BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 07:43 GMT 12:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آخر کتنے پہنچ پائیں گے

زلزلے کے متاثرین کے لئے برفباری زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی
زلزلے کے متاثرین کے لئے برفباری زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی
یہ زلزلہ صرف انسانوں کے لئے موت نہیں لایا۔اس نے پہاڑوں کی عزت بھی مٹی میں ملادی ہے۔ اگر یہ منظر دیکھنا ہو کہ کس طرح ایک پہاڑ کی پوری کھال زلزلے کی کند چھری سے اتاری گئی تو اسکے لئے بہترین جگہ مظفر آباد ہے جہاں شہر کے بالمقابل پہاڑ کے کوئی دومیل کے ٹکڑے کی پوری اوپری سطح غائب ہے۔ آٹھ اکتوبر کی صبح اس بھورے پہاڑ پر سینکڑوں درخت اور بہت سی بستیاں تھی لیکن اب یہ سفید اور سرمئی رنگ کے پسے ہوئے پتھروں کے بلند ڈھیر کی طرح ہے جو مسلسل لینڈ سلائڈنگ کے سبب اپنے ہی قدموں میں بہنے والے دریائے جہلم میں اور نیلم ویلی کو جانے والی سڑک پر ملبے کی صورت گرتا رہتا ہے۔

جس جھٹکے نے پہاڑ کا یہ حال کردیا اس نے اس پہاڑ کے پیچھے موجود طویل نیلم ویلی اور اسکے مکینوں کا کیا کیا ہوگا۔اس کی ہی نبض لینے میں مظفرآباد سے نیلم ویلی جانے والی سڑک کے کوئی پانچویں کیلومیٹر تک گیا۔ آگے راستہ بند ہے اور اس کھلے ہوئے حصے پر بھی اوپر سے مسلسل تھوڑی تھوڑی مقدار میں پتھر گر رہے تھے جو ایک بلڈوزر سمیٹ سمیٹ کر دریا میں گرا رہا تھا۔

جیسے ہی راستہ قدرے صاف ہوا عورتوں، بچوں اور مردوں کا ایک گروہ بھاگتا ہوا لینڈ سلائڈ کے اس جانب آگیا جہاں میری وین اور اسکے پیچھے دو تین جیپیں راستہ کھلنے کی منتظر تھیں۔ ان میں سے جتنے لوگ وین میں سما سکتے تھے بٹھا لیےگئے تاکہ انہیں کسی ریلیف کیمپ تک پہنچا دیا جائےاور باقی پیدل چلتے رہے۔

زرا دور جا کر وین روکنی پڑی کیونکہ یہ لوگ مظفر آباد کا بھیڑ بھاڑ والا علاقہ شروع ہونے سے پہلے پہلےاپنی بپتا سنانا چاہ رہے تھے۔

سامان کم، ضرورت مند زیادہ
 مسئلہ یہ بھی ہے کہ چونکہ سامان کم ہے اور ضرورت مند زیادہ اس لئے ہو یہ رہا ہے کہ جس کے کھیت یا زمین پر ہیلی کاپٹر سے جتنا سامان گرا وہ سب اسکا ہے اوروہ ساتھ والے خالی ہاتھ مسلمان بھائی کے لئے سوچتا بھی نہیں ہے کہ اسے بھی کچھ دے دے۔
اشفاق میر

اشفاق میر اپنے ایک چچیرے کے ساتھ کوئی پینتالیس کیلومیٹر دور واقع مسدہ نامی گاؤں سے دس گھنٹے قبل روانہ ہوا۔اس کا کہنا تھا کہ گاؤں میں کچھ لوگوں کے پاس خوراک ہے اور کچھ کے پاس نہیں ہے۔اگرچہ مکئی کی فصل کھڑی ہے لیکن صرف مکئی کتنے دن تک کھائی جاسکتی ہے۔ آٹا پیسنے والی چکیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ ہیلی کاپٹرز سے امداد تو گرائی جارہی ہے لیکن اسکی چھینا جھپٹی میں ہربار وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جنکے بازوؤں میں طاقت ہے، باقی ہیلی کاپٹر اور ایک دوسرے کامنہ تکتے رہ جاتے ہیں۔

اشفاق میر کے کزن شفقت نے بتایا کہ مسدہ گاؤں کی آبادی تقریباً ساڑھے چارسو تھی۔ان میں سے ایک سو چارمرگئے اور ساٹھ زخمی ہوئے جن میں سے بیس کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا گیا، باقیوں کا گاؤں میں ایک میڈیکل ٹیم علاج کررہی ہے۔ یہ ٹیم بھی ہیلی کاپٹر سے لائی گئی۔

شفقت کے بقول گاؤں میں کم لوگ ایسے ہیں جن کے پاس سردیوں کے کپڑے نہ ہوں۔ مسئلہ چھت اور خوراک کا ہے۔ کیونکہ کھانے پینے کا جو تھوڑا بہت سامان گھروں میں ہوتا ہے وہ ملبے تلے یا تو دب گیا یا خراب ہوگیا۔اسی لئے آج صبح تین کنبے اس گاؤں سے نکل کر خیموں اور خوراک کی تلاش میں مظفرآباد کی طرف نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

انکے ساتھ آئے ہوئے ایک اور شخص کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹروں نے کوئی درجن بھر ٹینٹ گرائے لیکن کچھ کھائیوں میں گر گئے اور پانچ چھ لوگوں کے ہاتھ آئے۔ جبکہ اوپر سے گرایا جانے والا راشن تقریباً ضائع ہوجاتا ہے۔

اشفاق میر نے اپنے ساتھی کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ چونکہ سامان کم ہے اور ضرورت مند زیادہ اس لئے ہو یہ رہا ہے کہ جس کے کھیت یا زمین پر ہیلی کاپٹر سے جتنا سامان گرا وہ سب اسکا ہے اوروہ ساتھ والے خالی ہاتھ مسلمان بھائی کے لئے سوچتا بھی نہیں ہے کہ اسے بھی کچھ دے دے۔

اشفاق کے ساتھ کھڑے پیدل قافلے میں شامل ایک اور شخص نے بتایا کہ اسکے گاؤں میں ٹینٹوں کی چھینا جھپٹی کے دوران ایک شخص مر بھی چکا ہے اور لوگ اسکا الزام ساتھ والے گاؤں کے لوگوں پر ڈال رہے ہیں۔

ایک اور شخص نے بتایا کہ گاؤں کے قریب موجود فوجی یونٹ لوگوں کو سامان دے تو رہا ہے لیکن متاثرین کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ فوجی ترتیب وار سامان دے رہے ہیں۔ ہم وہ بدقسمت ہیں کہ ہمارا نمبر اب تک نہیں آیا۔ روزانہ لائن میں لگتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ کل ملے گا کبھی کہتے ہیں ختم ہوگیا۔اس لئے تنگ آ کر ہم نے مظفر آباد پیدل آنے کا فیصلہ کیا۔

زلزلے سے متاثرین، کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا
زلزلے سے متاثرین، کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا

ایک ادھیڑ عمر آدمی نے کہا کہ میرا چچا مرا اور اسکی بیوی اور ایک بیٹا زخمی پڑا ہے۔ میں اپنے پوتے کو دھنی کیمپ تک لے کر آیا۔ فوجیوں سے اسکے لئے بسکٹ کا صرف ایک پیکٹ ملا۔گاؤں میں ہم یہ سنتے ہیں کہ مظفر آباد میں بہت مال آیا ہے۔ جب گاؤں سے کوئی شہر پہنچ جاتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ ہماری ٹیم سروے کے لئے آپ کے علاقے میں گئی ہے اس سے پرچی بنوا کر لائیں۔ اب ہم نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ بس فٹبال بنے ہوئے ہیں۔

ایک اور شخص لیاقت حسین نے بتایا کہ وہ پانڈی پجور کا رہائشی ہے اور تین روز میں یہاں تک پہنچا ہے۔ پانڈی پجور کے علاقے میں پندرہ ہزار سے زائد لوگ ہیں۔ وہاں ابھی تک کچھ لاشیں ملبے میں پڑی ہیں۔ایک تہائی آبادی ہلاک یا زخمی ہوئی ہے۔ اسکے گھر کے چھ افراد مرے ہیں اور صرف وہ، اسکی بیوی اور دو بہنیں زندہ بچے ہیں۔ وہ ان کو پیچھے چھوڑ کر ایک ٹینٹ اور خوراک کی امید پر مظفر آباد آیا ہے تاکہ سردی نہ مار ڈالے۔

اسی ہجوم میں شازیہ اور اسکا باپ مبارک شاہ بھی موجود تھا۔ مبارک شاہ نیوی کا ریٹائرڈ ڈرائیور ہے۔ شازیہ نے بتایا کہ جس گاؤں سے وہ آ رہے ہیں وہ اسکا سسرال ہے اور یہاں سے کوئی بارہ گھنٹے کی مسافت پرہے۔اسکا ایک بچہ ملبے میں آ کر دب گیا۔ شوہر ویگن کی کنڈکٹری کرتا ہے۔ زلزلے سے پہلے وہ ویگن لے کر اٹھمقام تک گیا تھا تب سے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اب وہ اپنے والد کے ساتھ گڑھی حبیب اللہ جارہی ہے۔ اسکا والد اسے لینے اسی طرح کل پیدل گاؤں پہنچا تھااور کچھ گھنٹے رکنے کے بعد ہم دوبارہ یہاں تک تقریباً بارہ گھنٹے میں پہنچے ہیں۔

میں نے شازیہ کے والد مبارک شاہ سے بات کرنے کی کوشش کی۔مگر روزے اور چلنے کی تھکن نے انکے الفاظ چھین لیے اور وہ رو پڑے۔۔۔۔میری بیٹی کا اب کچھ نہیں بچا۔۔۔۔واپس لے جا رہا ہوں۔میں نے ان سے کہا آپ بیٹھے رہئے۔مانسہرہ واپسی پر آپ کو گڑھی حبیب اللہ چھوڑ دیں گے۔

مگر باقی لوگ وین میں دوبارہ بیٹھنے کو تیار نہیں تھے کیونکہ اس دوران انہیں پیچھے پیدل چلنے والے رشتے دار یا ساتھی دکھائی پڑ گئے تھے۔ کچھ نے بچوں کو کندھوں پر بٹھا رکھا تھا۔ ذرا بڑے بچے انگلی پکڑے چل رہے تھے۔

یہ لوگ جو آج کٹی ہوئی نیلم ویلی سے دس بیس تیس کی تعداد میں تین تین چار چار کنبوں کی صورت مظفر آباد تک پاپیادہ آ نے کی کوشش کررہے ہیں۔ برف گرنے سے پہلے پہلے اگر ان تک ٹینٹ اور خوراک نہ پہنچی تو پھر یہ ہزاروں کی تعداد میں برفانی پہاڑیاں عبور کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ان میں سے آخرکتنے مظفر آباد کی دہلیز تک پہنچ پائیں گے۔

66جنیوا کانفرنس ناکام؟
نیویارک میں سخت مایوسی ہے: احمد کمال
66کاغان میں تباہی
کاغان کی وادی میں تباہی اب سامنے آ رہی ہے
66خیمہ، روزہ اور بچے
’بچوں کے لیے روزے میں کھانا نہیں‘
66زلزلہ، مکمل کوریج
زلزلے میں کہاں کیا ہو رہا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد