مصنوعی اعضاء کم اور مہنگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلے سے معذور ہونے والوں کو مصنوعی اعضاء لگانے کے لیے ابھی تک کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آسکی ہے۔ مصنوعی اعضاء مہنگے ہونے کی وجہ سے فلاح بہبود کی تنظیموں نے بھی اس شعبے کی طرف رخ نہیں کیا ہے۔ کراچی میں مصنوعی اعضاء بنانے والے ادارے صادق سرجیکل کے مالک آرتھو پیڈک پروستھیٹسٹ صادق امین نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت صرف اپیل کر رہی ہے کہ مصنوعی اعضاء بھیجے جائیں مگر ابھی تک کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی جس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرین کے لیے مصنوعی اعضاء کی جتنی ضرورت ہے ہم پوری نہیں کرسکتے۔ ہلال احمر سمیت کوئی ادارہ بھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔
امین صادق کے مطابق اگر صرف ایک سو مصنوعی ٹانگیں بنائیں جائیں تو اس میں کم سے کم بھی ڈیڑھ ماہ لگ سکتا ہے اس سے اندازے کیا جاسکتا ہے کہ اس کام کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔ آپریشن کے بعد ٹانگ اور ہاتھ کے زخم بھرنے میں دو ماہ لگتے ہیں اور اس کے بعد ہی مصنوعی اعضاء لگائے جا سکتے ہیں۔ امین کا کہنا تھا کہ اگر بغیر کسی حساب کے غلط آپریش ہوئے ہونگے تو یہ مصنوعی اعضاء بھی لوگوں کو معذوری سے نہیں بچا سکیں گے۔ کیونکہ ٹانگ یا تو گھٹنے سے نیچی کاٹی جاتی ہے یا گھٹنے سے اوپر کاٹی جاتی بصورت دیگر اس میں مصنوعی ٹانگ لگ نہیں سکے گی۔ امین صادق نے بتایا کہ جو اعضا سائیز لے کر بھی بنائیں جاتے ہیں ان کو بھی نصب کرتے ہوئے سیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے لوگ اپنے طور پر ان اعضا کو تیار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ مکمل ٹانگ بتیس ہزار اور گھٹنے سے نیچے کا حصہ ساڑہ بارہ ہزار میں بنتا ہے۔ جبکہ بیرون ملک سے منگوائی جانے والے اعضا اور بھی مہنگے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کام میں میٹریل اور لیبر مہنگی ہے جس وجہ سے اس کی قیمت اتنی ہے۔ صادق امین نے کہا کہ ابھی تو زخمیوں کی مرہم پٹی اور علاج کیا جارہا ہے اس کے بعد ان کو معذوری سے بچانے کے لیے مصنوعی اعضاء لگائے جائیں گے جس کے لیے ایک حکمت عملی بنانے پڑےگی۔
انہوں نے تجویز دی کہ ہنگامی بنیاد پر سروے کیا جائے کہ ملک میں کتنے لوگ یہ کام کرتے ہیں اور کتنے ان میں کوالیفائیڈ ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں کیمپ قائم کئے جائیں جو مریضوں کا ڈیٹا جمع کرے اور ان کے لیے اعضا بنائیں۔ جہاں ان کو نصب کیا جائے بغیر کسی حکمت عملی کے لوگ ساری زندگی معذور ہے رہیں گے۔ | اسی بارے میں فی خاندان ایک لاکھ، ’یہ بڑی زیادتی ہے‘28 October, 2005 | پاکستان جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف27 October, 2005 | پاکستان زلزلے کے بعد مہنگائی کا زلزلہ 27 October, 2005 | پاکستان الائی میں سردی، انخلاء متنازع27 October, 2005 | پاکستان صرف 25 فیصد خیمے دستیاب26 October, 2005 | پاکستان تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے24 October, 2005 | پاکستان 'زلزلے کے بعد سے بچنا مشکل ہے'14 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||