کوئٹہ: ’فرقہ واریت‘ میں ایک ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں بدھ کی صبح نامعلوم افراد نے ایک استاد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کا واقعہ ہے۔ مرید عباس ایک سرکاری سکول میں استاد تھے اور ان کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے بتایا گیا ہے۔ وہ سریاب روڈ پر غریب آباد کے علاقے میں گھر سے سکول کے لیے نکلے ہی تھے کہ راستے میں ریل کی پٹڑی کے پاس دو نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئے۔ کوئٹہ میں حضرت علی کی شہادت کے جلوس کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس دوران تحفظ عزاداری کونسل کے مرکزی صدر رحیم جعفری نے کہا ہے کہ دو سال پہلے عاشورہ کے جلوس پر حملے کے بعد سے فرقہ وارانہ تشدد کا یہ سترواں واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑے واقعات کے بعد حملہ آوروں نے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ رحیم جعفری نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر احتجاج ضرور کریں گے کیونکہ ماضی کے ہر واقع کے بعد انتظامیہ انہیں قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دہانی کراتی ہے لیکن عملی طور پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ بدھ کے واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں کوئٹہ: قتل پر اہل تشیع کا احتجاج 11 August, 2005 | پاکستان شیعہ عالمِ دین کو گولی مار دی گئی 01 April, 2005 | پاکستان کالعدم تنظیم کے چار ارکان گرفتار30 August, 2005 | پاکستان فرقہ واریت: سید نور کی متنازع فلم03 September, 2004 | پاکستان علامہ ساجد نقوی کا کھلا خط09 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||