BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 October, 2005, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مارگلہ ٹاور بنانے والےکوگرفتار کریں‘

مارگلہ ٹاور
مارگلہ ٹاور کا شمار اسلام آباد کی مہنگی ترین رہائشی عمارتوں میں ہوتا تھا
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے دارالحکومت اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کو زلزلے سے تباہ ہونے والے مارگلہ ٹاور کے 88 مالک رہائشیوں کو مقدمے کی سماعت تک کرایہ ادا کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے عمارت بنانے والی کمپنی کے مالک کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

عمارت کے رہائشیوں کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست پر سماعت کے دوران ملک کی اعلی ترین عدالت نے سی ڈی اے کو حکم دیا کہ اس عمارت میں فلیٹوں کے مالکان حقوق رکھنے والوں کو عبوری امداد کے طور پر مقدمے کے حتمی فیصلے تک چالیس سے پچہتر ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کیا جائے۔

تاہم عدالت کے فیصلے کے مطابق اس عمارت میں کرایے پر رہنے والوں کو کوئی عبوری امداد نہیں ملے گی۔

 حبیب فدا نامی نقشہ ساز کو مارگلہ ٹاور کے لیے ’سی ڈی اے‘ نے نگران مقرر کیا اور انہوں نے سن انیس سو چورانوے میں دی گئی رپورٹ میں کہا کہ عمارت کی تعمیر میں ناقص مواد استعمال کیا جارہا ہے اور قواعد کے منافی کام ہورہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد وہ اس منصوبے سے علیحدہ ہوگئے۔

عدالت نے اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں عمارتوں کی تعمیر کے وقت زلزلے سے بچاؤ کے لیے ضابطہ کار متعارف کرانے کو لازمی قرار دیتے ہوئے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو بھی طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے مارگلہ ٹاور بنانے والی کمپنی کے مالک رمضان کھوکھر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت کے روز پیش کرنے اور ان کے چودہ بینک اکاونٹ منجمد کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت نے آئی جی پولیس اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ اگر ملزمان ملک سے باہر ہیں تو بھی انہیں پکڑنے کا انتظام کیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس میاں شاکراللہ جان پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے متاثرہ افراد اور حکومت کے درمیان طے پائےجانے والے معاہدے کی منظوری بھی دی۔ جس کے تحت کیٹیگری اے کے رہائیشوں کو پچہتر ہزار روپے، بی والوں کو پینسٹھ، سی والوں کو پچاس اور ڈی کے رہائشیوں کو چالیس ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کیا جائے گا۔ ’کیپیٹل ڈیویلپمینٹ اتھارٹی، یعنی ’سی ڈی اے‘ تمام متاثرین کو دو ماہ کا کرایہ پیشگی ادا کرے گا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ رمضان کھوکھر جو کہ ’سی ڈی اے‘ کا ملازم تھا انہوں نے ’چودھری کنسٹرکشن کمپنی‘ کے نام سے کاروبار شروع کیا اور اس میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ غلام الرسول سے برابر کی بنیاد پر حصہ داری کی بنا پر مارگلہ ٹاور تعمیر کیا۔ رمضان کھوکھر کی اہلیہ کہکشاں کھوکھر بھی اس کمپنی کی ڈائریکٹر تھیں۔ ابتدا میں تینتیس برسوں کی لیز پر ایک سو چودہ فلیٹ بنانے کے لیے زمین حاصل کی گئی لیکن بعد میں ننانوے برس تک لیز بڑھائی گئی اور فلیٹس کی تعداد بھی ایک سو اڑتالیس کردی گئی۔

عدالت نے کہا کہ لیز کی مدت اور فلیٹس کی تعداد بڑھانا ’سی ڈی اے‘ کے اعلیٰ حکام کی خوشنودی کے بنا ناممکن ہے اور اس بارے میں تمام تر ریکارڈ دس روز میں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ’سی ڈی اے‘ کے دو افسران عبداللہ جان نورمحمد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انجنیئر عبدالحفیظ شیخ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے چار روز بعد ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔ رمضان کھوکھر اپنے اہل خانہ سمیت بیرون ملک مقیم ہیں۔

عدالت میں پیش کردہ ریکارڈ کے مطابق بریگیڈیئر غلام الرسول چودھری انیس سو اٹھانوے میں کمپنی کی املاک اور قرضہ جات کھوکھر کے ذمے کرتے ہوئے علیحدہ ہوگئے اور ایک سال بعد فوت ہوگئے۔

حبیب فدا نامی نقشہ ساز کو مارگلہ ٹاور کے لیے ’سی ڈی اے‘ نے نگران مقرر کیا اور انہوں نے سن انیس سو چورانوے میں دی گئی رپورٹ میں کہا کہ عمارت کی تعمیر میں ناقص مواد استعمال کیا جارہا ہے اور قواعد کے منافی کام ہورہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد وہ اس منصوبے سے علیحدہ ہوگئے۔

عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو عمارتوں کی تعمیر کے لیے ضابطہ کار متعارف کرنے کے لیے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ آئندہ سماعت کے روز عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے بلوچستان کے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوئٹہ میں زلزلے سے بچاؤ کے لیے تعمیرات سے قبل قوانین کے بارے میں رپورٹ بھی پیش کریں۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس کا کوئٹہ میں اپنا گھر بھی ہے۔

مقدمے کی سماعت نومبر کے آخر تک ملتوی کردی تو عدالت میں موجود مولوی اقبال حیدر اور ابراہیم ستی ایڈوکیٹ نے اپنی دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کے لیے گزارش کی۔ ( چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ ان کی درخواستوں پر آئندہ سماعت کے روز غور ہوگا) ۔

ان دونوں ( پیشہ ور) درخواست گزاروں نے زلزلے سے متاثر ہونے والے دیگر علاقوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے ازالے کے لیے طریقہ کار واضح کرنے کی استدعا کی ہے۔ ابراہیم ستی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ مارگلہ ٹاور کے رہائشیوں کے ٹیکس کے گوشوارے دیکھے جائیں کہ اتنی مہنگی عمارتوں میں رہنے والے ٹیکس کتنا دیتے ہیں اور ان کے آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟

اسی بارے میں
دو اور زندگیاں بچا لی گئیں
10 October, 2005 | پاکستان
دیر رات گئے، ملبے کے نیچے
09 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد