ایل او سی پر تین امدادی مراکز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے لائن آف کنٹرول کے تین مقامات پر امدادی مراکز قائم کرنے کے لیے پاکستان کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ اس تجویز پر عمل پاکستان کے جواب پر ہی منحصر ہے۔ لائن آف کنٹرول کھولنے کے سوال پر پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ تجویز موصول ہونے سے قبل ہی ہندوستان نے فوری طور پر تین امدادی مرکز قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ دِلّی میں وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے اسکی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سہولت کی بنیاد پر ایل او سی پر تینوں مقامات منتخب کیے گیے ہیں۔ مسٹر سرنا نے کہا کہ ’حکومت نے اوڑی میں امن پول کے پاس کمان پوسٹ پر، ٹنگڈار میں ٹتھوال کے پاس اور پونچھ میں چکّن دباغ کے پاس امدادی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان مقامات پر زلزلے سے متاثرہ سرحد پار کے لوگوں کو طبّی سہولیات کے ساتھ دیگر امدادی اشیا فراہم کی جائیں گی‘۔ مسٹر سرنا نے مزید کہا کہ ان مراکز کو پچیس اکتوبر تک کام کے لیے تیار کردیا جائیگا اور آنے والوں کو طبّی سہولیات، غذائیں، پانی اور عارضی طور پر رہائشی اشیاء فراہم کی جائیں گی۔ لیکن انہوں نے سرحد پار سے آنے والوں کے لیے بعض شرائط بھی پیش کیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’مرکز پر سرحد پار سے آنے والوں سے ضروری تفتیش کی جائيگی۔ وہ دن کی روشنی میں آئیں گے اور علاج و امداد کے بعد انہیں واپس جانا ہوگا۔ ہندوستانی شہریوں کو بھی ان مقامات پر اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت ہوگی۔ یہ ایک نئی تجویز ہے اور پاکستان کی رضامندی کے بغیر اس پر عمل ممکن نہیں ہے اور ہمیں ان کے جواب کا انتظار ہے‘۔ مسٹر سرنا کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ فیصلہ اسی پالیسی کے تحت ہے کہ کشمیریوں کے درمیان عوامی رابطے بحال ہوں اور فی الوقت زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے یہ اور بہتر ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||