زلزلے سے 17000 بچے فوت ہوئے: یونیسف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں کے عالمی ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلہ میں سترہ ہزار بچے سکول کی عمارتوں کے نیچے دب کی ہلاک ہو گئے ۔ یونیسف نے کہا کہ بچ جانے والے بچوں میں بیس ہزار ایسے ہوں گے جو ساری زندگی کے لیے معذور ہو گئے۔ ان میں کئی کے اعضا کاٹ دیئے گئے ہیں۔ یونیسف کے مطابق جو بچے اس زلزلہ میں بچ گئے ان میں ایک بڑی تعداد زخمی ہیں اور کچھ اپنے والدین ، دوستوں اور رشتہ داروں کے مرنے کی وجہ شدید صدمے کا شکار ہیں۔ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ اگر بچ جانے والوں کے لیے علاج، صاف پانی اور حفاظتی ٹیکوں کا بر وقت بندوبست نہ کیا گیا تو مزید بچے مر سکتے ہیں۔ اس زلزلہ میں پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں پچپن ہزار لوگ ہلاک اور اٹھہتر ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کے اندازوں کے مطابق زلزلے میں چھ ہزار سات سو سکول متاثر ہوئے۔ زلزلہ ایسے وقت آیا تھا جب بچے سکول میں پڑھائی کے لیے جمع ہو چکے تھے۔ یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر این ونیمن کے مطابق جو بچے بچ گئے ہیں وہ شدید صدمے میں ہیں۔ اس زلزلے میں ان کے دوست، استاد اور غزیز و اقارب ہلاک ہو گئے ہیں۔ یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اگر بچ جانے والے بچوں کی بروقت امداد نہ دی گئی، تو ان کی زندگیوں کو ایک مرتبہ پھر خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے دنیا سے پانچ سو پچاس ملین ڈالر کی اپیل کی ہے لیکن اسے ابھی تک 327 ملین ڈالر کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ: چار بچوں کی زندگی کی جنگ 16 October, 2005 | پاکستان بالا کوٹ، بچے ابھی بھی ملبے میں 09 October, 2005 | پاکستان لاوارث بچےحکومت کی ذمہ داری 17 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: فوری امداد کی ایک اور اپیل30 October, 2005 | پاکستان ’خدا کے لیے میرے بچے نکال دو‘10 October, 2005 | پاکستان بچے ابھی تک سکول میں دفن ہیں28 October, 2005 | پاکستان ’بےسہارا بچے سو سے زیادہ نہیں‘31 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||