فی خاندان ایک سال تک چھ ہزار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب کے گورنر خالد مقبول نے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب ایک سال تک زلزلے سے متاثرہ ایک لاکھ خاندانوں کے اخراجات برداشت کرے گی اور اس منصوبے پر عمل درآمد ایک ہفتے میں شروع ہو جائے گا۔ یہ بات انہوں نے بالاکوٹ میں ایک ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے کہی۔ بی بی سی پشتو سروس کے عبدالحئی کاکڑ نے جو بالاکوٹ میں گورنر پنجاب کے دورے کے موقع پر وہاں موجود تھے بتایا کہ اس موقع پر گورنر کے سامنے لوگوں نے اپنی شکایات رکھیں اور بتایا کہ ان کا مناسب علاج نہیں ہو رہا اور نہ انہیں امداد ہی مل رہی ہے۔ گورنر نے بتایا کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ پرویز الٰہی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ان کا صوبہ ایک لاکھ خاندانوں کو اپنائے گا اور ہر ماہ انہیں چھ ہزار روپے دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنی گزراوقات کر سکیں۔ خالد مقبول کا کہنا تھا کہ حکومت مظفرآباد، باغ اور مانسہرہ میں فیلڈ ہسپتال قائم کر رہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انہوں نے علاقے میں جہاں جہاں ہسپتال دیکھے ہیں وہاں مریضوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تشنج کے مریض بھی علاج کے لیے آئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تشنج کے علاج کے لیے زیادہ تعداد میں انجیکشن بھی نہیں ہیں اور دیگر دوائیاں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کو امید ہے جلد ہی انہیں دوائیاں مل جائیں گی۔ | اسی بارے میں ’مارگلہ ٹاور بنانے والےکوگرفتار کریں‘28 October, 2005 | صفحۂ اول جنیوا کانفرنس ناکام رہی: احمد کمال27 October, 2005 | پاکستان برفباری قریب، اور امداد دُور25 October, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||