدہ لائنیں بنا کر بیٹھے رہتے ہیں لیکن نو بجے کے بعد یہ لائنیں فضا میں پہلا ہیلی کاپٹر دیکھتے ہی تتر بتر ہوکر ایک جمگھٹے میں بدل جاتی ہیں اور فوجیوں کی سیٹیاں اور وارننگ دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اگرچہ فوج روزانہ تین تین چار چار دیہاتوں کے لوگوں کو باری باری بلاتی ہے لیکن آپ یہاں کسی بھی وقت علاقے کے تیس متاثرہ دیہاتوں کے کچھ نہ کچھ لوگ منڈلاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ لوگ شاکی ہیں کہ خوراک اور خیموں کی جاری کردہ پرچیوں کے باوجود وہ ہفتہ ہفتہ بھر چکر لگاتے ہیں تب کہیں جا کر پانچ سے دس کلو آٹا اور کچھ دیگر اشیائے ضرورت ہاتھ آتی ہیں۔ فوجی کہتے ہیں کہ انکے پاس روزانہ جتنا سامان ہیلی کاپٹرز کے ذریعے آتا ہے وہ سب کا سب متاثرین میں شام تک بانٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ سامان بھی صرف ڈیڑھ سے دو سو متاثرین کے لیے ہی کافی ہوتا ہے۔ باقی لوگ شام گئے برا بھلا کہتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں تاکہ صبح صبح پھر لائن میں لگنے کے لیے کچھ تازہ دم ہو سکیں۔ جنہیں کچھ نہ کچھ راشن مل بھی رہا ہے وہ بھی شاکی ہیں۔ایک تو ان کے خاندان چونکہ بڑے بڑے ہیں اس لیے پانچ دس کلو آٹا بھی دو تین روز میں ختم ہوجاتا ہے اور دوبارہ راشن کے لیے تقریباً اتنا ہی صبر اور ہمت چاہیے جتنی فرہاد کو جوئے شیر کھودنے کے دوران میسر تھی۔ پھر جو کچھ رسد میں آتا ہے وہ چار و ناچار لینا پڑتا ہے۔ مثلاً میرے سامنے ایک امریکی شنوک ہیلی کاپٹر ٹونا مچھلی کے ڈبے اور بسکٹ اور جام، جیلی بھر کر لے آیا۔ مقامی لوگوں کو ان اشیا سے کوئی علاقہ نہیں لیکن اس وقت وہ چینی، چائے اور چاول کے متبادل کے طور پر ٹونا، جام اور بسکٹ بھی بادلِ ناخواستہ قبول کررہے ہیں۔ اس ہجومِ مجبوراں میں مجھے ایک بچی نظر آئی جس کے سلیقے سے لگ رہا تھا کہ کسی بھلے گھر کی ہے۔معلوم ہوا کہ اسکے والد کا میڈیکل اسٹور اور دو منزلہ گھر تھا۔اب سب ملبہ ہے اور وقت نے اسے خیمے اور راشن کی لائن میں کھڑا کر دیا ہے۔ باپ سفیدپوشی کے بھرم میں اس ہجوم کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ چکوٹی کے منہدم ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تنویر حسین گیلانی نے بتایا کہ اس تنویر گیلانی نے اپنے بھائی کی مثال دی جو ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن ہیں۔ان کی بیوی، بیٹی،بہو، پوتا اور پوتی مر چکے ہیں۔ دو بیٹے باقی بچے ہیں۔ان کا گزارہ پنشن پر ہے۔ سب لوگوں کی طرح ان کے ہاں بھی راشن کی شدید قلت ہے مگر وہ لائن میں نہیں لگنا چاہتے۔ تنویر گیلانی کچھ راشن کیمپ والوں سے لے کر انہیں دے آتے ہیں یا پھر وہ مکئی ابال کر کھا لیتے ہیں۔ خود تنویر گیلانی کا تین منزلہ مکان گرگیا۔والدہ ان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔وہ اپنے لیے خیمہ نہیں مانگ سکے اور ملبے میں سرد ہوا سے بچنے کے لیے گھر کی گری ہوئی ٹین کی چھتوں کی آڑ کر کے رہ رہے ہیں۔ کہنے لگے یہ کپڑے میں نے آٹھ اکتوبر سے نہیں بدلے کیونکہ سامان ملبے میں دبا ہوا ہے۔ جو جوتا انہوں نے پہن رکھا تھا اس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ راولپنڈی سے آنے والا ایک بھانجا ان کے لیے لایا تھا۔ تنویر گیلانی نے کہا کہ اگر حکومت ایسے لوگوں کو راشن کی لائن میں کھڑا نہ ہونے کے عوض کچھ رقم دے دے تو وہ اس رقم سے راستے کھلنے کے بعد کچھ اشیائے ضرورت خرید کر عزتِ نفس برقرار رکھ سکتے ہیں ورنہ وہ یونہی گھٹ گھٹ کے مرتے رہیں گے۔ چکوٹھی میں فوج کے علاوہ ہلالِ احمر والے بھی کام کررہے ہیں اور متاثرین کی فہرستیں مرتب کررہے ہیں۔ عموماً یہ کام سول انتظامیہ کے کارندے پٹواری وغیرہ کرتے ہیں لیکن تاحال سول انتظامیہ کا وجود نہیں ہے۔ پچھلے تین چار روز سے البتہ کچھ پولیس والے نظر آنے لگے ہیں۔ علاقے کے ممبر برائے اسمبلی نے اب تک اپنے حلقے کی خبر نہیں لی البتہ پاکستان کے وزیرِ امورِ کشمیر فیصل صالح حیات نے ضرور زلزلے کے تئیسویں روز اس علاقے کا پندرہ منٹ کا دورہ کیا۔ عائشہ خان جو ماؤنٹین اینڈ گلیشیرز پروٹیکشن آرگنائزیشن کی سربراہ اور بھارت میں متعین پاکستانی سفیر عزیز احمد خان کی اہلیہ ہیں انہوں نے بیس تاریخ سے چکوٹھی میں ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور متاثرین کے لئے یہاں جو امداد آ رہی ہے اس میں عائشہ خان کے اعلٰی سطحی روابط کا بھی عمل دخل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم اس علاقے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے دونوں تباہ حال اسکولوں کی زلزلہ پروف عمارات کی تعمیر کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔ عائشہ خان کے بقول ابھی تک یہاں کے لوگ چونکہ اپنی جسمانی بقا کی جنگ اور خیمے اور راشن کی ضرورت میں الجھے ہوئے ہیں اس لیے ان کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ جب ان لوگوں کی فوری ضروریات پوری ہوجائیں گی اور وہ پانچ چھ سو شدید زخمی بھی واپس آجائیں گے کہ جن کی زندگی بچانے کے لیے ڈاکٹروں کو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹنے پڑے ہیں تب یہاں کی سماجی زندگی میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔اب بھی زیادہ تر لوگ سو نہیں پاتے یا پھر اچانک اٹھ کر خیمے سے باہر نکل آتے ہیں۔ان لوگوں کو اگلے مرحلے میں ذہنی بحالی کی اتنی ہی ضرورت ہوگی جتنی کہ آج راشن اور خیمے کی ہے۔ چکوٹھی ان پانچ پوائنٹس میں شامل ہے جنہیں بھارت اور پاکستان کشمیر کے دونوں حصوں کے منقسم خاندانوں کی ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے کھولنے پر رضامند ہوئے ہیں۔ چکوٹھی کے راستے ہی سات اپریل کو پہلی بسیں سرینگر اور مظفر آباد کے لیے روانہ ہوئی تھیں لیکن زلزلے کے نتیجے میں سارا راستہ ٹوٹ پھوٹ گیا ہے۔ چکوٹھی کی نوتعمیرشدہ چیک پوائنٹ کی عمارت جزوی طور پر ناکارہ ہوگئی ہے اور اس تاریخی دوستی پل یا کمان برج کی بھی دوبارہ بحالی کا مسئلہ درپیش ہے جو ستاون برس بعد کھولا گیا ہے۔ یہ سب کچھ سات تاریخ سے پہلے پہلے ہونا ہے اور یہ کام چکوٹھی میں متعین اس یونٹ کے سپرد کیا گیا ہے جس کے اکتیس جوان ان سات سو ستتر پاکستانی فوجیوں میں شامل ہیں جو آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں جاں بحق ہوگئے۔ اس فوجی یونٹ کے کرنل کا کہنا ہے کہ اگر سات نومبر تک سڑک کلئیر نہیں ہوتی اور فرینڈشپ برج بحال نہیں بھی ہوتا تب بھی اتنا ضرور ہوجائے گا کہ منقسم خاندانوں کے لائن آف کنٹرول پار کرنے کے لئے ایک پیدل چلنے کا عارضی راستہ بنا دیا جائے اور وہ پل کے بجائے نیچے والے نالے کو عبور کرسکیں۔رہی بات چیک پوائنٹ کی عمارت کی تو اسکے متبادل کے طور پر سرکاری عملہ فی الحال خیموں میں بیٹھ کر کام کرے گا۔ جہاں تک چکوٹھی کے متاثرین کے تعلق ہے تو ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے لائن آف کنٹرول کے پار رشتے دار موجود ہیں اور رابطہ نہ ہونے کے سبب وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ظاہر ہے کہ یہ سات نومبر کا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔لیکن جن کے رشتے دار سرحد پار نہیں بھی ہیں وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کم از کم کچھ سامان تو آئے جائے گا۔کیونکہ اسوقت تو چکوٹھی میں چینی بھی اسی روپے کلو مل رہی ہے وہ بھی اگر مل رہی ہے۔ |
اسی بارے میں کشمیری خاندانوں کو پہلی ترجیح30 October, 2005 | پاکستان ’الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان فوج کی امدادی کوششیں ناکافی15 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||