زلزلہ: فوری امداد کی ایک اور اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے بچوں کے بارے میں ادارے یونیسف کی سربراہ نے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر حفاظتی انتظامات نہ کیے گئے تو پاکستان اور کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بیماریاں پھیلنے کی وجہ سے ہزاروں اموات واقعہ ہو سکتی ہیں۔ یونیسف کی سربراہ این وینیمن نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورے کرتے ہوئے ہنگامی طور پر مزید امداد کے لیے تازہ اپیل کی ہے۔ این وینیمن نے کشمیر اور دیگر علاقوں میں جہاں زلزلہ آیا تھا صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ بے گھر اور زخمی ہونے والے ہزاروں افراد کو بیماریوں سے بچانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے فوری طور پر مزید امداد چاہیے۔
زلزلے میں بہت سے سکول تباہ ہو گئے تھے اور ہزاروں بچے ہلاک ہوئے تھے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے یونیسف کی سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے کے متاثرین کی نصف تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے تقریباً آٹھ لاکھ لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اگلے چار ہفتوں میں سردی سے بچاؤ کے لیے خیمے اور گرم کپڑے فراہم کر دیے جائیں۔ | اسی بارے میں مصنوعی اعضاء کم اور مہنگے 28 October, 2005 | پاکستان باغ: صرف پچیس فیصد خیمے تقسیم 28 October, 2005 | پاکستان بچے ابھی تک سکول میں دفن ہیں28 October, 2005 | پاکستان مالی امداد پالیسی میں پھر تبدیلی29 October, 2005 | پاکستان ’یہیں اپنی زندگیاں دوبارہ بنائیں گے‘28 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||