BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 October, 2005, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپ کی صحافت


میں بالاکوٹ میں پانچ دن امدادی کام کرنے کے بعد واپس اوگی ضلع مانسہرہ آیا ہوں۔

ہم نے بالاکوٹ میں پائین پارک ہوٹل (جو کہ اب تباہ ہو چکا) کے پچھواڑے میں اس ماہ کی تیرہ تاریخ کوایک امدادی کیمپ قائم کیا تھا۔

ہم اس کیمپ سے مختلف علاقوں میں ٹیمیں بھیجتے ہیں۔ یہ ٹیمیں متاثرین کے نقصانات کا جائزہ لے کر لوگوں کو خیمے، خوراک اور کمبل وصول کرنے کے لیے رسیدیں دیتے ہیں۔ متاثرین یہ رسیدیں لے کر ہمارے امدادی مرکز پر آتے ہیں جہاں سے انہیں ان کی ضرورت کا سامان مہیا کیا جاتا ہے۔

شروع کے دنوں میں متاثرین کی پوری کوشش رہی ہے کہ وہ ملبے کے نیچے سے مرنے والوں کی لاشوں کے علاوہ اپنا بچھا کچھا سامان نکالیں۔ یوں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ متاثرین نے امداد کے لیے اس وقت تک ہاتھ نہیں پھیلائے جب تک انہیں یقین نہیں ہو گیا کہ اب ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔

اس کے بعد ان لوگوں نے بالاکوٹ میں ہمارے کیمپ آنا شروع کر دیا اور وہ اشیاء وصول کرنا شروع کر دیں جو انہیں ملبے سے نہیں ملیں مگر انہیں ضرورت تھیں۔

اب بالاکوٹ سے اوگی کی جانب پچیس کلومیٹر کی سڑک کھول دی گئی ہے۔ گھنگول نامی گاؤں تک فوج، الرشید ٹرسٹ، الخدمت گروپ اور الرحمت ٹرسٹ نے اپنے مراکز قائم کر دیے ہیں۔ فوج اپنے ہیلی کاپٹروں اور خچروں کی مدد سے امدادی سامان پہنچا رہی ہے اور امداد میں بہتری آ گئی ہے۔

یہ بہتری اپنی جگہ لیکن اس علاقے تک مکمل رسائی اور امداد پہنچانے کے انتظامات مکمل ہونے میں ابھی مزید آٹھ دس دن لگیں گے۔

اب تک ہم مختلف تنظیموں کو ایک سو خیمے، آٹے کے ایک سو توڑے، ایک سو کمبل، چینی اور ضرورت کی دوسری اشیاء دے چکے ہیں۔ لیکن ہمیں خطرہ ہے کہ اگر دوبارہ شدید بارش ہوتی ہے تو بالاکوٹ کے ارد گرد دیہاتوں کو جانے والے راستے پھر بند ہو جائیں گے۔

ہمیں دوسرا خطرہ یہ بھی ہے کہ بارش کی صورت میں بالاکوٹ کے امدادی کیمپ میں آیا ہوا سامان بھی ضائع ہو سکتا ہے۔

میرے خیال میں اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم جلد از جلد امدادی سامان کسی ایسے مقام تک پہنچا دیں کہ اگر راستے بند بھی ہو جائیں تو ارد گرد کے دیہاتوں والے اس مقام تک آ کر امداد لے جا سکیں۔

میں پرسوں واپس گھنگول جاؤں گا۔

66آپ سنا سکتے ہیں۔۔
۔۔۔وہ کہانیاں جنہیں ابھی لوگوں تک پہنچنا ہے
66’ابو جلدی آجائیں‘
’اب توگھر فون کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے‘
66بچوں کی آوازیں۔۔۔
’وہ کچھ کام کے لئے گئے تھے ملبے میں دب گئے۔‘
66’چھت واپس دیں‘
’گھر میں جنازے تھے، آرمی والے چھت لے گئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد