کنٹرول لائن پر بات چیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان سنیچر کو کنٹرول لائن پر پابندیاں نرم کرنے کے متعلق باضابطہ بات چیت شروع ہورہی ہے۔ لیکن یہ بات چیت دونوں ممالک کے دفتر خارجہ کے ترجمانوں کے حالیہ بیانات سے پیدا ہونے والے تلخ ماحول میں ہورہی ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ کوئی ٹھوس پیش رفت شاید ہی ہوسکے۔ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے فوری بعد دونوں جانب سے سیاست دانوں کے بیانات سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ لیکن دفتر خارجہ کے ترجمانوں کے حالیہ بیانات سے صورتحال اس امید کے برعکس لگ رہی ہے۔ بھارتی ترجمان نے اٹھارہ اکتوبر کو ایک بیان میں پاکستان کے زیرانتظام شمالی علاقہ جات کے شہر گلگت میں سیکورٹی فورسز اور طلبا کے درمیاں تصادم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بھارت توقع کرتا ہے کہ پاکستانی فورسز انسانی حقوق کے عالی اصولوں کا خیال رکھیں گی اور بھارت صورتحال پر نظر رکھے گا،۔ گلگت میں فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے کئی روز سے کرفیوں بھی نافذ ہے۔ پاکستانی ترجمان نے ان کے تبصرے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے سخت غصے کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ گلگت یا بلتستان میں ہونے والا کوئی واقعہ بنیادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہے۔ بعض مبصرین دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں کے بیانات کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی جانب سے حالات میں بہتری لانے کے لیے کیے گئے اقدامات اور ظاہر کی گئی خواہشات کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے ترجمانوں کے بیانات سے انہیں ایسا نظر آرہا ہے کہ ایک بار پھر خارجہ وزارتوں کے ’بابو‘ غیر ضروری سرگرمیوں سے ماحول کو پرانی اور کشیدہ صورتحال کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آٹھ اکتوبر کو پاکستان اور بھارت کے کچھ علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد بھارت نے امدادی سامان بھیجا جو پاکستان نے قبول کرلیا۔ پاکستان میں ہیلی کاپٹروں کی قلت کی وجہ سے بھارت نے ہیلی کاپٹر دینے کی پیشکش بھی کی لیکن پاکستان نے کہا کہ بھارتی ہیلی کاپٹر ان کے پائلٹوں کے بغیر قبول ہیں جس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی۔ بھارتی میڈیا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب پاکستان حکومت نے امریکہ اور برطانوی ہیلی کاپٹر ان کے پائلٹوں سمیت لیے ہیں تو بھارت کے پائلٹس کو اجازت کیوں نہیں دی؟ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ اگر بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پاکستانی پائلٹ جائیں تو کیا انہیں اجازت ہوگی۔ صدر نے بعد میں خود ہی کہا تھا کہ انہیں دو سو فیصد یقین ہے کہ بھارت اس کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔ زلزلے کے بعد جب میڈیا میں یہ تبصرے اور باتیں آنا شروع ہوئیں کہ دونوں ممالک کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ ’زلزلہ سفارتکاری‘ سے فائدہ اٹھائیں۔ تو صدر جنرل پرویز مشرف نے پیشکش کی کہ دونوں ممالک منقسم کشمیر کی کنٹرول لائن پر پابندیاں نرم کریں اور کشمیریوں کو آپس میں ملنے اور مصیبت کی گھڑی میں ایک دوسرے کی مدد کی اجازت دی جائے۔ بھارت نے اس کے بدلے کنٹرول لائن پر امدادی مرکز قائم کرنے کا اعلان کردیا اور صدر مشرف کی تجویز کے متعلق پاکستان کی وزارت خارجہ سے باضابطہ خط ملنے کا انتظار کیا۔ بھارت نے بھی جس طرح کے اقدامات کیے وہ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق ’نمبر گیم‘ کا چکر تھا۔ ان کے مطابق بھارتی وفد کو بات چیت کے لیے اسلام آباد بھیجنے کے فیصلے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی۔ اس دوران کافی عرصے بعد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ستائیس اکتوبر کو سرکاری طور پر مختلف شاہراہوں پر نصب لائیٹس کے کھمبوں میں نئے کپڑوں پر تازہ لکھائی والے وہ بینر بھی لگ گئے۔ جن پر لکھا تھا: ’بھارت کشمیر سے نکل جاؤ‘ ’کشمیر میں بھارتی فوج ظلم بند کرے اور انسانی حقوق کا احترام کرے۔‘ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے میں دونوں ممالک کے ترجمانوں کی بیان بازی سے ماحول میں مزید تلخی پیدا ہوئی اور اب ایسے تلخ ماحول میں ہونے والی بات چیت میں اگر کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو وہ ایک سیاسی معجزہ سے کم نہیں ہوگا۔ | اسی بارے میں ایل او سی کھل بھی گئی تو۔ ۔ ۔!21 October, 2005 | قلم اور کالم ’اپنا علاقہ استعمال نہیں ہونے دینگے‘ 21 October, 2005 | پاکستان لائن آف کنٹرول پر نیا ’تنازعہ‘20 October, 2005 | پاکستان ایل او سی: امدادی مراکز کی تیاریاں 24 October, 2005 | انڈیا امدادی ہسپتال کی تیاریاں مکمل24 October, 2005 | انڈیا مراکز منگل سے کام کر سکتے ہیں 23 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||