BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 07:52 GMT 12:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصنوعی اعضاء کم اور مہنگے

مصنوعی اعضاء
مصنوعی اعضاء مہنگے ہونے کی وجہ سے فلاح بہبود کی تنظیموں نے بھی اس شعبے کی طرف رخ نہیں کیا ہے
پاکستان میں زلزلے سے معذور ہونے والوں کو مصنوعی اعضاء لگانے کے لیے ابھی تک کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آسکی ہے۔

مصنوعی اعضاء مہنگے ہونے کی وجہ سے فلاح بہبود کی تنظیموں نے بھی اس شعبے کی طرف رخ نہیں کیا ہے۔

کراچی میں مصنوعی اعضاء بنانے والے ادارے صادق سرجیکل کے مالک آرتھو پیڈک پروستھیٹسٹ صادق امین نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت صرف اپیل کر رہی ہے کہ مصنوعی اعضاء بھیجے جائیں مگر ابھی تک کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی جس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مصنوعی اعضاء بنانے والے کوالیفائیڈ آرتھو پیڈک پروستھیٹسٹ کی کمی ہے ایسے اسپشلسٹ صرف ایک سو کے قریب ہونگے۔
صادق امین کے مطابق پشاور کا خیبر میڈیکل کالج ملک کا واحد ادارہ ہے جہاں مصنوعی اعضاء بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ شعبہ بھی آٹھ سال قبل ہی قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرین کے لیے مصنوعی اعضاء کی جتنی ضرورت ہے ہم پوری نہیں کرسکتے۔ ہلال احمر سمیت کوئی ادارہ بھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔

مصنوعی اعضاء
مصنوعی اعضاء پہلے سے تیار کر کے نہیں رکھ جا سکتے بلکہ ہر معذور کی جسامت کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں

امین صادق کے مطابق اگر صرف ایک سو مصنوعی ٹانگیں بنائیں جائیں تو اس میں کم سے کم بھی ڈیڑھ ماہ لگ سکتا ہے اس سے اندازے کیا جاسکتا ہے کہ اس کام کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔

آپریشن کے بعد ٹانگ اور ہاتھ کے زخم بھرنے میں دو ماہ لگتے ہیں اور اس کے بعد ہی مصنوعی اعضاء لگائے جا سکتے ہیں۔ امین کا کہنا تھا کہ اگر بغیر کسی حساب کے غلط آپریش ہوئے ہونگے تو یہ مصنوعی اعضاء بھی لوگوں کو معذوری سے نہیں بچا سکیں گے۔ کیونکہ ٹانگ یا تو گھٹنے سے نیچی کاٹی جاتی ہے یا گھٹنے سے اوپر کاٹی جاتی بصورت دیگر اس میں مصنوعی ٹانگ لگ نہیں سکے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مصنوعی اعضاء بنانے کے لیے مریض کے اعضا کا سائیز بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کو کس سائیز کی مصنوعی ٹانگ یا بازو درکار ہے اگر بغیر سائیز کے یہ اعضا بنائیں جائیں تو مریض مزید تکلیف میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

امین صادق نے بتایا کہ جو اعضا سائیز لے کر بھی بنائیں جاتے ہیں ان کو بھی نصب کرتے ہوئے سیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے لوگ اپنے طور پر ان اعضا کو تیار نہیں کر سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ مکمل ٹانگ بتیس ہزار اور گھٹنے سے نیچے کا حصہ ساڑہ بارہ ہزار میں بنتا ہے۔ جبکہ بیرون ملک سے منگوائی جانے والے اعضا اور بھی مہنگے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کام میں میٹریل اور لیبر مہنگی ہے جس وجہ سے اس کی قیمت اتنی ہے۔

صادق امین نے کہا کہ ابھی تو زخمیوں کی مرہم پٹی اور علاج کیا جارہا ہے اس کے بعد ان کو معذوری سے بچانے کے لیے مصنوعی اعضاء لگائے جائیں گے جس کے لیے ایک حکمت عملی بنانے پڑےگی۔

مصنوعی اعضاء
اعضاء کے علاوہ دوسری مددگار گاڑیاں اور اشیاء بھی درکار ہونگی

انہوں نے تجویز دی کہ ہنگامی بنیاد پر سروے کیا جائے کہ ملک میں کتنے لوگ یہ کام کرتے ہیں اور کتنے ان میں کوالیفائیڈ ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں کیمپ قائم کئے جائیں جو مریضوں کا ڈیٹا جمع کرے اور ان کے لیے اعضا بنائیں۔ جہاں ان کو نصب کیا جائے بغیر کسی حکمت عملی کے لوگ ساری زندگی معذور ہے رہیں گے۔

اسی بارے میں
صرف 25 فیصد خیمے دستیاب
26 October, 2005 | پاکستان
تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے
24 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد