BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 October, 2005, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالی امداد پالیسی میں پھر تبدیلی

متاثرین
حکومت نے زلزلہ متاثرین کی مالی امداد کی پالیسی تبدیل کر دی ہے۔
پاکستان حکومت زلزلہ زدگان کے لیے اعلان کردہ مالی امداد کے اپنے فیصلے کو ایک ہفتے میں دو بار تبدیل کرچکی ہے۔اور بدستور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے مالی امداد کم کرتی جارہی ہے۔

سنیچر کے روز وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں زلزلے سے متاثرہ دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں رہنے والوں کو ایک کمرے کا مکان تعمیر کرنے کے لیے پچیس ہزار روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ جبکہ فی زخمی دس ہزار روپے تقسیم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

زلزلے کے فوری بعد حکومت نے فی ہلاک شدگان ایک لاکھ روپے اور فی زخمی پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن چند روز قبل حکومت نے فیصلہ کیا کہ فی متاثرہ خاندان ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

حکومت کے آئے روز مالی امداد کی مقدار کم کرنے پر متاثرین پہلے ہی شدید غم و غصہ ظاہر کرچکے ہیں جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کی حکومتوں نے بھی متاثرین کی مالی امداد گھٹانے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے شدید زلزلے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا تخمینہ پندرہ نومبر تک لگالیا جائے گا۔ ان کے مطابق تاحال مرنے والوں کی تعداد پچپن ہزار جبکہ زخمیوں کی اناسی ہزار ہوچکی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ ان اعداد وشمار کو کشمیر اور صوبہ سرحد کی حکومتوں نے چیلینج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ زلزلے سے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ انیس نومبر کو اسلام آْباد میں عالمی ڈونر کانفرنس منعقد ہوگی جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان، سابق امریکی صدر بل کلنٹن، عالمی اور ایشیائی بینکوں کے صدور بھی شریک ہوں گے۔

ادھر ایران کے صدر کے سینیئر مشیر اور نائب صدر ڈاکٹر علی سعید لو نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کو بیس کروڑ ڈالر اور دس ہزار خیمے دے گا۔ ان کے مطابق وہ ایک ہزار خیمے اپنے ساتھ لائے ہیں اور باقی ایک ہفتے تک پاکستان پہنچیں گے۔

66عجیب و غریب شہر
صدمے اٹھاتے اٹھاتے لوگ بے حس ہو گئے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد