BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 October, 2005, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اگر اب بھی !

مظفر آباد
مظفرآباد میں متاثرین امداد لے کر جا رہے ہیں۔
متاثرین کی اسوقت دو قسمیں ہیں۔ایک وہ جو دوردراز دشوار گذار علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور دوسرے وہ جن کے مکانات کو زلزلے سے جزوی نقصان پہنچا ہے لیکن گذارے لائق چھت اور چاردیواری موجود ہے۔

ان دونوں طرح کے متاثرین کو خیمے چاہئیں۔لیکن اگر انہیں فوری اور غیر فوری ضرورت مندوں کی کیٹگریز میں بانٹ دیا جائے تو اسوقت بھی اسلام آباد اور راولپنڈی کے امدادی گوداموں اور متاثرہ علاقوں میں سرگرم سرکردہ تنظیموں کے پاس اتنے خیمے ضرور ہیں جو فوری ضرورت کے متاثرین کے سر چھپا سکیں۔

اگر ایسے متاثرین یا انکے نوکر لائن میں نہ لگیں جو ماشااللہ کم ازکم لکھ پتی ضرور ہیں اور نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی مدد کے بھی قابل ہیں تو اتنی اشیائے خوردونوش ضرور موجود ہیں جو فوری مستحقین کی سال بھر کی ضروریات کے لئے کافی ہوں۔

وہ علاقے جو اسوقت بھی ناقابلِ رسائی ہیں اور صرف ہیلی کاپٹر ہی رسد پہنچا سکتے اور زخمیوں کو نیچے لا سکتے ہیں۔اگر وھاں تک رضاکار ڈاکٹروں کی ٹیموں اور آپریشن تھیٹر کے بھاری سامان کو ائیر لفٹ کیا جا سکے تو اتنے فیلڈ اسپتال ضرور قائم ہوسکتے ہیں جو ناقابلِ رسائی حالات میں اب بھی لوگوں کو مرنے سے بچا سکیں۔

اسوقت متاثرہ علاقوں میں جتنے ہیلی کاپٹرز استعمال ہورہے ہیں ایک تو پہلے ہی محدود تعداد میں ہیں اور ان میں سے بھی تقریباً آدھے براہ راست یا بلاواسطہ وی آئی پی نقل وحرکت میں استعمال ہورہے ہیں۔اب بھی اگر اس وی آئی پی موومنٹ کو اگلے پندرہ روز کے لئے روک دیا جائے تو دوگنا سامان مشکل علاقوں میں بھیجا جاسکتا ہے اور دوگنے زخمی نیچے قائم فیلڈ اسپتالوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔

اگر سرکردہ ملکی یا غیر ملکی فلاحی تنظیموں اور فوج کے امدادی نظام کے مابین اب بھی امداد کی تقسیم کے طریقے پر باہمی غلط فہمیاں دور ہوجائیں اور ان سب کو ایک دوسرے کے بارے میں معلوم ہو کہ کس کے پاس کس علاقے میں کتنی رسد اور وسائیل موجود ہیں تو چند علاقوں میں امدادی سرگرمیوں پر زور اور باقی علاقوں کو نظر انداز کرنے کے رحجان کا تدارک ہوسکتا ہے۔

لیکن جس طرح کے حالات میں جس انداز سے کام ہورھا ہے اگر قارون کا خزانہ بھی متاثرہ علاقے میں اتار دیا جائے تب بھی ترجیحی مصیبت زدگان کی تسلی بخش فوری اور موثر امداد کے نیٹ ورک کا قیام مشکل نظر آرھا ہے۔

بس ایک دفعہ میڈیا سرکس کا زور ٹوٹ جائے اور برف اس علاقے کو اپنی آغوش میں لے لے اسکے بعد ہر متاثر کو ہرشے مل جائے گی بشرطیکہ اسکی برادری بااثر ہو یا اسکے پاس پرچی ہو یا پھر بازار میں پہنچنے والی امدادی رسد خریدنے کے نوٹ۔

66رمسا سنگھ کی تکلیف
یہ کیسا زلزلہ ہے جو انا نہیں ہلا پایا۔ وسعت
66بےسہاروں کا مستقبل
سہمے ہوئے بچے انتہائی کرب سے گزر رہے ہیں
66مانسہرہ کی جانب
امدادی کارکنوں کا ریلہ چل پڑا تھا۔۔۔
66دہشتگردی یا امداد
دہشتگردوں کو چھوڑیں ہماری دہشت دور کریں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد