’سب آگے بھیج دیتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی فوج متاثرہ علاقوں کا سروے کر کے متاثرین میں امداد کی فراہمی کے لیے پرچیاں جاری کرتی ہے۔ لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کرنے کے لیے فوج نے مختلف علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔ پہاڑوں سے اتر کر آنے والوں کو ان کیمپوں تک پہنچنے میں کے لیے گھنٹوں اور دنوں کا پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ امدادی سامان لینے کے لیے روزانہ سینکڑوں لوگ ان کیمپوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں بچے بوڑھے جوان عورتیں سبھی شامل ہیں۔ سارے متاثرین یہ شکایت کرتے ہیں کہ چٹیں جاری ہونے کے بعد بھی انہیں سامان نہیں ملا۔ محمد بشیر کا تعلق مظفر آباد سے تیس کلومیٹر دور وادی جہلم کے گاؤں سنی کوٹ سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں اٹھارہ تاریخ کو ایک چٹ دی گئی تھی جس پر لکھا گیا تھا کہ انہیں ترپال اور ٹینٹ کی ضرورت ہے لیکن انہیں یہ چیزیں نہیں ملیں۔ ان کے بقول انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ پہلی یونٹ نے دیا تھا اور اب دوبارہ چٹیں جاری کی جائیں گی۔ محمد بشیر نے بتایا کہ پورے علاقے میں سات گاؤں ہیں جن کی کل آبادی پندرہ نفوس پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کوئی امداد اس وقت تک ایک پیسے کی بھی نہیں گئی، لوگ سردی سے مر گئے ہیں، ٹینٹ وغیر ہ جو ہیں ان کا بہت بڑا مسئلہ ہے، راشن کا مسئلہ ہے‘۔ محمد مسکین کا تعلق سرینگر جانے والی سڑک چناری قصبے سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں پچیس تاریخ کو چٹیں ملی تھیں اور کٹھائی آنے کے لیے کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کٹھائی پہنچنے پر انہیں دوبارہ آنے کے لیے کہا گیا لیکن اگلے دن انہیں کہا گیا کہ ’کوئی راشن ماشن نہیں ہے‘۔ محمد مسکین نے بتایا کہ انہیں ایک اور قصبے کی طرف بھیجا گیا لیکن وہاں پہنچنے پر کہا گیا کہ چناری والوں کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے کو تئیس روز ہو گئے ہیں اور کسی کو کوئی امداد نہیں ملی۔ بہت سے علاقے اب بھی ایسے ہیں جہاں ابھی کسی کو چٹیں نہیں دی گئیں۔ ان علاقوں کے لے لوگوں کو بھی ریلیف کیمپ تک طویل سفر کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ بیڈی سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمان جو اپنے گاؤں سے پیدل سفر کرکے مظفر آباد پہنچے تھے کہتے ہیں ’جس تنظیم کے پاس جس مرکز میں جاتے ہیں وہاں سے دھکے مارتے ہیں، کہتے ہیں شناختی کارڈ لاؤ، پرچیاں لاؤ، ہم کس سے لائیں، فرشتے ہمارے کو دیتے نہیں ہیں ہمارے شناختی کارڈ ملبے میں دب گئے ہیں، ہمارے نمائندے ظالم اور جابر ہیں وہاں جہاز گئے لیکن ان کو غائب کر دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ مظفر آباد آنے جانے پر چار روز لگاتے ہیں۔ ایک اور شخص محمد سلیمان نے بتایا کہ وہ بھی خالی ہاتھ اپنے گاؤں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جواب دیا گیا کہ ان کے پاس پرچی نہیں ہے جو گاؤں سے ملتی ہے۔ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ زلزلے کو تین ہفتے گزر چکے ہیں اور امدادی کام زیادہ منظم ہونا چاہیے تھا جو اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ |
اسی بارے میں ہلاک شدگان کی تعداد تہتر ہزار02 November, 2005 | پاکستان امدادی کاموں میں افراتفری02 November, 2005 | پاکستان ’بچیوں کو بچالو‘02 November, 2005 | پاکستان وعدہ جو وفا ہوا02 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||