ایل او سی: امدادی مراکز کی تیاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں فوج نے کنٹرول لائن پر تین مجوزہ مقامات پر زلزلہ زدگان کے لیے امدادی مراکز کھولنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی مدد کے لیے ہندوستان نے گزشتہ ہفتے کنٹرول لائن پر امدادی کیمپ قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی ۔ اس تجویز کے تحت کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے باشندے مقررہ مقامات پر ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔ بھارتی فوج کے اعلٰی حکام کے مطابق کنٹرول لائن پر اڑی میں امن سیتو کے علاوہ ٹٹوال ، ٹنگڈار اور چکن دا باغ علاقوں میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں سب سے زیادہ بارودی سرنگیں پونچھ اور ٹنگڈار کے علاقوں میں ہیں۔ دسمبر2003 میں ہندوستان کی پارلیمنٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں کافی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور حملے کے فوراً بعد کنٹرول لائن کے آس پاس کئی لاکھ بارودی سرنگیں بچھا دی گئی تھیں۔ تاہم بعد ازاں گزشتہ دونوں دونوں ملکوں کے درمیان جاری امن مذاکرات سے حالات میں بہتری آئی تو جموں کے بیشر علاقوں سے بارودی سرنگیں ہٹا دی گئيں۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستانی فوج دریائے نیلم پر ایک عارضی پل بھی تیار کر رہی ہے جو ٹٹوال گاؤں کو پاکستان کے چلیانی گاؤں سے جوڑے گا۔ فوج کے ایک افسر کے مطابق پل کی تعمیر کے لیے سامان وہاں پہنچ چکا ہے اور حکم ملتے ہی پل بنانے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ فوج نےاس پل کے راستے خچروں کی مدد سے امدادی سامان پہنچانے کا بھی منصوبہ تیار کیا ہے۔ حکام کے مطابق اگر ضرورت محسوس ہوئی تو دریائے نیلم سے ’ موٹر بوٹس‘ کی مدد سے بھی امدادی سامان ایل او سی کے پار بھیجا جائے گا۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے پونچھ اور کمان پوسٹ کی طرف جانے والی سڑک بری طرح متاثر ہوئی تھی اور فی الوقت یہ راستہ بند کر دیا گیا ہے لیکن بھارتی فوج کے جوان اسے کھولنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||