BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ زدگان کے لیے ’سمارٹ ہٹ‘

سمارٹ ٹینٹ
الرحمان ٹرسٹ نے سمارٹ ٹینٹ اٹھارہ ہزار میں بنایا ہے
زلزلہ متاثرین کے لیے مختلف اداروں نے آہنی جھونپڑیاں متعارف کرائی ہیں جو برفباری میں بھی متاثرین کو موسم کی شدت سے تحفظ دے سکیں گی۔

پاکستان کے معروف آرکیٹکٹ نیئر علی دادا اور ڈاکٹر ہمایوں میاں نے جو جھونپڑی بنائی ہے اس کانام ’سمارٹ ہٹ‘ ہے اور قیمت باون ہزار روپے ہے۔ مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے اخبارات میں کہا گیا ہے کہ لوگ سمارٹ ہٹ کو خرید کر عطیہ کر سکتے ہیں۔

بالا کوٹ میں کام کر رہی ایک تنظیم ’الرحمان‘ نے لوہے کی جھونپڑی اٹھارہ ہزار روپے میں تیار کی ہے اور ان کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنے ہی پیدا کر دہ فنڈز سے فوری طور پر دو سو جھونپڑیاں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں سے پچاس آئندہ چند روز میں متاثرین کو فراہم کر دئیے جائیں گی۔

ڈاکٹر یوسف عباس مرزا چار دن سے اس آہنی جھونپڑی میں سو رہے ہیں اور ان کے مطابق برفباری کے دنوں میں یہ رہائش کے لیے ایک مناسب جگہ ہے تاہم وہ اسے مکان قرار نہیں دیتے بلکہ ان کے مطابق یہ لوہے کا خیمہ ہے۔

انہوں نے اس جھونپڑی کے لکڑی کے دروازے پر لگی کنڈی کھول کر اندر سے دکھایا۔

اس آہنی جھونپڑی یا لوہے کے خیمے کی چھت اور دیواریں ٹین کی ہیں اور اس کا ڈھانچہ چند پائپوں اور سریوں پر کھڑا ہے جنہیں نٹ بولٹ سے جوڑا گیاہے۔

انہوں نے کہا اس خیمے کو چھوٹا بڑا کیا جاسکتا ہے اور آسانی سے باتھ روم اور کچن بناۓ جاسکتےہیں۔

اس جھونپڑی یا خیمے کی دیواروں پر مٹی کا ہلکا سا لیپ بھی تھا جو ڈاکٹر یوسف نے اس خدشہ کے پیش نظر کیا تھا کہ ٹین کی دیواروں سے ٹھنڈ اندر جائے گی لیکن چار روز اس کے اندر سونے کے بعد ان کا یہ خدشہ ان کے بقول غلط ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خیمے کی دیواروں اور چھت سمیت پورے خیمے (جھونپڑی )کو الگ الگ کرنا اور پھرجوڑنا انتہائی آسان ہے اور ایک چھوٹی پک اپ میں پانچ خیمے آسانی سے آجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چند روز کے اندر موسم کی شدت اس علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لےگی اور شدید برفباری میں خیمے لوگوں کو تحفظ فراہم نہیں کر پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوہے کی جھونپڑیاں اوپر پہاڑوں پر تباہ گاؤں میں پہنچائے جاسکتے ہیں اور لوگوں کو ان کے مسمار شدہ گھروں کے نزدیک نصب کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر یوسف نے یہ آہنی خیمہ یا جھونپڑی حکام کو بھی دکھایا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر انہیں ابھی سے بنانا شروع کیاجائے توانہیں بالائی علاقوں میں سپلائی کرکے کئی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کاغان کے بالائی حصوں میں برفباری کا آغاز ہو چکا ہے اور پندرہ نومبر تک باقی علاقوں میں شدید سردی کاآغاز ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خیمے اس برفباری میں تحفظ فراہم نہیں کرسکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ متاثرین کے مقابلے میں خیموں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اتنی بڑی تعداد میں ٹین کے یہ گھر بنانا تو بہت دور کی بات ہے۔

اسی بارے میں
کنٹرول لائن پر بات چیت
28 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد