BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 December, 2003, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
علامہ ساجد نقوی کا کھلا خط

شیعہ رہنما ساجد علی نقوی نے دعوی کیا ہے کہ ان کی گرفتاری سے مولانا اعظم طارق کے قتل سے دور کا بھی واستہ نہیں اور پس پردہ حکومت انہیں شیعہ مخالف تنظیموں سے مذاکرات کرنے اور دو بڑے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کررہی ہے۔

ایک خط میں کالعدم اسلامی تحریک (سابقہ تحریک جعفریہ پاکستان) کے سربراہ علامہ ساجد نقوی نے شیعہ علما اور اکابرین کے نام لکھا ہے جبکہ دوسرا خط شیعہ تنظیم عزاداری کونسل نے علما ، غیر ملکی سفیروں، سیاستدانوں اور سینیر صحافیوں کے نام بھیجا ہے جس میں پہلےخط کے کچھ حصے شامل ہیں۔

بی بی سی کو ملنے والے علامہ ساجد نقوی کے خط کے مطابق حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت وہ ان سے دو بڑے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔

ایک مطالبہ یہ ہے کہ وہ دوسرے فرقے کے افراد کے ساتھ مذاکرات پر بیٹھیں اور ان کے پیش کردہ مطالبات کو تسلیم کرکے ان کو راضی کریں جن کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ سخت ترین سزاؤں اور پابندیوں کا قانون بنا کر نافذ کیا جاۓ۔

(اس بات کا اشارہ اس طرف ہے کہ شیعہ فرقہ کے علما چند صحابہ کرام پر جو تنقید کرتے ہیں اہل سنت تنظیمیں اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں اور اس سلسلہ میں قانون سازی کروانا چاہتی ہیں۔)

علامہ ساجد نقوی کے خط کے مطابق حکومت دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ فرقہ وارانہ قتل وغارت میں گرفتار شدہ افراد کے لیے عام معافی کے اعلان کو تسلیم کریں۔

تاہم ساجد نقوی نے اپنے خط میں حکومت کے ان مطالبات پر تنقید کی ہے اور اپنے مخالفین کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور مکتب شیعہ کے لوگ اپنی تحریک کو منظم کریں۔

تاہم ساتھ ہی انھوں نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ مطلوبہ قانون سازی کے لیے او دیگر پابندیاں لگانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت شیعہ قوم کی دیگر شحصیات اور جماعتوں سے بات کریں جن میں واعظین، ذاکرین، ماتمی انجمنیں اور دیگر شیعہ جماعتیں، تنظیمیں اور قوم کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت یہ موضوع ان کے ساتھ زیر بحث لا کر کوئی نتیجہ نکالے۔

ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ چند سالوں سے ملک میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کی شدید لہر میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے سرکردہ اڑھائی ہزار سے زیادہ افراد جن میں علما ، ذاکرین ، بیروکریٹس ، ڈاکٹر ، انجینیر اور وکلا قتل ہوگۓ جن کے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں ملک میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔

بلاشبہ ساجد نقوی اتحاد و یگانگت میں یقین رکھتے ہیں اور اسی میں ملک و قوم کی سلامتی اور ترقی کا راز دیکھتے ہیں اسی لیے مسلسل وحدت اور یکجہتی کے پلیٹ فارموں میں حصہ لیتے رہےاور آج بھی ملک کے مؤثر ترین اتحاد متحدہ مجلس عمل میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔

علامہ ساجد نقوی نے ملت جعفریہ کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حکومت ہمیں فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہ کے افراد کے ساتھ بٹھانا چاہتی ہے اور اس گروہ کے پیش کردہ مطالبات تسلیم کروانا چاہتی ہے تاکہ انہیں راضی کیا جاسکے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ انھوں نے نے ہر میدان میں فرقہ پرستوں کے کرتوتوں کی مذمت کی ہے اور انہیں بے نقاب کرکے حکومت کو متوجہ کیا ہے لیکن حکمرانوں نے بجاۓ اس کے کہ ملک دشمن اور امن دشمن دہشت گردوں کو اپنا ہدف بناتے انھوں نے ملت جعفریہ کو اپنا نشانہ بنا کر بیلنس کی ظالمانہ پالیسی کو اپنا رکھا ہے۔

عزاداری کونسل کے جاری کردہ خط کےمطابق ساجد نقوی مکتب تشیع کے مخالف منصوبہ بندی ، اس کی تبلیغ میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش اور عزاداری پر پابندی لگانے والے اقدامات کی کبھی حمایت نہیں کرسکتے۔

عزاداری کونسل کے مطابق ساجد نقوی دیگر مسالک کے نمائیندگان اور بزرگوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور یہ مذاکرات پہلے کمیٹی کی سطح سے شروع ہوں اور آخر میں قیادت کی سطح پر کیے جائیں۔ کونسل کا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے تو ساجد نقوی کی اس راۓ کو قبول کرلیا تھا لیکن اس کے مطابق اقدام کرنے کے بجاۓ ان پر پابندیاں لگانا شروع کردیں۔

ساجد نقوی کا کہنا ہے کہ ایک اہم مسئلہ جس پر حکومت زور دیتی ہے وہ یہ ہے کہ گرفتار شدہ دہشت گردوں اور قتل و غارت کے مجرموں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا جاۓ جبکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ موضوع بھی سب سے زیادہ خطرناک ہےکیونکہ یہ اختیار شرعی طور پر شہدا کے شرعی وارثوں کو حاصل ہے کہ اگر وہ پسند کریں تو قاتلوں کو معاف کردیں جیسا کہ بعض مقامات پر ایسے اقدامات ہوۓ ہیں لیکن اس پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

دوسرے ان کا کہنا ہے کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ یہ دہشت گرد اور سنگدل رہائی کے بعد ایسے ظالمانہ اقدامات سے باز رہیں گے اور ملک و قوم ان کی ظالمانہ شرارتوں سے محفوظ رہے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد