خطرناک زون کا نئے سرے سے تعین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر مملکت برائے دفاع زاہد حامد نے کہا ہے کہ اسلام آباد زلزلے کے خطرناک ’زون، میں نہیں ہے البتہ مظفرآباد اس میں شامل ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں زلزلہ زدگاں کی امداد کے متعلق بحث کے دوران کہی اور بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد آنے والے ’آفٹر شاکس، ختم ہونے کے بعد مختلف شہروں کے خطرناک زون میں شامل ہونے کے بارے میں نئے سرے سے تعین کیا جائے گا۔ گزشتہ کئی روز سے قومی اسمبلی میں جاری بحث کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے جہاں ’نیٹو، کے فوجی دستے کی پاکستان آمد پر اعتراضات کیے وہاں حکومت پر امدادی کاموں میں تاخیر اور مناسب انتظامات نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ زاہد حامد نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹھ اکتوبر کی صبح سات اعشاریہ چھ کی شدت والا ساڑھے تین منٹ تک جاری رہنے والے زلزلے کے محض بیس منٹ بعد پاکستان فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ایک سو چالیس شدید زخمیوں کو لے آیا تھا۔ ادھر وزیر اعظم شوکت عزیز نے حزب اختلاف کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’نیٹو، کے فوجی پاکستان میں زلزلہ زدگاں کی امداد کے لیے آئے ہیں اور ان میں انجنیئر اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ پارلیمینٹ کے چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ دنیا کے ساٹھ ممالک زلزلہ سے متاثرین کی مدد کی کاروائیوں میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق تاحال دنیا سے ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور اندرون پاکستان سے پانچ اعشاریہ دو ارب روپے جمع ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ شدید زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچپن ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے جبکہ اناسی ہزار کے قریب لوگ زحمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد میں ’عالمی ڈونرز کانفرنس، منعقد کی جائے گی۔ جس میں تعمیر نو کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کی جائیں گی۔ زلزلہ زدگاں کی امداد اور تعمیر نو کے لیے فوج کی انجنیئرنگ سروس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد زبیر کی سربراہی میں قائم کردہ خصوصی ادارے کے پہلے اجلاس میں جمعرات کے روز صدر جنرل پرویز مشرف نے صوبہ سرحد اور کشمیر کے لیے ایک ایک ارب روپوں کی فوری منظوری دی تھی۔ یہ رقم پاکستان کے زیراتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کی حکومتوں کو متاثرین میں تقسیم کرنے اور دور دراز علاقوں میں شدید سردی سے بچنے کے لیے انتظامات کرنے کے لیے استعمال کرنے کو کہا ہے۔ ’ارتھ کوئیک ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی، کے نام سے قائم کردہ اس ادارے نے تباہ حال شہروں کی تعمیر نو کے لیے عالمی اداروں اور مقامی ماہرین سے حکمت عملی بنانے کے لیے مشاورت شروع کردی ہے اور تاحال کوئی ٹھوس منصوبے کو حتمی شکل نہیں دی۔ |
اسی بارے میں امداد کی کمی، محدود آپریشن: یو این28 October, 2005 | پاکستان آخر کتنے پہنچ پائیں گے28 October, 2005 | پاکستان مصنوعی اعضاء کم اور مہنگے 28 October, 2005 | پاکستان ’وعدے ٹھیک پر پیسے کہاں ہیں‘27 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||