جب کوئی احساس ہی نہ رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شدید تباہی کے شکار شہری بالاکوٹ کے بچ جانے والے بیشتر مکین عجیب نفسیاتی دور سے گذر رہے ہیں۔ یہ لوگ سارا دن بھوتوں کی طرح اس ملبے پر پھرتے رہتےہیں جس سے تعفن اٹھ رہا ہے اور جوان لوگوں کی قبریں بن چکا ہے جن کی لاشیں ابھی بھی نہیں نکالی جاسکیں۔ ان لوگوں میں وہ بچے بھی ہیں جو یتیم ہو چکے ہیں اور ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والے کوئی رشتہ دار بھی زندہ نہیں رہا۔ وہ عورتیں بھی ہیں جو بیوہ ہوئی ہیں یا باپ بھائی کے مرنے کے بعد لاوارث ہوگئی ہیں اور وہ مرد بھی جن کے گھر کے تمام لوگ مرگئے اور وہ اکیلے اس تباہ شہر کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔ اس شہر میں کوئی نوارد تھوڑی دیر پھرے تو اس کا دل تعفن سے متلانے لگے گا اور طبعیت خراب ہوجائےگی لیکن ملبے پر منڈلاتے ان افراد پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کئی لوگوں پر عجیب طرح کی بے حسی طاری ہے جو بعض اوقات وہاں کام کرنے والے رضاکاروں اورفوجی اہلکاروں کو بھی حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ فوج کے ایک لفیٹنٹ نے بتایا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی فوجی اہلکار دو عورتوں کو میڈیکل کیمپ پہنچانا چاہتے تھے ایک عورت کی کمر کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور دوسری کا پاؤں ٹوٹ کر الگ ہوچکا تھا۔ فوجی افسر نے کہا کہ انہوں نے قریب کھڑے ایک نوجوان کو مدد کے لیے کہا تو وہ مدد کرنے کی بجائے خاموشی انہیں تکتا رہا اور پھر خاموشی سے چلا گیا۔ نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بستی کے لوگوں نے اسقدر صدمہ برداشت کیا ہے اور غم کے ایسے سمندر سے گذرے ہیں کہ اب دکھ اور غم کا احساس کم ہوتے ہوتے مٹ گیاہے۔ اور اپنے دکھ نے دوسرے کے دکھ کو محسوس کرنے کے جذبات کو کم کردیا ہے اور اسی کو بے حسی قرار دیا جارہا ہے۔
اس شہر کے لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے عزیز اوقارب کو سسک سسک کر مرتے بھی دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ ان کا قریب ترین رشتہ دار دوست یا ہمسایہ ان کی مدد کرنے کی بجائے اپنے آپ کو بچانے یا اپنے کسی رشتہ دار کو بچانے میں لگا رہا۔ بھوت پریت کی طرح منڈلاتے کئی لوگ رات ہونے پر اپنے اپنے گھروں یا دکانوں کے ملبے کے پاس یا کسی خیمے میں گھس جاتے ہیں اور صبح ہونے پر پھر سے ملبے پر گھومتے پھرتے یا کھانے کے لیے بھکاریوں کی طرح مختلف کیمپوں میں لائن میں لگ جاتےہیں۔ اس حادثے اور اس کے بعد جس طریقہ سے امداد مل رہی ہے اس نے ان لوگوں کی عزت نفس کو بھی ختم کر دیا ہے۔ کئی کئی گھنٹے کے بعد جب کسی شخصں کو یہ کہہ کر دھتکار دیا جاتا ہے کہ پہلے پرچی دکھاؤ یا یہ کہ مال ختم ہوگیا اب رات کو آنا تو یقینا وہ اندر سے کئی بار مر جاتا ہوگا۔ اس شہر میں جگہ جگہ قبرستان بن چکے ہیں جہاں سے زیادہ لاشیں ملیں وہیں پر اجتماعی قبر کھود کر انہیں دفنا دیاگیا۔ گورنمنٹ ہائی سکول بالاکوٹ اور شاہین گرلز سکول کے وہ احاطے اور گراؤنڈ جو کبھی بچوں کے کھیلنے کے میدان ہوتے تھے اب انہیں کے قبرستان بن چکے ہیں۔ میں نے بالا کوٹ ہائی سکول کے قبرستان میں ایک دس سالہ بچے کو روک کر پوچھا کہ وہ یہاں کیا ڈھونڈتا پھر رہا ہے تو اس نے بتایا کہ یہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتاتھا اب وہ سب مر گئے ہیں اور وہ اکیلا رہ گیاہے اب اس کے پاس کرنے کو کچھ ہے نہیں اس لیے وہ یہاں اسی گراؤنڈ میں پھرتا رہتا ہے کیونکہ یہاں ہی اس کے دوستوں کی قبریں بھی ہیں۔ یہاں پر جسمانی عوارض کے علاج کے لیے توڈاکٹر موجود ہیں لیکن بچ جانے والے اور بظاہر تندرست نظر آنے والوں کو نفسیاتی علاج کی بھی ضرورت ہے۔ ماضی میں تباہی کا شکار ہونے والے شہروں کو چھوڑ کر نئے شہر بسانے کی روایت موجود رہی ہے۔ اتنی بڑی تباہی کے بعد نجانے لوگ کیوں اسی ملبہ شدہ شہر پر ڈیرے جماۓ بیٹھے ہیں۔ یہ ملبہ اور اس سے جڑی تلخ یادیں انہیں چین نہیں لینے دیں گے اور نہ انہیں نارمل ہونے دیں گے آخر ایک نیا شہر کیوں نہیں بسا لیا جاتا۔ | اسی بارے میں بچے ابھی تک سکول میں دفن ہیں28 October, 2005 | پاکستان زلزلے نے مجھ کیا کیا چھین لیا؟ 28 October, 2005 | پاکستان ’امداد نہ ملی تو آپریشن محدود‘28 October, 2005 | پاکستان ’متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیں‘28 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||