’متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے پانچ شمالی اضلاع میں زلزلے کو آئے بیس روز گزر جانے کے بعد بھی صوبائی حکومت نے ابھی تک ان علاقوں کو آفت زدہ قرار نہیں دیا ہے۔ ادھر صوبائی حکومت کی اپیل پر نماز جمعہ کے بعد نماز توبہ ادا کی۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر مالی سہولت فراہم کرنےمیں تاخیر کا معاملہ جمعہ کے روز سرحد اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا۔ حزب اختلاف کے اراکین نے اس تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس تنقید میں قائد حزب اختلاف شہزادہ گستاسپ سب سے آگے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تاخیری حربوں سے وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلابوں اور چھوٹی موٹی آفات میں بھی حکومت متعلقہ علاقوں کو فوراً آفت زدہ قرار دے دیتی تھی لیکن اتنے بڑے سانحے کے بیس روز بعد بھی اس جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ تاہم حکمراں متحدہ مجلس عمل کے زلزلے سے متاثرہ شانگلہ علاقے سے رکن پیر محمد خان نے ان کے علاقے کی حد تک آفت زدہ قرار دینا یا نہ دینے کو بےمعنی قرار دیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے اس موقعہ پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس سلسلے میں تاخیر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ آئندہ چند روز میں متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا جائے گا۔ نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سترا ارب روپے کا سرکاری جبکہ چالیس ارب روپے کا نجی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہیں وفاق سے صرف ایک ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ زلزلے سے صوبہ سرحد کی زیادہ آبادی اور علاقے متاثر ہوا ہے لیکن امداد زیادہ کشمیر کو دی جا رہی ہے۔ دیگر اراکین نے بھی زلزلے سے پیدا صورتحال پر بحث جاری رکھی۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین عبدالاکبر خان نے امدادی رقوم کی تقسیم میں سست روی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیس روز بعد بھی صرف آٹھ سو افراد کو امدادی چیک جاری کئے گئے ہیں۔ کئی اراکین نے امداد کی تقسیم کے لیے کمپوٹرازیڈ شناختی کارڈز کی شرط میں نرمی کا مطالبہ کیا۔ ادھر صوبائی حکومت کی اپیل پر نماز جمعہ کے بعد دو رکعت نماز توبہ ادا کی گئی۔ حکومت نے کل اس اپیل میں عوام سے اپنے گناہوں کی معافی اور خدا سے رحمت طلب کرنے کے لیے کہا تھا۔ سرحد اسمبلی نے جمعہ کے روز ایک قرار داد کے ذریعے ایک نجی ٹی وی چینل پر آخری پیغمبر حضرت محمد اور صحابہ کرام سے متعلق انگریزی فلم ’دی میسج’ دیکھانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور حکومت سے اس فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مصری ہدایت کار مصطفی اقد کی ’دی میسج’ گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل جیو پر اردو ڈبنگ کے ساتھ دکھائی گئی تھی۔ اگرچہ یہ فلم جامعہ الازہر کی منظور شدہ قرار دی جا رہی ہے صوبہ سرحد کی اسمبلی نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علما اسلام (سمیع الحق گروپ) کے اکرام شاہد نے یہ قرار داد پیش کی جیسے ایوان نے اکثریت سے منطور کر لیا۔ اس فلم کو خلاف شرع قرار دیتے ہوئے اسمبلی نے اسے توہین رسالت اور صحابہ قرار دیا اور حکومت سے اس کی کیسٹسں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ | اسی بارے میں آخر کتنے پہنچ پائیں گے28 October, 2005 | پاکستان امداد کی کمی، محدود آپریشن: یو این28 October, 2005 | پاکستان خطرناک زون کا نئے سرے سے تعین28 October, 2005 | پاکستان باغ: صرف پچیس فیصد خیمے تقسیم 28 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||