مراکز منگل سے کام کر سکتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے آر پار نقل و حرکت کے منصوبے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ چند روز پہلے پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف نے لائن آف کنٹرول کے آر پار نقل و حرکت آسان بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ حالیہ تجویز لائن آف کنٹرول پر اہم جگہوں پر امدادی کیمپ لگانے کی ہے۔ گزشتہ روز بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ کیمپ تیار ہیں اور اگر پاکستان نے منظوری دے دی تو وہ منگل سے کام شروع کر دیں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار سنجے داس گپتا کا کہنا ہے کہ اگر کیمپوں نے کام شروع کر دیا تو خوراک، پینے کا پانی اور ٹینٹوں جیسی اہم ضروری چیزیں لائن آف کنٹرول کے پار سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آسانی سے بھیجی جا سکتی ہیں۔ اس طرح لائن آف کنٹرول اب لائن آف کونٹیکٹ کا کام کرے گی۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر تین مقامات پر کشمیریوں کے لیے امدادی کیمپ لگانے کا اعلان کیا ہے۔ زلزلے کے بعد کشمیر میں دونوں ملکوں کے درمیان جاری اس سفارتی مقابلے کے ہی سلسلے میں پاکستان نے یہ سہولت پانچ مقامات پر دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تجویز کے مطابق تین مراکز کھولنے کی تیاری مکمل کرچکی ہے۔ بھارتی فوج کے ترجمان ہیمنت جونیجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم مقررہ تاریخ تک سب تیاری مکمل کر لیں گے۔ ہم مقررہ تاریخ تک نقل و حرکت کے ان مراکز پر ضرورت کے مطابق بنیادی ڈھانچہ مکمل کر لیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ امدادی سامان ان علاقوں تک لے کے شہری انتظامیہ آئے گی اور اس کے آگے اس کا انتظام فوج سنبھال لے گی۔ بھارت کے زیرِ انتظام چند علیحدگی پسند گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے اور اس طرح کے مزید امدادی کیمپوں کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل دِلّی میں وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سہولت کی بنیاد پر ایل او سی پر تینوں مقامات منتخب کیے گیے ہیں۔ مسٹر سرنا نے کہا کہ ’حکومت نے اوڑی میں امن پول کے پاس کمان پوسٹ پر، ٹنگڈار میں ٹتھوال کے پاس اور پونچھ میں چکّن دباغ کے پاس امدادی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان مقامات پر زلزلے سے متاثرہ سرحد پار کے لوگوں کو طبّی سہولیات کے ساتھ دیگر امدادی اشیا فراہم کی جائیں گی‘۔ مسٹر سرنا نے مزید کہا کہ ان مراکز کو پچیس اکتوبر تک کام کے لیے تیار کر دیا جائیگا اور آنے والوں کو طبّی سہولیات، غذائیں، پانی اور عارضی طور پر رہائشی اشیاء فراہم کی جائیں گی۔ لیکن انہوں نے سرحد پار سے آنے والوں کے لیے بعض شرائط بھی پیش کیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’مرکز پر سرحد پار سے آنے والوں سے ضروری تفتیش کی جائيگی۔ وہ دن کی روشنی میں آئیں گے اور علاج و امداد کے بعد انہیں واپس جانا ہوگا۔ ہندوستانی شہریوں کو بھی ان مقامات پر اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت ہوگی۔ یہ ایک نئی تجویز ہے اور پاکستان کی رضامندی کے بغیر اس پر عمل ممکن نہیں ہے اور ہمیں ان کے جواب کا انتظار ہے‘۔ |
اسی بارے میں ایل او سی پر تین امدادی مراکز22 October, 2005 | انڈیا برسوں بعد کشمیریوں کے رابطے19 October, 2005 | انڈیا حریت خوش، جماعت معترض19 October, 2005 | پاکستان پیشکش خوش آئند ہے: میر واعظ18 October, 2005 | پاکستان بھارت: خیرمقدم، حریت خوش، جماعت معترض18 October, 2005 | پاکستان ایل او سی کھولنے کی تجویز: ایک جائزہ20 October, 2005 | پاکستان ’ تعمیرِ نو میں وقت لگے گا‘21 October, 2005 | پاکستان ’زلزلہ زدگان کو نظرانداز کیا گیا‘20 October, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||