اللہ، آرمی اور کشمیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا آپ نےشمالی پاکستان اور اسکے زیر انتظام کشمیر میں وسیع تر تباہی پھیلانے والے زلزلے کے بعد ملک کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے کشمیر کے زلزلے کے متاثر علاقوں کے مبینہ دورے کے دوران ایک سخت زخمی بچےکو اپنی کمر پر اٹھائے ایک باپ کی ساتھ تصویر دیکھی ہے؟ اگر نہیں دیکھی تو دیکھنے کی ذرا ہمت ضرور کیجئے گا۔ ایک اور تصویر میں تو وہ اپنے ایک ساتھی کی معیت میں ایک اور زخمی بچے کی روداد سنتے ہوئے ایسے مسکرارہے ہیں گویا وہ اس بچے سے کوئی ’فیری ٹیل‘ سن رہے ہوں۔ یہ بچے زلزلے کے متاثرہ پہاڑی علاقوں میں پھنسے ہوئے ان ایک لاکھ بیس ہزار بچوں میں شامل ہیں جن کےلیے اقوام متحدہ میں بچوں کی بھلائی کے ادارے ’یونیسیف‘ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ آگر آئندہ دو ہفتوں میں سردیاں شروع ہونے سےقبل زلزلے میں متاثرہ ان بچوں تک امداد نہ پہنچائی گئی تو ان میں سے دس ہزار سخت سردی، بھوک اور پھیلنے والی بیماریوں سے مر جائیں گے۔ سردیاں شروع ہونے سے پہلے ان بچوں کی امداد کے لیے دو ہفتےاور مل سکتے تھے اگر پاکستان کے باوردی بہادر صدرزلزلے کے نقصانات اور متاثر علاقوں اور متاثرین کی اصل صورتحال کے برعکس رزمیہ شاعری جیسے یہ بیان نہ داغ رہے ہوتے کہ ’حالات مکمل کنٹرول میں ہیں‘، ’تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے حکومت ہر گھڑی تیار کامران ہے بس کمی و قلت ہے تو ہیلی کاپٹروں کی‘، نیز ’ہم اس قدرتی آفت پر جلد قابو پالیں گے‘، ’مجھے یقین ہے کہ عالمی امداد پہنچنے کو ہے‘۔
کشمیری اور شمالی پاکستان کے پہاڑی لوگ اکڑی ہوئی کلفدار وردیاں اور بغیر سلوٹوں کے بیش قیمت سوٹ زیب تن کیے ہوے فوٹو جینک چہروں پر ایسے حشر کے سمے بھی خفیف مسکراہٹیں سجائے خوش شکل خوش لباس حکمرانوں اور ہم سب کو خبر ہونے سے بھی بہت پہلے خاک اور خون ہوچکےتھے۔ مجھے یہاں دونوں کشمیروں ( میں کس کو مقبوضہ یا آزاد کہوں) سے تعلق رکھنے والی سان ڈیاگوکی یاسمین ٹنڈیالا نے بتایا کہ مظفرآباد اور لائن آف کنٹرول کے پار اسکے بہت سے رشتہ دار اور جاننے والے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اس کا کہنا ہے ’میرے گاؤں میں تو اب وہ گلیاں بھی نہیں رہی جہاں میں کھیلا کرتی تھی‘۔ عالمی میڈیا پر دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے پھر سے ڈریسڈ ن، ڈافور، سونامی، نیویارک (گیارہ ستعبر دو ہزار ایک) اور نیو اورلینز میں مرتے، کسکتے، روتے ، بلکتے اور کھنڈروں میں سے چلتے نکلتے ہوئے لوگوں کی یاد دلاتے ڈوبتے ابھرتے رنگین اور بلیک اینڈ وہائٹ تصورات آ رہے تھے۔ مگراسلام آباد کے غالباً زلزلہ پروف ایوانوں اور گھروں میں محفل آراستہ صدر و وزراء اور وزیر اعظم کے کان پر جون بڑی دیر سے رینگتی ہے۔ غالب کے محبوب یا محبوبہ سے بھی زیادہ بلکہ تغافل مجرمانہ برتنے والے یہ پاکستان کے زورآور ارباب اقتدار پر شاید فارسی کی یہ سطر بھی صادق آتی ہے: ’زمین جنبد نہ جنبد گل محمد‘۔ ایسی حکومتوں کو سندھی زبان میں ’گلو گورنمنٹ‘ کہا گیا تھا۔ اب کے اکتوبرمیں زلزلہ اور پاکستان میں مشرف جنتا حکومت کی سالگرہ ایک دوسرے کے پیچھے آئے۔
کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ اس زلزلے کے ملبے تلے سب سے پہلے حکومت کی طرف سے بہت دنوں سے قائم ’نیشنل کرائسس مینیجمینٹ سنٹر‘ پہلے ہی جھٹکے میں دب چکاہے۔ مجھے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی دوست نے بتایا ہے کہ ایف ٹین کے مارگلہ ٹاور میں مبینہ طور ناقص تعمیری سامان کے استعمال اور اسکی ممکنہ مخدوش حالت کے متعلق خبریں شائع کرنے والے صحافیوں اور اخبارات کو قانونی نوٹس تو ملے لیکن مجاز افسران کو ایسی رپورٹوں کی تحقیق کرنے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔ اور اس سے بڑھ کر قیامت اور کیا ہوگی کہ کشمیر اور شمالی پاکستان میں زلزلے کے متاثریں تک پہنچنے میں تامل اور تغافل کا اعتراف کرتے ہوئے جنرل مشرف اور انکی حکومت نے اسے اس پیمانے پر تباہی سے نمٹنے کیلے وسائل کے نہ ہونے اور سڑکوں کے ٹوٹ جانے، موسم کی خرابی، اور انفرا اسٹرکچر کے تباہ ہوجانے کے عذر پیش کیے۔ کسی نے کہا ہے ’وہ سات منٹ میں وزیر اعظم ھاؤس اور ملکی اقتدارپر ر قبضہ کر سکتے ہیں لیکن زلزلے زدگان کی مدد کو بر وقت نہیں پہنچ پائے‘۔ رپورٹوں کے مطابق، کئی متاثرہ علاقوں میں جیش محمد والے پہنچے تھے لیکن جنرل مشرف انکی حکومت اور فوج نہیں پہنچ سکتی۔ کشمیر کے نام پر جنریلوں اور جہادیوں نے بہت کمایا ہوا ہے۔ ہیلی کاپٹر وادیوں اور گھاٹیوں میں موت کے منڈلاتے سایوں میں آسمان کی طرف امداد کےلیے اٹھتے سروں کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ مزید زخمی مرتے ہیں، ملبے تلے دبے ہوؤں کے زندہ ہونےکی امیدیں بھی ختم ہوجاتی ہے۔
اسی دن امریکہ کے اخبارات کی شہ سرخیاں تھیں: ’پاکستانی صدر نے ہیلی کاپٹر مانگے‘ اور یہ بھی کہ ’لوگ امداد کی طرف مایوسی سے تک رہے ہیں اور ملبہ اپنے ہاتوں سے ہٹا کر لاشیں نکال رہے ہیں۔‘ ہمالیہ ہمت ہار گیا لیکن کشمیر اور شمالی پاکستان کے پہاڑی لوگوں نے ہمت نہیں ہاری۔ امریکی ہیلی کاپٹر تین دن تک موسم کی خرابی کی وجہ سے افغانستان سے اڑکر نہیں آ سکے اور کسی نے یہاں تبصرہ کیا: ’اگر جنرل پرویز مشرف کی ’حساسیت‘ آڑے نہ آئی ہوتی تو ہندوستانی امداد سے متاثرین مزید متاثرنہ ہوتے۔‘ بین الاقوامی برادری بشمول عالمی امدادی ادارے زلزلے کے متاثرہ علاقوں، متاثرین اور انکےلیے امداد کی صورتحال کا مختلف نقشہ کھینچتے ہیں جس سے لگتا ہے کہ جنرل مشرف آئینے کا الٹا رخ دکھلاتے رہے ہیں۔ اور یہ جو جنرل پرویز مشرف ’عالمی امداد کی پاکستان پہنچنا ہی چاہتی ہے‘ کے مژدے سناتے رہے ہیں اسکا اصل کھاتہ ’کرانیکل آف فلینتھراپی‘ نے یوں کھینچا ہے: ’سات اعشاریہ چھ کی شدت کے زلزلے میں جس میں چالیس ہزار لوگ مرگئے ہونگے اور ایک لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے۔ اس میں متاثرین کےلیے بڑے امدادی گروپوں کی طرف سے ابتک کل تیرہ اعشاریہ ایک ملین ڈالر کی امداد جمع کی جا سکی ہے جو بحر ہند میں آنیوالی سونامی کےلیے جمع کی جانیوالی کل رقم ایک اعشاریہ تین بلین ڈالر اور یہاں ہریکین قطرینہ کےلیے جمع کی جانیوالی ایک اعشاریہ آٹھ بلین امداد کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔‘ جریدے نےایک عالمی امدادی تنظیم کی کیتھولک ریلیف سروس کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر یہ بحر ہند میں سونامی اور امریکہ میں قطرینہ سے پہلے آیا ہوتا تو وہ انیس سو اٹھانوے کے بعد وسطی امریکہ کو برباد کرکے رکھ دینے والے ہریکین ’مچ‘ سے لیکر آج تک کی سب سے بڑی تباہی پھیلاتا۔ لیکن اپنے ملک میں ایسی بڑی تباہی کو ماننے میں تامل کرنے والے جنرل پرویز مشرف کو آخر کار کہنا ہی پڑا کہ عالمی امداد ناکافی ہے اور یہ کہ مزید اموات کا خطرہ اور بڑھ جائے گا اگر کشمیر اور شمالی پاکستان میں تین ہفتے بعد سردیاں شروع ہونےسے پہلے امداد اور متاثرین کے بچاؤ میں امدادی کارروائیاں تیز نہ کی گئیں۔ کشمیر اور زلزلے سے متاثرہ دیگر علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ایک اور تنظیم ’مرسی کور‘ نے کہا ہے کہ ’جو لوگ زلزلے سے بچ نکلے وہ سردیوں میں مر جائیں گے اور ان اموات کا سب سے بڑا خطرہ بچوں، عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کو ہے۔‘ صدر پرویز مشرف شمالی سردیوں کے آنے کے تیں ہفتے بڑھا سکتے تھے اگر وہ تصویر کا صحیح رخ پیش کرتے اور زلزلے کے متاثریں کا علاج اپنے ’شیر مارکہ‘ بیانات کی گولی سے نہ کرتے۔ اگر مجھے ان مصیبت زدہ بچوں عورتوں اور مردوں کے آنسوؤں اور مسکراتے جنرل مشرف اور انکے ساتھی ’اعلی فوجی اور سول حکام‘ کی مسکراہٹوں بکھیرتی تصویروں کو تحریر دینے کا کہا جاتا تو میں اسے ’اللہ، آرمی اور کشمیر‘ کہتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||