’کچھ اور اسلام آباد بسائے جائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلہ سے متاثرین کے لیے شہروں اور قصبوں کے قریب خیمہ بستیاں بسانے کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن ایک راستہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کےلیے ایک یا ایک سے زیادہ نئے شہر بسادیے جائیں۔ اگر ملک میں ہزاروں ایکڑ پر مشتمل ڈیفنس سوسائٹیاں بنائی جاسکتی ہیں جہاں اگلے بیس سال بھی آبادی ہونے کا امکان نہیں تو اس صدی کی سب سے بڑی آفت کے متاثرین کے لیے نئے شہر کیوں نہیں بسائے جاسکتے؟ آٹھ اکتوبر کے زلزلہ سے تیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں اور تقریبا ڈھائی لاکھ خاندان متاثرہوئے ہیں۔ وزیراعظم شوکت عزیز اور صدر جنرل پرویز مشرف بار بار کہہ رہے ہیں کہ متاثرہ افراد پہاڑوں کی چوٹیوں سے اتر کر میدانوں میں آجائیں تاکہ انہیں خیمہ بستیوں میں بسایا جاسکے کیونکہ کشمیر اور ہزارہ کےدشوار گزار پہاڑوں پر زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے امدادی سامان مہیا کرنا اب تک ممکن نہیں ہوسکا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کچھ دنوں بعد موسم بہت خطرناک ہوجائے گا اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں چھت کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ حکومت خیموں میں اسکول اور ہسپتال قائم کرنے کی باتیں بھی کر رہی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ہیلی کاپٹروں اور خچروں کے ذریعے امداد پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہیلی کاپٹروں کی تعداد ایک تو محدود ہے اور انہیں بھی اترنے کےلیے بھی ہیلی پیڈ چاہیے۔ اب تک پہاڑوں کے رہنے والے بیشتر لوگوں کی یہی شکایت سامنے آئی ہے کہ ان تک امدادی سامان نہیں پہنچا اور ان کے زخمیوں کو طبی امداد نہیں ملی۔ دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی وادی لیپا اور کاغان کے درجنوں دیہات تک امدادی کارکن نہیں پہنچ پائے ہیں۔ کشمیر اور کاغان کے بعض پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت صفر سے نیچے جا چکا ہے۔ کشمیر کے کئی علاقوں میں زلزلہ سے پہاڑوں میں جگہ جگہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دو دو فٹ چوڑے اور بے حد گہرے شگاف پڑ گئے ہیں۔ یہ پہاڑ ایسے خطرناک ہوگئے ہیں کہ وہاں مستقل سکونت رکھنا خطرے سے خالی نہیں۔
دوسری طرف لاہور اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخل کئی مریضوں کا کہنا ہے انہیں معلوم نہیں کہ ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد وہ کہاں جائیں گے کیونکہ عزیز و اقرباء کا کچھ پتہ نہیں، کچھ کے قریبی رشتے دار مرچکے ہیں اور کچھ کے اپنے علاقے چھوڑ کر دوسری جگہوں پر جاچکے ہیں۔ ان کے اپنے گھر تباہ ہوچکے ہیں۔ ایبٹ آباد اور ہری پور کے درمیان حویلیاں کے مقام پر پانچ سو خیموں پر مشتمل بستی پہلے ہی آباد کی جاچکی ہے جو کہ ظاہر ہے کہ ضرورت سے بہت چھوٹی ہے۔ بٹ گرام کی تحصیل الائی میں پہاڑوں کے کھسکنے کے باعث وہاں سے آبادی کی نقل مکانی جلد شروع کی جانے والی ہے۔ سوال یہ درپیش ہے کہ ان لوگوں کو کہاں آباد کیاجائے۔ پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الہی، جو زلزلہ آنے کے بعد دو ہفتے تک ملک سے باہر رہے، اب انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ زلزلہ متاثرین کو شمالی پنجاب میں چکوال کے موٹروے کے ساتھ اور اٹک میں دو بڑی خیمہ بستیاں بنا کر آباد کیاجائے گا۔ یہ خدشہ موجود ہے کہ پہلے سے موجود قصبوں میں بننے والی خیمہ بستیوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے نئے لوگوں اور پرانی آبادیوں کے درمیان جلد ہی خیرسگالی کے جذبہ کی جگہ تناؤ پیدا ہوجائے جیسا کہ مقامی آبادیوں اور افغان مہاجرین کے درمیان ہے۔ اس سے بے روزگاری اور امن و امان کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ خیمہ بستیوں میں آگ لگنے کے خطرات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ماضی گواہ ہے کہ اکثر ایسی خیمہ بستیاں کچی آبادیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اگر پنجاب حکومت اٹک اور چکوال میں کشمیر اور ہزارہ کے متاثرہ لوگوں کو لا کر خیمہ بستیوں میں آباد کرسکتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو عارضی بستیوں کی بجائے کسی مناسب بے آباد لیکن کسی بڑی سڑک سے متصل جگہ پر مستقل نئے شہروں میں کیوں نہ بسایا جائے۔ مظفرآباد اور بالاکوٹ جیسے شہر تو تقریبا مکمل تباہ ہوچکے ہیں اور وہاں سے ملبہ ہٹانا ہی ایک اتنا بڑا کام ہے جسے شروع کردیاجائےتو زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی امداد کا باقی کام کرنا دشوار ہوگا۔ ان مقامات پر زندہ بچ جانے والوں نے اتنی تباہی اور اپنے عزیزوں کی اتنی اموات دیکھی ہیں کہ شائد وہ اس صدمہ کو بھلا نہ سکیں۔ ان کے لیے اس جگہ پر دوبارہ رہنا بھی شائد نفسیاتی طور پر ممکن نہ ہو۔
اگر پاکستان کے دارالحکومت کے لیے ایک نیا شہر اسلام آباد کے نام سے آباد کی جاسکتا ہے تو تاریخ پاکستان کی سب سے بڑی قدرتی آفت سے متاثرہ لوگوں کے لیے پنجاب اور سرحد میں ایک دو نئے شہر کیوں نہیں بسائے جاسکتے۔ پنجاب کے وزیراعلی اربوں روپے مالیت سے نئے مری کے نام سے پٹریاٹہ میں ایک شہر بسا رہے ہیں جس پر ماہرین ماحولیات کو شدید اعتراضات بھی ہیں تو وہ ان وسائل کو زلزلہ سے متاثرین کے لیے کسی نئے شہر کے قیام کی طرف کیوں نہیں موڑ دیتے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک بار فوج کے اہلکاروں کے لیے بنائی جانے والی ڈیفنس سوسائٹیوں پر اعتراض کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج نے تو ملک میں اربن ڈویلیپمینٹ میں ایک رہنما کردار ادا کیا ہے۔ تو اب فوج کے لیے وقت ہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کے لیے اپنی ان قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دو شہر بسا کر دکھائے۔ آخر کار فوج نے بڑے شہروں جیسے راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں ہزاروں ایکڑوں پر ڈیفنس سوسائٹیاں بھی تو بسائی ہیں۔ ان نئے شہروں اور عارضی خیمہ بستیوں میں ایک بنیادی فرق تو یہ ہوگا کہ ان شہروں میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سڑکیں، گلیاں، سیوریج اور پینے کے پانی کا بندوبست کیاجائے گا۔ اس کام میں ہوسکتا ہے کہ زیادہ وقت بھی لگے لیکن ایک بار یہ ایجنڈا طے ہو گیا تو بعد کبھی نہ کبھی تو یہ کام پورا بھی ہو ہی جائے گا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی زلزلہ سےمتاثرین کےلیے شہروں میں انفراسٹرکچر اور اسکول، کالج اور ہسپتالوں کی عمارتیں بنانے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ نئے شہروں کی تعمیر کا ایک بڑا حصہ یہ ممالک اپنے وعدے کے مطابق مہیا کرسکتے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں پر مشتمل نئے شہروں کی صورت میں ہر متاثرہ شخص کی رجسٹریشن ہوگی، متاثرہ لوگوں کی شناخت آسان ہوگی، ان تک سامان پہنچانے کے لیے رسل و رسائل اور ساز و سامان کا خرچ کم ہوگا اور ان لوگوں کی مستقل بحالی پر ملک کےلوگوں اور عالمی اداروں کی توجہ مرکوز رہے گی۔ ان شہروں میں اسکول، ہسپتال اور انتظامیہ ہوگی اور یہ نئے شہر گندی بستیوں اور غیرقانونی کاموں کے مراکز میں تبدیل ہونے کے بجائے ایک مناسب گو سادہ زندگی گزارنے کے لیے رہائش مہیا کرسکیں گے۔ ایسی رہائش جہاں مکانات اور عمارتیں کسی امکانی زلزلہ سے بچاؤ کی تدابیر کے مطابق تیار کی جائیں۔ پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد۔ شاید پاکستان کے عوام یہ کام کر دکھائیں۔ |
اسی بارے میں اللہ، آرمی اور کشمیر23 October, 2005 | قلم اور کالم اگر اب بھی !23 October, 2005 | قلم اور کالم ’ایسا نہ ہو کہ ہُن برسےاورحقدارترسیں‘22 October, 2005 | قلم اور کالم پاکستان کی زندہ قوم، کہاں ہے؟21 October, 2005 | قلم اور کالم رمسا سنگھ کو کیا تکلیف ہے؟17 October, 2005 | قلم اور کالم جھٹکے ہیں کہ رکتے ہی نہیں15 October, 2005 | قلم اور کالم ضبط کا امتحان13 October, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||