بچے ابھی تک سکول میں دفن ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد سے ترپن کلومیٹر دور سری نگر روڈ پر واقع چناری کے قصبے میں اطلاعات کے مطابق اب تک امداد نہیں پہنچ سکی اور ایک سکول کی عمارت میں تقریباً ڈیڑھ سو سے دو سو بچوں کی لاشیں دبی ہوئی ہیں۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے جمعے کے روز علاقے کا دورہ کرکے بتایا ہے کہ وہاں صرف چند خیمے پہنچ سکے ہیں اور لوگ پہلے سے موجود بچی کچی خوراک سے گزارا کررہے ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وہاں ایک تین منزلہ سکول کی عمارت کے ملبے میں اب تک ڈیڑھ سو سے دو سو بچوں کی لاشیں دبی ہوئی ہیں اور انہیں نہیں نکالا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے والدین مسلسل اس عمارت کا چکر لگا رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ان کے بچوں کی لاشیں انہیں مل جائیں تاکہ وہ انہیں دفنا سکیں۔ نامہ نگار نے بتایا ہے کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے کچھ دنوں بعد وہاں ایک یا دو مرتبہ ہیلی کاپٹر آئے تھے اور انہوں نے کچھ خیمے تقسیم کئے تھے لیکن وہ بالکل ناکافی ہیں اور زیادہ تر لوگ گرے ہوئے گھروں کی ٹین کی چھتوں اور شہتیروں کو جوڑ کر عارضی شیلٹر بنا کر رہنے پر مجبور ہیں۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی طرف سے مدد نہ پہنچانے پر فوج کے ساتھ احتجاج کے بعد وہاں کوئی مدد نہیں پہنچی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس فوج کی تقسیم کردہ وہ پرچیاں موجود ہیں جنہیں قریبی شہروں میں قائم مراکز میں دکھا کر انہیں خیمے وغیرہ مل جانے چاہئیں لیکن وہ بہت مشکلات کے ساتھ کئی مرتبہ وہاں جا چکے ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔ نامہ نگار کے مطابق چناری میں لوگ بہتمشکل میں زندگی گزار رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’وعدے ٹھیک پر پیسے کہاں ہیں‘27 October, 2005 | پاکستان فی خاندان ایک لاکھ، ’زیادتی ہے‘28 October, 2005 | پاکستان باغ: صرف پچیس فیصد خیمے تقسیم 28 October, 2005 | پاکستان ’امداد نہ ملی تو آپریشن محدود‘28 October, 2005 | پاکستان ’کچھ اور اسلام آباد بسائے جائیں‘27 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||