BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 October, 2005, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کم از کم دلاسہ تو دے سکتے ہیں‘
زلزلے میں زیادہ تر کم عمر بچے ہلاک ہوئے ہیں
منقسم خاندانوں کے درمیان لائن آف کنٹرول کے وجہ سے ابھی تک کئی کشمیریوں کو اپنے رشتہ داروں کے بارے میں یہ معلومات نہیں حاصل ہو سکی ہیں کہ وہ کس حالت میں ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سہیل مسعود نے بی بی سی کی وساطت سے اپنے چچا زاد بھائی ریاض احمد سے بات کی ہے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذیل میں اِن دونوں کے مابین ہونے والے گفتگو کا مکمل متن پیش کیا جا رہا ہے:

بی بی سی: جی سہیل مسعود صاحب آپ کے چچا زاد بھائی ریاض احمد صاحب سے ہمارا رابطہ ہو گیا ہے۔ اب آپ اُن سے بات کیجیے۔

سہیل مسعود: ہیلو

ریاض احمد: ہیلو

سہیل مسعود: اسلام و علیکم

ریاض احمد: ہیلو اسلام و علیکم

سہیل مسعود: ریاض صاحب، میں سہیل بول رہا ہوں سہیل۔

ریاض احمد: جی جی

سہیل مسعود: جی آپ خیریت سے ہیں۔ بڑے دنوں سے ہم آپ سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں کوئی نہیں مل رہا۔ ہمیں کوئی نمبر نہیں مل رہا۔ کوئی پتا خبر بھی نہیں ہے۔ عمران صاحب کا وہاں سے خط آیا تھا۔ جب سے خط ملا ہے ہم سے نہ کچھ کھایا جا رہا ہے، نہ کچھ پیا جا رہا ہے۔ واللہ ہم آپ کے غم میں شریک ہوئے ہیں۔

ریاض احمد: جی میں خیریت سے ہوں اور عمران صاحب بھی خیریت سے ہیں۔

سہیل مسعود: باقی فیملی کیسی ہے؟

ریاض احمد: تقریباً 119 آدمی مارے گئے ہیں ہمارے۔ خود میری ایک بیٹی شہید ہوگئی ہے۔

سہیل مسعود: انا للہِ وانا علیہ راجعون۔ بیٹی کون سے چھوٹی والی بیٹی؟

ریاض احمد: جی ہاں بیٹی شہید ہو گئی ہے۔

سہیل مسعود: انشاءاللہ ہم آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہاں سے راستے کھل گئے تو پھر ہم اس کے ذریعے آنے کی کوشش کریں گے۔ تو آپ کا ہمیں ایڈریس مظفرآباد ہی ملے گا؟

ریاض احمد: جی ایڈریس وہی ہے۔ میں وقتی طور پر پنڈی میں ہوں لیکن روزانہ واپس مظفرآباد آ جاتا ہوں۔ میں ادِھر سروس کرتا ہوں۔ باقی فیملی تو ادُھر پنڈی میں ہی ہے۔ ادُھر جی سکس آبپارہ میں۔ میں آپ کو ایک نمبر لکھوا دیتا ہوں، اِس نمبر پر آپ سے رابطہ ہو گا ہے۔ ایڈریس وہی مظفرآباد کا ہی ہے۔

سہیل مسعود: جی نمبر دیجیے جی سکس کا۔

ریاض احمد: یہ میرے بھتیجے کا نمبر ہے۔ یہ میرے سے رابطہ کرا دے گا۔ موبائل نمبر ہے۔

سہیل مسعود: جی شکریا، اور بنائیں؟

ریاض احمد: اِدھر ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور کیا بتائیں۔

سہیل مسعود: جی یہ اللہ کی آزمائش ہے۔ اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ ہم ہر وقت پی ٹی وی ورلڈ اور بی بی سی دیکھ رہے ہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ آپ سے ملیں اور خیریت پوچھیں۔

ریاض احمد: میں خیریت سے ہوں۔ ایک بیٹی، دو بھتیجیاں اور عمران صاحب کی ایک بہن شہید ہوئی ہیں۔ باقی ہماری فیلمی کے 119 افراد شہید ہوئے ہیں۔

سہیل مسعود: جی یہ تمام 119 نوسدہ میں تھے؟

ریاض احمد: جی میری بیٹی سکول میں تھی۔ باقی بچے بچ گئے کیونکہ وہ دوسرے سکول میں تھے اور بھاگ کر نکل آئے۔ جبکہ یہ چھت کے نیچے آ گئی۔ مظفرآباد ایک اجاڑ اور بیابان بن چکا ہے۔ یہاں کوئی رہ نہیں سکتا۔ نہ پانی ہے اور نہ کوئی چیز۔ لوگ بھی بھاگ گئے ہیں یہاں سے۔ نوسدہ میں لوگ کھلے آسمان کے نیچے۔ کسی کے پاس ٹینٹ ہے، کسی کے پاس نہیں۔ کوئی دو چار ٹینٹ مِل سکے ہیں ان کو۔ کُل چھ ٹینٹ ہیں، باقی سب کھلے آسمان کے نیچے ہیں۔

سہیل مسعود: جی انڈیا کوشش کر رہا ہے۔ کشمیر کوشش کر رہا ہے۔ لیکن لوگوں کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟

ریاض احمد: جی امدادی سامان اُن کو مِل رہا ہے جو چھینا چھپٹی کرتے ہیں۔ جو لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں، شریف لوگ ہوتے ہیں انہیں کم ہی مل رہا ہے۔ بہرحال وقت گزر رہا ہے۔

سہیل مسعود: جی ہم کیا لائیں آپ کے لیے؟ ہمیں تو معلوم ہی نہیں حکومت ہمیں کیا لانے دے گی؟

ریاض احمد: جی ہم اب پنڈی میں ہیں۔ وہاں حالات معمول پر ہیں۔ دکانیں کھل رہی ہیں۔ کوئی بات نہیں۔ چیزیں پیسوں سے مل جاتی ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم تو کوشش کرتے ہیں چیزیں دکانوں سے مِل جائیں۔ لائنوں میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ چھینا چھپٹی نہیں کر سکتے۔ بازار سے چیزیں لے لیتے ہیں۔ پیسوں کو کیا کریں گے۔ اس قیامت کو دیکھ کر پیسوں کا اب کون خیال کرے گا۔ اب وقت گزارنے والی بات ہے۔

سہیل مسعود: اگر حکومتیں لائن آف کنٹرول کھولتی ہیں تو ہم جو جوان ہیں وہ تو ضرور آ سکتے ہیں۔ بزرگوں کا معاملہ دوسرا ہے۔

ریاض احمد: اگر کسی جگہ سے سرحد کھلتی ہے تو آپ آ سکتے ہیں اس جگہ سے۔

بی بی سی: ریاض صاحب آپ کتنے عرصے بعد اپنے چچا زاد بھائی سہیل مسعود سے بات کر رہے ہیں؟

ریاض احمد: ہم دو تین ماہ بعد۔ دو تین ماہ پہلے ہماری بات ہوئی تھی۔ زلزلے سے پہلے بات ہوئی تھی۔

بی بی سی: سہیل صاحب آپ کو اپنے رشتہ داروں کے بارے میں اطلاع کب ملی؟

سہیل مسعود: جی اطلاع تو اب ملی ہے کہ 119 رشتہ دار شہید ہوئے ہیں، ریاض صاحب کی بیٹی شہید ہوئی ہے۔

بی بی سی: آپ دونوں صاحبان بتائیں کے اگر لائن آف کنٹرول کھول دی جاتی ہے تو کس حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

ریاض احمد: مصیبت کی اس گھڑی میں ایک دونوں اطراف کے لوگ ملتے ہیں تو متاثرہ خاندانوں کو اس سے بڑھ کر اور سہارا کیا ہوگا۔

سہیل مسعود: مجھے تو مصیبت کی اس کھڑی میں وہاں ہونا چاہیے تھا۔ اللہ کے کام دخل تو کوئی نہیں دے سکتا۔ لیکن ہم اپنے مصیت زدہ رشتہ داروں کو دلاسہ تو دے سکتے ہیں۔

بی بی سی: ریاض صاحب آپ یہ بتائیں کے کس عمر کے لوگوں کی زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں؟

ریاض احمد: زلزلے میں زیادہ تر کم عمر بچے ہلاک ہوئے ہیں جو سکوں اور کالجوں میں پڑھتے تھے۔ زیادہ تر کی عمریں 15/ 16 سال تک تھیں۔ مثلاً ایک سکول میں 300/ 400 بچے پڑھتے تھے اور جب زلزلے کی وجہ سے چھت گِری تو دو تین ہی زندہ باہر نکل سکے۔ چار چار سو، پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار بچہ ایک ایک سکول میں ہلاک ہوا ہے۔ بڑی عمر کے لوگ زلزلے سے دور بھاگتے ہوئے مکانوں کے ملبے کے نیچے آ کر ہلاک ہوئے۔ کشمیر میں سب سے زیادہ تر نقصان مظفرآباد ضلع میں ہوا ہے۔ اس کے ارد گرد کے دیہات میں ایک مکان بھی نہیں بچا ہے۔

66دور کے لوگ
ایل او سی کے پار سے جلد امداد کے منتظر
66پاک انڈیا مذاکرات
تلخ ماحول میں مثبت نتائج کے امکانات کم ہیں
66زلزلہ، سیاست، سفارت
شاید بھارت بھی پاکستانی امداد قبول نہ کرتا
66لکڑی، سیمنٹ کا فرق
مظفر آباد سے باغ تک عامر خان نے کیا دیکھا
66ایل او سی کی رکاوٹ
زلزلہ: پاک بھارت فوجی شراکت ممکن نہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد