رمسا سنگھ کو کیا تکلیف ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی دِلّی کے مصروف کاروباری علاقے جنپت میں فٹ پاتھ پرسردار رمسا سنگھ نے تین میزیں برابر برابر لگا رکھی ہیں۔ اسکے ساتھ دو نوعمر رضاکار بھی ہیں۔ اور ان تینوں کے پیچھے دیوار پر دیوناگری میں ایک بینر بھی لٹک رہا ہے جس پر لکھا ہے 'بھوکمپ سے پیڑھت ہندوستانی اور پاکستانی بھائیوں کی مدد کیجیے'۔ پندرہ اکتوبر کی شام تک تو یہ بینر لگا ہوا تھا۔مجھے یقین ہے کہ آج بھی رمسا سنگھ وہیں کھڑا ہوگا۔ اسی شام لاہور جانے والی فلائٹ کے انتظار میں اندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے بیٹھے ہندوستان ٹائمز کی ورق گردانی کے دوران اس کہانی پر بھی نظر پڑی کہ اوڑی کے علاقے میں لانس نائک رگھوبیر سنگھ نے پندرہ سویلینز کو ملبے سے نکال لیا۔ اس دوران ایک اور جھٹکا آیا۔ کچھ پہاڑی پتھر اور لڑھکے۔ایک رگھوبیر کے سر سے ٹکرایا اور اس وقت وہ جموں کے فوجی ہسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ پاکستان پہنچ کر اسی سے ملتی جلتی یہ خبر سننے کو ملی کہ لائن آف کنٹرول کے اس طرف کشمیر کے ہی ایک اور آفت زدہ ضلع باغ میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والا ایک پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا ہے۔اس میں سوار چھ فوجی جاں بحق ہو گئے۔ بی بی سی دِلّی بیورو میں کشمیر سے تازہ تازہ آئے ہوئے نامہ نگار سنجیو سری واستو نے بتایا کہ اوڑی میں اب تک جو رسد پہنچی ہے کچھ بااثر مقامی لوگوں نے اس پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی جس سے مصیبت زدگان خاصے طیش میں ہیں۔ اسی سے ملتی جلتی خبر پاکستان پہنچ کر پڑھی کہ ضلع باغ میں امدادی سامان کی لوٹ مار ہوئی ہے اور مظفر آباد میں فوج نے سات افراد کو تباہ شدہ گھروں سے قیمتی اشیا چراتے ہوئے پکڑ لیا۔ سنجیو نے بتایا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقے میں کئی رضاکار مسلسل اڑتالیس اڑتالیس گھنٹے کام کرنے کے باوجود آرام کرنے سے انکاری تھے۔ جبکہ پاکستان کے علاقے بالا کوٹ سے یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ کچھ ڈاکٹر مسلسل ڈھائی ڈھائی دن کام کرنے کے سبب بے ہوش ہوگئے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر ہو یا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ دونوں جگہ متاثرین کو خیموں کی فراہمی میں شدید دشواریوں اور قلت کا سامنا ہے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ مفتی محمد سعید نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے اس پار مواصلاتی رابطے ترجیحی بنیادوں پر بحال کئے جائیں تاکہ دونوں طرف کے بٹے ہوئے لوگ ایک دوسرے کی خبرگیری کر سکیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات نے مطالبہ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کو نرم کیا جائے تاکہ مصیبت زدگان کا بوجھ کچھ کم ہوسکے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب آئی ہوئی آفت کو دوسرا ہفتہ لگ چکا ہے لیکن دِلّی اور اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ ساز نہ تو صاف صاف ایک دوسرے کی مدد لینے سے انکاری ہیں اور نہ ہی کھل کر ایک دوسرے کی مدد کر پارہے ہیں۔ یہ کیسا زلزلہ ہے جس نے لائن آف کنٹرول کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دونوں جانب سب کچھ توڑ تاڑ کے رکھ دیا ہے مگر جھوٹی انا کو نہیں ہلا پایا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||