BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 April, 2005, 08:46 GMT 13:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیعہ عالمِ دین کو گولی مار دی گئی

وہ گاڑی جس میں بیٹھے ہوئے منظور نجفی پر فائرنگ کی گئی
وہ گاڑی جس میں بیٹھے ہوئے منظور نجفی پر فائرنگ کی گئی
لاہور میں ایک معروف شیعہ عالم دین علامہ غلام حسین نجفی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔ لواحقین اور شیعہ رہنما اس واقعہ کا محرک فرقہ واریت بتا رہے ہیں۔

بنیادی طور پر سرگودھا سے تعلق رکھے والے پچپن سالہ مولانا غلام حسین نجفی لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں شیعہ مسلک کی مرکزی درسگاہ جامعۃ المنتظر میں استاد تھے اور انہوں نے ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن کے ساتھ ماڈل کالونی میں طالبات کا ایک مدرسہ کھولا ہوا تھا۔

جامعۃ المنتظر کے ایک استاد کے مطابق تقریبا بارہ بجے غلام حسین نجفی ایک پک اپ گاڑی میں ماڈل کالونی کے مدرسے سے نکلے تھے کہ ان کی گاڑی پردو موٹرسائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی اور موقع سے بھاگ گئے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر ریڑھی لگا کر کھڑے ہونے والا ایک شخص بھی حملہ میں شریک تھا۔ مولانا نجفی کی ایک بیٹی گاڑی چلارہی تھی اور دو طالبات بھی گاڑی میں سوار تھیں۔

مولانا نجفی سر میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگئے او ر انہیں پہلے اتفاق ہسپتال اور وہاں سے جنرل ہسپتال لے جایاگیا جہاں پہنچتے ہی وہ دم توڑ گئے۔ ان کی بیٹی اور ایک طالبہ بھی اس واقعہ میں شدید زخمی ہو گئیں۔

جامعۃ المنتظر کے استاد سید عباس شیرازی کا کہنا ہے کہ مولانا نجفی کو چار پانچ سال سے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور وہ شیعہ مخالف تنظیم کی ہٹ لسٹ پر تھے لیکن اس کے باوجود پنجاب حکومت نے انہیں تحفظ اور باڈی گارڈ فراہم نہیں کیے۔

سید عباس شیرازی کا کہنا ہے کہ مولانا نجفی پر سات سال پہلے نواب شاہ میں اور چار سال پہلے لاہور میں بھی قاتلانہ حملے ہوچکے تھے۔

شیعہ طلبا تنظیم امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مظہر جعفری نے کہا کہ ایم ایم اے کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال سے ایک دن پہلے شیعہ علم دین کا قتل تشویشناک ہے اور لاہور میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مولانا غلام عباس نجفی بہت سے مذہبی تصنیفات کے مصنف اور ذاکر بھی تھے۔ انہوں نے پسماندگان میں سات بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑے ہیں۔

پوسٹ مارٹم ہونے کے بعد ان کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی جائے گی تاہم سہ پہر تک اس بارے میں حتمی اعلان نہیں کیاگیا تھا۔

گزشتہ بیس برسوں میں پاکستان میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ واقعات میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد