BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 October, 2005, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت نے جواب نہیں دیا: دفترِخارجہ

ایل او سی پر گشت کرتے بھارتی فوجی
پاکستان کے دفترِخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ بھارت نے زلزلے سے متاثرہ کشمیر کو منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو پانچ مقامات سےکھولنے کی پاکستانی تجویز کا ابھی تک جواب نہیں دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر تین جگہ میڈیکل کیمپ قائم کرنے کی تجویز پر اپنے رد عمل سے بھارت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دے گا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کی تجاویز میں فرق ہے اور ان کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ان کے مطابق پاکستان کی تجویز میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کو اس مصیبت کی گھڑی میں لائن آف کنٹرول کے آر پار سفر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ وہ ایک دوسرے سے مل سکیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کی تجاویز پر ابھی تک با ضابطہ بات چیت شروع نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر بھارت رضامند ہو جائے تو پاکستان آج ہی ان تجاویز پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

تسنیم اسلم نے کہا پاکستان نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ بھارت کی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان تجاویز پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے میں کچھ وقت تو لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لائن آف کنٹرول کے آر پار بچھڑے ہوئے کشمیری خاندانوں کو اس سانحے کے بعد ایک دوسرے سے ملایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تجویز صرف کشمیریوں کے لیے ہے۔

تسلیم اسلم نے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا کہ پاکستان اور بھارت دونوں اپنی اپنی تجاویز پر بات چیت میں تاخیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے لائن آف کنٹرول کھولنے کی جو تجویز دی تھی وہ محض ایک خیال تھا جس پر عملدرآمد کے لیے دفتر خارجہ کو بہت سی باتیں طے کرنی ہوتی ہیں اور اس بات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کون سے مقامات کھولنے ہوں گے اور لوگ کس طرح ان مقامات کو عبور کریں گے۔

ترجمان نے بھارتی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی ان خبروں کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج نے زلزلے کے پہلے دو دن لائن آف کنٹرول پر فوجی بھیجنے پر صرف کیے اور اس دوران زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد کا کام نہیں کیا۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی فوج نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو نکالنے اور ان کی مدد کرنے میں مثالی کام کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد