BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 01:15 GMT 06:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فی خاندان ایک لاکھ، ’زیادتی ہے‘
خیال کیا جا رہا ہے کہ بحالی کے لیے پندرہ سے بیس ارب روپے درکار ہیں
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت اور وہاں کی اپوزیشن نے حکومتِ پاکستان کی زلزلے کےمتاثرین کو معاوضہ دینے کی پالیسی میں مبینہ تبدیلی کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کی حکومت اپنے پرانے اعلان پر قائم رہے جس کے تحت زلزلے سے مرنے والے کے لواحقین کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تین روز قبل حکومت نے یہ پالیسی تبدیل کرکے فی خاندان ایک لاکھ روپیہ معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مظفرآباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات کے مشیر راجہ فاروق حیدر خان نے انہیں بتایا کہ حکومتِ پاکستان کا یہ اعلان بہت افسوسناک ہے جسے متاثرین تسلیم نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا ’پہلے یہ کہا گیا تھا کہ ہر مرنے والے کے لواحقین کو ایک ایک لاکھ روپیہ دیا جائے گا لیکن اب ہمیں کہا گیا ہے کہ فی خاندان ایک لاکھ روپیہ دیا جائے گا۔ یہ بڑی زیادتی ہے اور زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔ہم اس فیصلے کو نہیں مانیں گے۔‘

زلزلہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے

فاروق حیدر خان نے کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ اگر ایک گھر کے دس افراد زلزلے سے مارے گئے ہیں تو ان میں سے ہر مرنے والے فرد کی قیمت دس ہزار مقرر کی دی گئی ہے۔ ’یہ ایک مذاق ہے اور اس سے بہتر ہے کہ کسی کو کچھ نہ دیا جائے۔‘

تاہم فاروق حیدر نے امید کا اس اظہار کیا ہے کہ پاکستانی حکومت اور بالخصوص صدر جنرل پرویز مشرف حکومت کے پہلے والے فیصلے پر عمل درآمد کرائیں گے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کے علاوہ وہاں کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی پاکستان کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ وہاں کی جماعتِ اسلامی کے سربراہ سردار اعجاز افضل نے معاوضہ پالیسی میں تبدیلی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہ ’پاکستانی حکومت آغاز ہی میں بے ایمانی پر اُتر آئی ہے۔

جموں کشمیر لبریش فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان نے جن کی جماعت خود مختار کشمیر کی حامی ہے، حکومتِ پاکستان کے فیصلے کو مکمل ناانصافی سے تعبیر کیا ہے۔

تاحال 56 خاندانوں کو ایک ایک لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے گئے ہیں اور ان میں ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن کے ایک سے زیادہ اہلِ خانہ زلزلے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان زلزلہ متاثرین کی مالی امداد کے لیے ڈھائی ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن پاکستان کے چیف سیکریٹری کاشف مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ متاثرین کی بحالی کے لیے پندرہ سے بیس ارب روپے درکار ہیں۔

66وادئ نیلم سے رپورٹ
’گھر واپس چلے جائیں، امداد ختم ہوچکی ہے‘
66جنیوا کانفرنس ناکام؟
نیویارک میں سخت مایوسی ہے: احمد کمال
66نصف ماہ گزر گیا
زلزلے کے پندرہ دن بعد کیا ہو رہا ہے: تصاویر
66زلزلہ، مکمل کوریج
زلزلے میں کہاں کیا ہو رہا ہے
66جوش و خروش کہاں؟
زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے
اسی بارے میں
تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے
24 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد