BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 October, 2005, 20:57 GMT 01:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالا کوٹ: ایک بڑی سی قبر

1831 میں سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی کی نسبت سے مشہور یہ شہر ہیرو شیما کا منظر پیش کر رہا ہے۔
میں پہلی مرتبہ 1987 اپنے ایک رشتے کے بھائی کے ساتھ بالاکوٹ گیا تھااور مقصد اپنی بستی کے ایک شخص کی قبر تلاش کرنا تھا جو سید احمد شہید کے رفقاء میں شامل تھے اور غالباً 1831میں سکھ جنرل شیرسنگھ سے لڑائی میں سید احمد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے تھے۔

وہ قبر مجھے نہیں ملی اور اس سلسلے میں جب میں نے بالا کوٹ کے لوگوں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ بالا کوٹ تاریخ میں جس اہم واقعے کے لئے مشہور ہے اس سے بالاکوٹ کے شہریوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔

پھر میں گزشتہ سال ناران جاتے ہوئے بالاکوٹ میں چائے پینے کے لئے رکا تو مجھے یہ شہر دریائے کنہار کے کنارے پر آباد ہونے کے باوجود کچھ بڑا گندا سا لگا اور میں چائے پئے بغیر ناران کی طرف روانہ ہوگیا۔

تیسری باری میں بالا کوٹ گزشتہ اتوار کو گیا اور یہ معلوم کرنے کے لئے گیا کے سنیچر کو آنے والے زلزلے کا اس شہر پر کیا اور کتنا اثر ہوا ہے۔

بالا کوٹ جانے والی سڑک پہاڑسے پتھر اور مٹی کے تودے گرنے سے بند ہوگئی تھی اس لئےمیں نے اس کا پل پیدل پار کیا اور دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔

یہ پل لکڑی کا بنا ہوا ہے اور رسوں اور موٹے موٹے تاروں کے ذریعے دریا کے آرپار گڑے ہوئے ستونوں سے لٹکا ہوا ہے۔ اس پر چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ چلنے کے بجائے جھول رہے ہیں اور کسی بھی وقت اس جھولے سے اچھل کر دریا میں جا رہیں گے۔

ابھی اس خوف سے میں نجات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک میت آتی دکھائی دی اور ابھی یہ میت قریب سے گزری نہیں تھی کہ پھر کچھ لوگ ایک چارپائی کے چاروں پائے پکڑے ہوئے نظر آئے اور پھر میتوں کا ایک تانتا بندھ گیا اورمجھے کچھ یوں محسوس ہونے لگا کہ میں پل سے گزر نہیں رہا ہوں بلکہ ساکت کھڑا ہوں اور یہ لاشیں میرے سامنے سے گزر رہی ہیں۔

دریا کے دوسرے کنارے کی سڑک پر ہم نے پھر بالا کوٹ کی جانب چلنا شروع کیا جو وہاں سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔

ابھی چلتے ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک زمین بوس عمارت نظر آئی کسی کالج کی تھی اور یوں لگتا تھا کہ اپنی دیواروں اور ستونوں پر بیٹھ گئی ہے۔

کسی نے بتایا کہ اس میں جتنے لڑکے تھے سب مر گئے ، کسی نے کہا وہ جو عمارت میں تھے مرگئے اور جو باہر میدان میں تھے وہ بچ گئے۔

کوئی ایسا اہلکار یا ذمہ دار نہیں ملا جو یہ بتاتا کہ کتنے طالب علم تھے اور کتنے مرگئے۔

یہ پاکستان کا المیہ ہے، لوگ یہاں تک کہ حکام بھی اعداد شمار کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ بہر حال جو بات قرین قیاس محسوس ہوئی وہ یہی تھی کہ جو عمارت میں تھے وہ مرگئے ہوں گے جو باہر تھے وہ بچ گئے ہوں گے۔

وہاں سے پھر بالا کوٹ کی جانب روانہ ہوا۔ دوسری جانب سے میتوں کے آنے کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ اور جب میں خواص کاٹھا نامی نالہ پار کرکے آگے بڑھا تو دریا کے دوسری جانب اچانک بالا کوٹ کا شہر نظر آیا جس کی عمارتیں اپنی بنیادوں پر کھڑی نہیں تھیں بلکہ بیٹھی اور لیٹی ہوئی نظر آئیں۔ بالکل جیسے ایٹم بم گرائے جانے کے بعد ہیرو شیما تصویروں میں نظر آتا ہے۔میں نے اپنے ساتھ چلنے والوں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ایک صاحب نے کہا ’جی ہاں کچھ نہیں بچا‘ اور رونے لگے اور پھر جیسے سب رونے لگے۔ میں نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ مجھ میں اب کسی سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔

ایک صاحب نے خود ہی بتایا کہ دو سکولوں کی عمارتیں بیٹھ گئیں، ایک میں چار سو بچے تھے ایک میں دو سو، میں نے اس کی تصدیق کے لئے پولیس اسٹیشن جانا چاہا معلوم ہوا دو پولیس اسٹیشن تھے دونوں کی عمارتیں گرگئیں،ڈی ایس پی صاحب زخمی ہوگئے ہیں، کچھ اہل کار تھانوں کی عمارتوں میں دب کر مرگئے اور کچھ فرار ہوگئے۔ میں نے نو منتخب تحصیل ناظم سید جنید قاسم سے ملنا چاہا معلوم ہوا وہ بھی مرگئے۔

میں دریا کنہار کے دوسرے کنارے پر بالا کوٹ کے سامنے کھڑا تھا ، مجھ میں مزید لاشوں، مزید زخمیوں اور بلکتے ہوئے بچوں اور بین کرتی ماؤں کو دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔

میں بالاکوٹ پہلی مرتبہ ایک قبر کی تلاش میں آیا تھا جو کوشش کے باوجود نہیں ملی تھی اور اب اچانک صرف ایک جھٹکے میں پورا شہر ایک قبر بن چکا تھا۔ میں قدرت کی فیاضی اور سخاوت کا قائل ہوگیا۔

66موت سے شروع۔۔۔
موت پر ختم: مظفرآباد سے عامر احمد خان کی رپورٹ
66زلزلہ اور عالمی میڈیا
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور پاکستان میں زلزلہ
66تصویروں میں
مظفرآباد میں زلزلے سے تباہی اور ہلاکتیں
66امدادی کارروائی
امدادی کارروائیاں ناکافی ہونے کی وجہ سے تشویش
66باغ سے ایک سِین
’خدا کیلیے میرے بچے نکال دو‘: ماں کی فریاد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد