BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 10:04 GMT 15:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امداد نہ ملی تو آپریشن محدود‘

ابھی بھی دور دراز علاقوں میں امداد نہیں پہنچ پائی ہے
ابھی بھی دور دراز علاقوں میں امداد نہیں پہنچ پائی ہے
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسے پاکستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے فوری طور پر دو سو پچاس ملین ڈالر کی غیر ملکی نقد امداد نہ ملی تو ادارے کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اپنے آپریشن گھٹانے پڑیں گے جس میں خوراک کی فراہمی بھی شامل ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریلیف آپریشنز کے نگران جان وینڈامورٹیل نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان میں خوفناک زلزلے کے تین ہفتے گزرنے کے باوجود کئی دور افتادہ علاقوں میں بہت سے لوگ ابھی تک امداد کے شدت سے منتظر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اگلے ماہ تک ڈھائی سو ملین ڈالر درکار ہوں گے ورنہ ہم لوگوں کو موت، بیماری اور بھوک سے بچانہیں پائیں گے۔‘

انہوں نے کہا دو روز قبل جینیوا میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لئے منعقد کی جانے والی کانفرنس میں پانچ سو اسی ملین ڈالر کا وعدہ تو کیا گیا ہے مگر اقوام متحدہ کو نقد امداد فورا چاہیے۔

’ہمیں نقد امداد فوری چاہیے۔ اگر یہ امداد نہ ملی تو ہم زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن گھٹانے پر مجبور ہو جائیں گے۔اس میں خوراک کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ابھی تک ہم اقوام متحدہ کے فنڈ میں سے رقوم لے رہے تھے۔ مگر اب ہمارے پاس رقم ختم ہوتی جا رہی ہے۔‘

اقوام متحدہ کے عہدیدار کے مطابق ابھی تک بین الاقوامی برادری کے طرف سے دیے گئے عطیات میں سے صرف بیس فی صد ہی وصول ہوئے ہیں۔

وینڈا مورٹیل کے مطابق وہ کس طرح بتائیں کہ صورتحال اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔

فوری امداد کی ضرورت
 ہمیں دوسرا موقع نہیں ملے گا۔ ہمیں امداد کل چاہیے تھی مگر وہ آج بھی مل جائے تو کچھ زیادہ نہیں بگڑے گا۔ مگر یہ امداد اگر کل آئی تو بہت دیر ہو جائے گی۔ لاکھوں خواتین اور خصوصا بچے نمونیہ، ڈائرہیا اور ناکافی غذا کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ

’ہمیں دوسرا موقع نہیں ملے گا۔ ہمیں امداد کل چاہیے تھی مگر وہ آج بھی مل جائے تو کچھ زیادہ نہیں بگڑے گا۔ مگر یہ امداد اگر کل آئی تو بہت دیر ہو جائے گی۔ لاکھوں خواتین اور خصوصا بچے نمونیہ، ڈائریا اور ناکافی غذا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ہم سب کو اس طرح سوچنا چاہیے کہ اگر کسی بچے کو نمونیہ ہو جاتا ہے اور اگر وہ ہمارا بچہ ہو تو کیسا محسوس ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی کی ٹانگ کاٹنی پڑے اور ہم یہ سوچیں کہ یہ ہماری ماں کی ٹانگ ہے تو ایسے وقت میں ہم کیا کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ موقع سوچ بچار کا نہیں ہے اور نہ ہی مذید عطیات کے وعدے کرنے کا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے خوارک کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے نگران میتھیو ہالنگٹن نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے دو مزید ہیلی کاپٹر امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے کل پاکستان پہنچ جائیں گے جس کے بعد ان ہیلی کاپٹروں کی تعداد آٹھ ہو جائے گی۔اس کے علاوہ بھاری فضائی امداد پہنچانے والا اقوام متحدہ کا ہیلی کاپٹر بھی کل پاکستان پہنچ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر امدادی کام کر رہے ہیں۔ہالنگٹن کے مطابق اقوام متحدہ متاثرہ علاقوں میں بذریعے ٹرک سامان پہنچا رہا ہے اور جن علاقوں کا زمینی راستہ بند ہے وہاں فضائی امداد پہنچائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے دور افتادہ علاقے تین ہفتوں میں یا زیادہ سے زیادہ چار ہفتوں میں برفباری کی وجہ سے صورتحال بہت خراب ہو جائے گی جس کے باعث یہ اقوام متحدہ کی ترجیح ہے کہ پہلے ان علاقوں میں سامان پہنچایا جائے کیونکہ چار ہفتے بعد وہاں امدادی سامان پہنچانا تقریبا نا ممکن ہو جائے گا۔

اس موقع پر لوگوں کو خیمے فراہم کرنے والے سیکشن کے نگران کرس کے مطابق اس حوالے سے صورتحال سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایک لاکھ دس ہزار خیمے بین الاقوامی برادری کی طرف سے فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ دو لاکھ خیمے مزید فراہم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ پاکستانی حکومت نے مقامی طور پر ساٹھ ہزار خیمے حاصل کئے ہیں اور خیموں کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے اور مقامی پیداوار تیز کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ خیمے تمام متاثرہ علاقوں میں برفباری اور شدید سردی ہونے تک فراہم کئے جا سکیں گے۔

کرس کے مطابق ان کے خیال میں کم از کم چھ لاکھ خیموں کی ضرورت ہے اور ابھی تک فراہم کیے جانے والے خیموں کی تعداد اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔انہوں نے کہا کہ تیس لاکھ سے زائد بے گھر ہونے والے افراد کو چھت فراہم کرنے کے لیے یہ خیمے بہت کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیموں کی ناکافی فراہمی کے بعد امدادی ایجنسیوں نے بے گھر ہونے والے افراد کو زلزلے سے متاثرہ گھروں کی مرمت کے لئے مرمتی کٹ دینے کا کام بھی شروع کیا ہے تاکہ کچھ لوگ اپنے گھروں کو مرمت کے بعد رہنے کے قابل بنا سکیں۔

66برفباری سے قبل
کیا وادئ نیلم والے امداد تک پہنچ سکیں گے؟
66کاغان میں تباہی
کاغان کی وادی میں تباہی اب سامنے آ رہی ہے
66جنیوا کانفرنس ناکام؟
نیویارک میں سخت مایوسی ہے: احمد کمال
66جوش و خروش کہاں؟
زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے
66زلزلہ، مکمل کوریج
زلزلے میں کہاں کیا ہو رہا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد